|
بھارتی پارلیمنٹ میں لٹیرے ’ننگے‘ ہو گئے

10-11-10, 09:22 PM
10 نومبر 2010 35 : 20
نئی دہلی(نیٹ نیوز)کامن ویلتھ گیمز کے حوالے سے مالی بدعنوانی کے الزامات کے تحت بھارتی حکمران اور اپوزیشن کی سیاسی قیادتوں نے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا شروع کر دیا اور پارلیمنٹ میں شدید ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں عام کارروائی رکی رہی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر مری منو ہرجوشی نے بدھ کے روز الزام لگایا کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ کا دفتر بھی بدعنوانی میں شامل ہے اور کامن ویلتھ گیمز ، ادرش ہاﺅسنگ سوسائٹی کے ساتھ ساتھ اس دفتر سے وابستہ لوگوں نے ٹو جی سپیکٹرم ایلوکیشن میں بھی مالی بدعنوانی کی ہے۔ جوشی نے کہا تمام وزارتوں کی تحقیقات ہونی چاہئے جس کے لئے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ان معاملات کی تحقیقات نہیں کرواناچاہتی اس لئے ہم نے پارلیمنٹ کی کارروائی روک دی ہے۔ ان الزامات کے جواب میں حکمران جماعت کانگرس نے جوابی الزام لگایا کہ ادرش سوسائٹی ہاﺅسنگ کمپلیکس کارگل کی جنگ سے وابستہ فوجیوں اور ان کے لواحقین کے لئے بنایا گیا تھا مگر بی جے پی کے صدر نیتن گدکری کے ایک بہت قریبی شخص نے اس کمپلیکس میں فلیٹ لیا ہوا ہے ۔ اس سلسلے میں کہا گیا ہے سریش پربھو بی ماہانہ تنخواہ آٹھ ہزار چھ سو روپے ہے مگر اس نے ساٹھ لاکھ کافلیٹ خریدا ہے ۔ کانگرس کے ترجمان شکیل احمد نے کہا کہ سریش پربھو بی جے پی کے صدر نیتن گدکری کا کارندہ ہے۔
__________________
جاویداسد
|
جاویداسد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
شکریہ: 2,418
1,903 مراسلہ میں 5,667 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|