|
بکنے کا الزام غلط ہے، ایک شخص نے سامنے بیٹھ کر جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیں :ذوالقرنین

11-11-10, 05:23 PM
10 نومبر 2010 36 : 14
لندن ( مانیٹرنگ ڈیسک) ذوالقرنین حیدر نے کہا ہے کہ بکیوں نے پیسے لینے کے جھوٹے الزامات لگائے اور ایک شخص نے سامنے بیٹھ کر اُنہیں جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیں جس کی وجہ سے وہ شدید نفسیاتی دباﺅ کا شکار ہو گئے اسلئے وہ لندن چلے گئے۔ اُن کا کہنا تھاکہ اُنہیں اپنے ملک کیلئے جو بہتر لگا وہ اُنہوں نے کیا۔لندن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستانی وکٹ کیپر ذوالقرنین حیدر نے کہا کہ کسی ساتھی کھلاڑی کے متعلق کوئی بات نہیں کہنا چاہتا اور اُنہیں کسی کھلاڑی کے ملوث ہونے کا کوئی علم نہیں۔ذوالقرنین حیدر کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے کسی سے پیسے نہیں لئے۔اُنہوں نے استدعا کی کہ میچ فکسنگ کرنے والوں پر تاحیات پابند ی لگنی چاہئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن سے اُن کی ملاقات ہوئی اور واجد نے اُن کا معاملہ ہمدددانہ طور پر اُٹھانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ یاد رہے کہ دبئی میں میچ چھوڑ کر پراسرار طور پر لندن فرار ہونے والے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر ذوالقرنین کے بارے میں میڈیا نے انکشاف کیا گیا تھا کہ اُس نے بھارت بکیوں سے بھاری رقم لیکر یہ ڈراما رچایا ہے۔ اے آر وائی نیوز کے ذرائع کے مطابق پاکستانی وکٹ کیپرذوالقرنین حیدرکوٹیم چھوڑنے کیلئے ساڑھے تین کروڑ روپے ادا کئے گئے۔اے آر وائے کے ذرائع کاکہناہے کہ پاکستانی وکٹ کیپر کو رقم بھارت کے دو سٹے بازوں کی جانب سے اداکی گئی۔ اِس سلسلے میں سٹے بازذوالقرنین حیدر سے ون ڈے سیریز کے دوران رابطے میں رہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی رقم کے بعد ہی ذوالقرنین نے اپنے انٹرنیشنل کیریئر کو دائو پر لگانے کا فیصلہ کیا۔ ذوالقرین حیدر نے بھارتی بکیوں سے بھاری رقم لیکے کی تردید کی ہے اور کہا کہ اُس پر الزام لگانے والے اِس سازش کے پیچھے ہوسکتے ہیں ۔اُنہوں سابق کپتان عمران خان کے تحفظات پر بھی تنقید کی اور کہا عمران کے دور کی کرکٹ اور آج کی کرکٹ میں بہت فرق ہے۔ ذو القر نین حیدر نے کہا کہ اُنہوں نے جو کچھ کیا ہے وہ پاکستا ن کے مفا د میں کیا۔ اُنہوں نے کہاکہ جب دبئی سے لندن جانے کا فیصلہ کیا تو اس وقت یہ بات کسی کو نہ بتانے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ پوری ٹیم منیجمنٹ وہا ں موجو د تھی اور اگر یہ بات پولیس تک پہنچتی تو دوسرے مسئلے میں پڑ سکتے تھے ۔اُن کا کہنا تھا کہ اُن کے سا رے خاندان کی جان کو خطرہ ہے جس کی وجہ سے وہ نفسیا تی دباﺅ میں ہیں۔ذوالقرنین نے کہا کہ برطانیہ میں اُن کی نقل وحمل محدود کر دی گئی ہے اور کا لزریکا رڈ کی جارہی ہیں۔اُنکا کہنا تھا کہ جو بکیوں الزام لگا رہے ہیں اُنہوں نے ہی دھمکیا ں بھی دیں تھیں۔ ذوالقرنین حیدر نے مزید کہاکہ اُن کا ضمیر مطمئن ہے کچھ دنوں بعد حقیقت سب کے سامنے آجا ئے گی ۔ اُن کا کہنا تھا کہ عمران خا ن نے بیا ن دیا ، ’مجھے کسی قسم کی دھمکی نہیں ملی تو پھر یہ بکیوں والی بات کہا ں سے نکل آئی ‘،اِس کا مطلب ہے کہ دال میں کچھ کا لا ہے۔پریس کانفرنس میں ذو القر نین حیدر کا کہنا تھا ۔ ’مجھے پاکستا ن کے لیے جو بہتر لگا وہ میں نے کیا‘۔لندن میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہاکہ دھمکیاں دینے والے شخص سے آمنے سامنے با ت ہوئی تھی اورایک شخص نے سا منے بیٹھ کر دھمکیاں دی تھیں۔انہوں نے کہا کہ وہ کسی سا تھی کھلا ڑی کے خلا ف کو ئی با ت نہیں کر نا چا ہتے۔ان کاکہنا تھا کہ انہوں نے دھمکیوں کے با وجو د بہتر کارکر دگی دکھا ئی۔انہوں نے انکشا ف کیا کہ جب وہ لا ہور ٹیم کے کپتا ن تھے تب بھی ان پر میچ فکسنگ کے لیے دبا ﺅ ڈا لا جا تا تھا۔دوسری جانب پاکستا ن کر کٹ بو رڈ نے ذو القر نین حیدر کا کی ما ہا نہ تنخواہ رو ک دی اور حقا ئق جاننے کے لیے تین رکنی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ذو القر نین حید ر پیر کی صبح دبئی سے پاکستا ن کر کٹ ٹیم کے ہوٹل سے غا ئب ہوکر انگلینڈ پہنچ گئے تھے جہا ں انہوں نے پناہ کے لیے درخواست بھی دے دی ہے۔پی سی بی کے اعلا میے کے مطا بق ذوالقر نین حید ر نے قو اعد و ضو ابط کی خلاف ورزی کی ہے جس پر اُن کی ما ہوار تنخو اہ معطل کر دی گئی ہے۔کر کٹ بو ر ڈ ان کو پچا س ہز ار ما ہانہ دے رہا تھا۔پی سی بی نے ذو القر نین کے خفیہ اندا ز میں ہوٹل سے غا ئب ہونے والے واقعے کے حقا ئق جاننے کے لیے تین رکنی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے جس میں سنیئر جنر ل منیجر سبحا ن احمد ،قومی کر کٹ ٹیم کے منیجر انتخا ب عالم اور سیکیورٹی منیجر خواجہ نجم شامل ہیں۔بور ڈ کا کہنا ہے کہ ذو القر نین سے تمام تر رابطوں کی کوشش نا کا م رہی جبکہ ذرائع کے مطا بق سیکیورٹی منیجر نجم کا ذو القرنین حیدر کے اہل خا نہ اور ذو القر نین حیدر سے رابطہ ہو چکا ہے۔ذوالقرنین نے برطانیہ میں پاکستانی کمشنر واجد شمس الحسن سے ملاقات میں اپنے درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ لندن میں واجد شمس الحسن سے ذوالقرنین حیدر کی ملاقات ایک گھنٹے سے زائد وقت جاری رہی جس میں واجد شمس الحسن نے انہیں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
__________________
جاویداسد
|
جاویداسد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
شکریہ: 2,418
1,903 مراسلہ میں 5,667 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|