واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


بلوچستان کے متعدد علاقوں میںروز گزرنے کے باوجود حکومتی سطح پر امدادی سرگرمیاں شروع نہ ہوسکیں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-11-08, 09:39 AM   #1
بلوچستان کے متعدد علاقوں میںروز گزرنے کے باوجود حکومتی سطح پر امدادی سرگرمیاں شروع نہ ہوسکیں
ابن جلال ابن جلال آف لائن ہے 08-11-08, 09:39 AM


بلوچستان کے متعدد علاقوں میںروز گزرنے کے باوجود حکومتی سطح پر امدادی سرگرمیاں شروع نہ ہوسکیں
متاثرہ علاقوں کا سروے کرنے اور نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے ٹیموں کی تعداد 10سے بڑھا کر4کردی گئی ہے،امدادی سامان بٹورنے کے لیے بڑی تعداد میں غیر مقامی افراد زیارت پہنچنا شروع ہوگئے، متاثر ہ علاقوں میں زلزلوں کے جھٹکوں اور مسلسل آفٹر شاکس کے باعث لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، صدمے اور خوف کے باعث لوگ نفسیاتی اور ذہنی مریض بن گئے ، متاثرہ علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافے کے بعد لوگوں نے گرم اور میدانی علاقوں کی طرف نقل مکانی شروع کردی جبکہ کوئٹہ میں ایک ہفتے کے بعد تعلیمی اداے دوبارہ کھل گئے
میڈیا میں تنقید کے بعد وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے متاثر علاقوں کا دورہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے

کوئٹہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔بلوچستان کے متعدد علاقوں میںروز گزرنے کے باوجود حکومتی سطح پر امدادی سرگرمیاں شروع نہ ہوسکیںجبکہ میڈیا میں تنقید کے بعد وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے متاثر علاقوں کا دورہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ،ادھر متاثرہ علاقوں کا سروے کرنے اور نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے ٹیموں کی تعداد 10سے بڑھا کر4کردی گئی ہے،امدادی سامان بٹورنے کے لیے بڑی تعداد میں غیر مقامی افراد زیارت پہنچنا شروع ہوگئے، متاثر ہ علاقوں میں زلزلوں کے جھٹکوں اور مسلسل آفٹر شاکس کے باعث لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، صدمے اور خوف کے باعث لوگ نفسیاتی اور ذہنی مریض بن گئے ، متاثرہ علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافے کے بعد لوگوں نے گرم اور میدانی علاقوں کی طرف نقل مکانی شروع کردی جبکہ کوئٹہ میں ایک ہفتے کے بعد تعلیمی اداے دوبارہ کھل گئے ۔تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں زلزلے سے زیادہ تر متاثرہ علاقو ں میں حکومت کی جانب سے امدادی کام جاری ہیں مگر بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں ابھی تک فوج اور فرنٹئر کورکے ساتھ ساتھ کسی بھی سرکاری ادارے کے اہلکارنہیں پہنچ سکے ہیں ان علاقوں میں درہ زرغون کاعلاقہ تورشور،کلی ونہ اور شابان بھی شامل ہیں جودارالحکومت کوئٹہ سے شمال میں0کلومیٹر کے فاصلے پر ہونے کے باوجود ابھی تک حکومت کے نظروں سے بوجھل ہے یہاں انتیس اکتوبر کوآنے والے زلزلے سے ڈیڑھ سوسے زیادہ مکانات منہدم ہوچکے ہیں جبکہ اس سے کئی زیادہ مکانات کریک پڑنے کی وجہ سے رہنے کے قابل نہیں رہے ہیں جسکے نتیجے میں سینکڑوںکی تعدادمیں لوگ شدید سردی میں کھلے آسمان تلے راتیں گذارنے پر مجبورہیں۔ ذرائع کے مطابق دس ہزار سے زیادہ لوگ ابھی تک خیموں گرم کپڑوں اٹا اور دیگر ضرورت کے چیزوں کیلئے منتظر ہیں ۔تور شور کے قبائلی شخص ابراہیم نے کہا کہ ابھی تک اس علاقے سے منتخب ہونے والے صوبائی وزیر سلطان ترین ضلع ناظم اور نہ ہی حکومت کے کسی اور نمائندے نے یہاں کادورہ کیا ہے ان کے مطابق ان لوگوں کوفوری طور پرپانچ سو خیموں کی ضرورت ہے ۔ایک زمیندار غلام سرور نے بتایا ہے کہ زلزلے کے بعدبچے خوف کی وجہ سے پاگل پن کا شکارہوچکے ہیں ہرنائی اور زیارت سے تورشور کوملانے والی سڑک پر پہاڑی تودے گرنے سے بند ہیں اور تور شور کازمینی راستہ کٹ چکاہے جسکی وجہ سے علاقے میں خوراک کی قلت پیداہوگئی ہے ۔0روز گزرنے کے باجود حکومت کی جانب سے کسی قسم کی امدادی سرگرمیاں شرو ع نہیں کی گئی ہیںتاہم پشتونخواملی عوامی پارٹی کے رہنماء قادر آغانے بتایا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین (یواین ایچ سی آر) ترقی فاونڈیشن اور ریلیف پاکستان کی مدد سے اس علاقے میں ڈیرھ سوخمیے دوسو گرم کمبل اور دو ٹر ک دوسراسامان متاثرین میں تقسیم کیا ہے ۔اس موقع پر کوئٹہ میں یواین ایچ سی آر کی ترجمان متحرمہ دنیا اسلم خان نے بتایاکہ یواین ایچ سی آر زرغون کے متاثرہ علاقوں کے لیے مزید ضروری سامان روانہ کرے گی انکے مطابق اس وقت خواتین اور بچوں کوبیماریوں سے بچانے کے لیے ادویات کی ضرورت ہے ۔امدادی کام میں مصروف ریلیف پاکستان کے نمائندے محمدعلی نے بتایا کہ این جی اوز نے اپنی مد د آپ کے تحت انکی مدد کی ہے لیکن حکومت کوبھی فوری طور پراس علاقے میں امدادی کام کا آغازکرناچاہییے ۔درہ زرغون کے دامن میں واقع تورشور ،کلی ونہ اور شابان میں کاکڑقوم سے تعلق رکھنے والا دومڑ قبیلہ آباد ہے لیکن ابھی تک حکومت کی جانب سے بجلی گیس ،ٹیلی فون اور سڑک کی کوئی سہولت نہیں ہے جس کے باعث کوئٹہ سے صرف ساٹھ کلومیڑ پر ہونے کے باوجود توشورتک پہنچنے کے لیے تین سے چارگھنٹے لگ جاتے ہیں ۔ضلع ہرنائی میں شامل یہ علاقہ سردیوں میں برفباری کے بعد تین مہینوں کے لیے پورے ملک سے کٹ جاتاہے اس وجہ سے یہاں کے لوگوں کی خواہش ہے کہ بارشیں شروع ہونے سے قبل انھیں خمیے اور خوراک فراہم کی جائے تاکہ اس کوتیں مہینوں کے لیے زخیرہ کرسکے ۔صنوبرکے جنگلات کے حوالے سے مشہور زیارت کے بعدصنوبر کے دوسر ے بڑے جنگلات درہ زرغون میں واقع ہیں جوہزاروں سال پرانے ہیں کیونکہ اس جنگلی درخت کی خصوصیت یہ ہے کہ پانچ سال میں یہ درخت صرف ایک انچ بڑتی ہے لیکن حکومت کی جانب سے گیس کی عدم فراہمی کے باعث یہاں کے مقامی لوگ ان قیمتی درختوں کوسردیوں میں جلانے کیلئے کاٹنے پر مجبور ہیں ۔ حالانکہ شابان ایک تفریح مقام ہونے کے باعث وفاقی سیکرٹریوں،اعلیٰ حکام اور فوجیوں نے اپنے لیے تو یہاں پلاٹ بھی الاٹ کیے ہیں لیکن یہاں لوگ پکے سڑک اور ٹیلی فون سے محروم رکھا ہے زرغون میں رہنے والے زیادہ تر لوگوں کی معاش زراعت اورمال میویشی سے وابستہ ہے لیکن صحت کے حوالے سے یہاں صرف ایک بی ایچ یوہے جہاں کوئی ڈاکٹر نہیں ہے ہے یہی صورتحال پرائمری سکول کی بھی ہے جہاں لوگوں کے مطابق اس سکول میں ٹیچرنہیں آتاہے جبکہ بچیوں کے لیے کوئی سکول نہیں ہے ۔دریں اثناء زلزلہ زدگان کے لیے آنے والی امداد کو بٹورنے کے لیے غیر مقامی افراد کی بڑی تعداد زیارت اور دیگر متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے ہیں ذرائع کے مطابق غیر مقامی افراد کی ایک بڑی تعداد زیارت کے زلزلہ سے متاثرہ علاقوںوام، کواس، کچ، ورچون اور دیگر علاقوں میں خود کو زلزلے سے متاثرظاہر کرکے امداد بٹور رہے ہیں اور بعد میں کوئٹہ اور دیگر علاقوں کے بازاروں میں لے جاکر فروخت کررہے ہیں ۔ ادھرزلزلے سے متاثرہ علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافے کے بعد لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے ، محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں آئندہ چند دنوں میں سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق زیارت اور مضافات کے متاثرہ علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگوں نے نسبتاً گرم اور محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی شروع کردی ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ متاثرین کوئٹہ، سنجاوی ،لورلائی، دکی ،ہرنائی اور سبی کی طرف منتقل ہورہے ہیں۔صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او کے ذرائع نے بتایا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں نمونیا اور دوسرے متعدی امراض سے بچاؤ کی مہم بھی شروع کی گئی ہے۔جبکہ زلزلے سے متاثر علاقوں میں ذہنی اور نفیساتی امراض میں مبتلا لوگوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے ۔زلزلہ پیما دفتر کے مطابق 29اکتوبر کے زلزلے کے بعد سے اب تک 3000آفٹر شاکس آئے ہیں جن میں 300سے زائد ایسے تھے جن کی شدت 4.5سے زیادہ تھی۔زلزلے کے خوف کے باعث اکثر لوگ ذہنی امراض میں بھی مبتلا ہوگئے ہیں ۔ادھر بلوچستان مےں زلزلہ سے متاثرہ علاقوں مےں نقصانات کا تخمےنہ لگانے کی غرض سے سروے کا کام جاری ہے۔ ڈی سی او زیارت سہیل الرحمن کے مطابق اب تک 25گاٶں کا سروے مکمل کےا جاچکا ہے۔ جبکہ بقےہ علاقوںمےں بھی سروے جلد مکمل کرنے کے لیے سروے کرنے والی ٹیموں کی تعداد0سے بڑھا کر4کردی گئی ہے ۔دریںا ثناء کوئٹہ میں تعلیمی ادارے ایک ہفتے کے بعد جمعہ کے روز کھل گئے ہیں ۔9اکتوبرکے زلزلے کے باعث متعدد سکولوں کی عمارتیں ہوگئی ہیں ۔ محکمہ تعلیم کے ذرائع کے مطابق حالیہ زلزلے سے کوئٹہ کے پچیس فیصد اسکولوں کی عمارتیں قابل استعمال نہیں رہیں جبکہ زیارت کے زلزلہ زدہ علاقوں کے 254سرکاری اسکولوں میں سے 250اسکول تباہ ہو ئے ہیں۔جمعہ کے روز کوئٹہ کے تعلیمی اداروں میں طلباء کی حاضری معمول سے کم رہی جبکہ بچوں کو کلاسوں کی بجائے میدان میں بٹھایا گیا۔ ادھر وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے یہ فیصلہ ذرائع ابلاغ میں کئی دنوں کی تنقید کے بعد کیا ہے ۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ذرائع ابلاغ میں تنقید کے بعد وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بلوچستان کے زلزلہ زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کا اعلان کردیا ہے لیکن وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان کے مطابق ابھی اس اعلان کو عملی جامہ پہنانے میں مزید کئی روز لگیں گے۔ بعض ناقدین وزیراعظم اور صدر مملکت کو بلوچستان جا کر زلزلہ سے متاثرہ لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ان سیاسی ناقدین کا کہنا ہے کہ بلوچستان پر نازل ہونے والی اس آفت کے بعد سے صدر اور وزیراعظم نے امدادی رقوم کے اعلان کے علاوہ کچھ خاص عملی اقدامات نہیں کیے۔ بعض بلوچ راہنماؤں کی جانب سے زلزلہ زدہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے لیے اٹرنیشنل اپیل نہ کیے جانے کو بھی وفاقی حکومت کا بلوچستان کے ساتھ امتیازی سلوک قرار دیا جاتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭







نوٹ ۔ یہ خبر کل 07 نومبر کی ہے





ضلع ہرنائی کا زلزلے سے متاثرہ علاقہ تور شور، جہاں‌ابھی تک سرکاری امداد نہیں‌پہنچ سکی

Attached Thumbnails
eq-151.jpg   eq-176.jpg   eq-211.jpg   eq-214.jpg  


Last edited by ابن جلال; 08-11-08 at 09:42 AM..

 
ابن جلال's Avatar
ابن جلال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 220
Reply With Quote
پرانا 12-11-08, 08:37 AM   #2
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,660
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: بلوچستان کے متعدد علاقوں میںروز گزرنے کے باوجود حکومتی سطح پر امدادی سرگرمیاں شروع نہ ہوسکیں

زین بہت خوب اور معذرت، یہ خبر میری نظر سے نہیں گزری تھی۔توجہ دلانے کا شکریہ
کیا ان علاقوں کا خود دورہ کیا ہے؟
میری اطلاع کے مطابق تور شور وہ علاقہ ہے جو سب سے زیادہ نظر انداز ہو رہا ہے۔
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا گیا
ابن جلال (12-11-08)
پرانا 12-11-08, 01:51 PM   #3
Senior Member
 
ابن جلال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,080
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: بلوچستان کے متعدد علاقوں میںروز گزرنے کے باوجود حکومتی سطح پر امدادی سرگرمیاں شروع نہ ہوسکیں

اقتباس:
زین بہت خوب اور معذرت، یہ خبر میری نظر سے نہیں گزری تھی۔توجہ دلانے کا شکریہ
کیا ان علاقوں کا خود دورہ کیا ہے؟
میری اطلاع کے مطابق تور شور وہ علاقہ ہے جو سب سے زیادہ نظر انداز ہو رہا ہے۔
نہیں ، مجھے تو ٹائم ہی نہیں ملا۔
ہمارے ساتھ ہی بی بی سی کے نمائندے کا آفس ہے وہ چند روز قبل وہاں گئے تھے جبکہ سماء ٹی وی کی ٹیم بھی گئی تھی میں‌نے ان سے تفصیلات لی تھیں۔

یہ خبر ایکسپریس میں لیڈ اور ان میں‌سے ایک تصویر ٹائٹل لگی تھی جس کے بعد ہی وہاں امدادی کارروائیاں شروع ہوئیں۔
میں نے چند روز قبل بھی آپ کو اس علاقے کے بارے میں بتایا تھا
ابن جلال آف لائن ہے   Reply With Quote
ابن جلال کا شکریہ ادا کیا گیا
ام طلحہ (12-11-08)
پرانا 12-11-08, 01:59 PM   #4
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,660
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: بلوچستان کے متعدد علاقوں میںروز گزرنے کے باوجود حکومتی سطح پر امدادی سرگرمیاں شروع نہ ہوسکیں

بالکل۔ کچھ اور ذرائع سے بھی پتہ چلا تھا۔
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا گیا
ابن جلال (12-11-08)
پرانا 12-11-08, 02:19 PM   #5
Senior Member
 
ابن جلال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,080
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: بلوچستان کے متعدد علاقوں میںروز گزرنے کے باوجود حکومتی سطح پر امدادی سرگرمیاں شروع نہ ہوسکیں

اقتباس:
بالکل۔ کچھ اور ذرائع سے بھی پتہ چلا تھا۔
اچھا۔ اب بھی میرے خیال سے چھوٹے چھوٹے ایسے گائوں‌ہیں ہیں جہاں صحیح امداد نہیں پہنچ سکی ہیں
ابن جلال آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 12-11-08, 02:22 PM   #6
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,660
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: بلوچستان کے متعدد علاقوں میںروز گزرنے کے باوجود حکومتی سطح پر امدادی سرگرمیاں شروع نہ ہوسکیں

اللہ ان پر رحم کرے
اپنے دائرے میں رہ کر جو ہم سے ہو سکا وہ تو ہم نے کیا ہے آگے اللہ بہتر کرے
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا گیا
ابن جلال (12-11-08)
پرانا 12-11-08, 02:28 PM   #7
Senior Member
 
ابن جلال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,080
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: بلوچستان کے متعدد علاقوں میںروز گزرنے کے باوجود حکومتی سطح پر امدادی سرگرمیاں شروع نہ ہوسکیں

اقتباس:
اللہ ان پر رحم کرے
اپنے دائرے میں رہ کر جو ہم سے ہو سکا وہ تو ہم نے کیا ہے آگے اللہ بہتر کرے
آمین۔
جان کر خوشی ہوئی

اللہ پاک آپ کو اور ہمیں‌ متاثرین کی مدد کرنے کی مزید توفیق دے۔
ابن جلال آف لائن ہے   Reply With Quote
ابن جلال کا شکریہ ادا کیا گیا
ام طلحہ (12-11-08)
پرانا 12-11-08, 02:36 PM   #8
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,660
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: بلوچستان کے متعدد علاقوں میںروز گزرنے کے باوجود حکومتی سطح پر امدادی سرگرمیاں شروع نہ ہوسکیں

آمین------------------------
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا گیا
ابن جلال (12-11-08)
جواب

Tags
فروخت, کوئٹہ, پاکستان, پاگل, وزیراعظم, نظر, مکمل, موقع, منتقل, اقوام متحدہ, بچوں, تصویر, جلد, خواتین, خان, خبر, راستہ, زلزلہ, سال, شخص, صوبائی, صورتحال, صحت, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
چین میںدھاتی تاروں سے بنائے گئے دنیا کے سب سے بڑے کیبل پل کا باضابطہ افتتاح وجدان خبریں 1 13-10-10 05:18 PM
کراچی میں خانہ جنگی شروع ہوسکتی ہے، خفیہ اداروں کی رپورٹ گلاب خان خبریں 5 22-08-10 04:23 PM
پاکستان میں گرمی، اہم رہنما لندن کے موسم سے لطف اندوز ہو رہے ہیں گلاب خان خبریں 3 14-07-10 04:27 PM
پیمراآرڈیننس کی پابندی کرنے پرباقی 2چینل کی نشریات کل شروع ہوسکتی ہیں،نثارمیمن خرم شہزاد خرم خبریں 0 21-11-07 08:28 AM
بینظیر تعاون نہ کریں تو موجودہ حکومت ختم ہوسکتی ہے،نواز شریف عبدالقدوس خبریں 0 08-11-07 03:24 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:57 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger