|
بھارت مزید دس ڈیم بنانے کا منصوبہ بنا رہا ہے،جماعت علی

11-10-08, 02:50 PM
بھارت مزید دس ڈیم بنانے کا منصوبہ بنا رہا ہے،جماعت علی
اے آر وائی ٹی وی رپورٹ
اسلام آباد: پاکستان کے انڈس کمشنر جماعت علی شاہ نے خبردار کیا ہے کہ بگلیہار کے بعد بھارت مزید دس ڈیم بنانے کا منصوبہ بنا رہا ہے جس سے مستقبل میں پاکستان کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ون ورلڈ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بگلیہار سمیت پانی کے دیگر تنازعات پر اٴٹھارہ اکتوبر سے دہلی میں اہم مذاکرات شروع ہونگے جس میں سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی سے ہونے والے نقصان کے ازالے کی بھی بات ہوگی۔
دریائے چناب پر بگلیہار ڈیم کی تعمیر سے پاکستانی معیشت کو سالانہ ایک کھرب سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔یہ دنیا کا چوتھا بڑا ڈیم ہوگا۔ اس دریا پر قائم کئے گئے مرالہ ہیڈ ورکس اور ہیڈ سلمانکی سے کل 21بڑی نہریں نکلتی ہیں جن سے آگے مزید 1150 راجباہیں اور ایک لاکھ چھ ہزار کھالے کل 70لاکھ ایکڑ علاقہ کو سیراب کرتے ہیں۔
دریائے چناب کا پانی تین ماہ سے مسلسل بند ہے جس سے 35 لاکھ ایکڑ رقبہ پوری طرح بنجر ہوگیا ہے اور اس رقبہ پر کھڑی فصلیں بھی تباہ ہوچکی ہیں جبکہ بقیہ35 لاکھ ایکڑ رقبہ بھی رفتہ رفتہ تباہی سے دوچار ہے۔ ورلڈ واٹر کونسل کے کوآرڈینیٹر زیڈ ایچ ڈاہری سے اس سلسلے میں جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ بھارت بہت ہوشیاری سے پاکستان کے آبی وسائل پر قبضہ کررہا ہے جبکہ حکمران خاموشی سے تماشا دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت بھارت دریائے چناب کا تقریباً سو فیصد‘ دریائے جہلم کا 70 فیصد‘ دریائے سندھ کا 65 فیصد پانی استعمال کررہا ہے۔ ورلڈ واٹر اسمبی کے کوآرڈینیٹر نے بتایا کہ بھارت بہت سرعت کے ساتھ سندھ کے پانی پر قبضہ کی تیاریاں بھی کررہا ہے۔ کارگل ڈیم کا ہوم ورک جاری ہے۔ انہوں نے مزید انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت دریائے سندھ پر کارگل کے علاوہ 14 ڈیم بنا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت دریائے چناب اور جہلم پر کل 48 چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کررہا ہے۔ 2014ء تک یہ ڈیم عملاً بھارت کے کنٹرول میں چلے جائیں گے۔ واضح رہے کہ جمعہ کے روز بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے پاکستان کے تمام اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے بگلیہار ڈیم کا افتتاح کیا تھا۔
|
ابن جلال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|