|
بھارت نے سیاچن کو سیاحت کیلئے کھولنے کے حوالے سے پاکستان کا اعتراض مسترد کر دیا،

17-09-07, 10:31 PM
بھارت نے سیاچن کو سیاحت کیلئے کھولنے کے حوالے سے پاکستان کا اعتراض مسترد کر دیا،سیاچن بھارت کا حصہ ہے، اس علاقے پر سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ دینے سے قبل پاکستان سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں، ترجمان بھارتی دفتر خارجہ:
اسلام آباد/ نئی دہلی (اُردو پوائنٹ۔17ستمبر۔2007ء)بھارت نے سیاچن کو سیاحت کیلئے کھولنے پر پاکستان کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاچن پر سیاحتی سرگرمیوں کیلئے پاکستان سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے سیاچن بھارت کا حصہ ہے اوراس میں ہرطرح کی سرگرمیاں بھارت کا حق ہے، ادھر پاکستان نے سیاچن کوسیاحت کیلئے کھولنے کے بھارتی فیصلے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسلام آباد میں بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدیداحتجاج کیاہے پیر کے روز بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان کی طرف سے جاری کئے گئے بیان میں ترجمان نے سیاچن گلیشیئر پر سیاحتی سرگرمیوں کے آغاز پر پاکستان کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے قبل بھی سیاچن پر سیاح اور کوہ پیما دورے کر چکے ہیں اور 19ستمبر کو 20رکنی کوہ پیمائی ٹیم کا دورہ سیاچن بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ترجمان نے کہا کہ سیاچن بھارت کا حصہ ہے اس علاقے پر سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ دینے سے قبل پاکستان سے اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی ایسا کرنا شملہ سمجھوتے کی خلاف ورزی ہے اس حوالے سے پاکستان کا اعتراض بلا جواز ہے واضح رہے کہ پیر کے روز پاکستان نے اسلام آبادمیں بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ میں طلب کیا اور بھارت کی طرف سے سیاچن گلیشیئر پر سیاحتی سرگرمیوں شروع کرنے پر شدید احتجاج کیا ادھر ایک کثیر الاشاعت بھارتی روزنامے کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے سیاچن گلیشیئر کو سیاحوں کیلئے کھول دیا ہے رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے دنیا کے دشوار گزار برفانی سلسلے سیاچن گلیشیئر کو سیاحوں کیلئے کھول دیا ہے سیاچن گلیشئیر پرپاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ نصف صدی سے تنازعہ چلا آ رہا ہے بھارت کا موقف ہے کہ سیاچن گلیشیئر اس کا حصہ ہے جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ متنازعہ علاقہ ہے سیاچن گلیشیئر پر دونوں ممالک کی فوجیں موجود ہیں اور ایک محتاط انداز ے کے مطابق سیاچن گلیشیئر پر فوجوں کو رکھنے پر دونوں ممالک کو روزانہ کروڑوں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں دنیا کی خطرناک اور برفانی پہاڑی علاقے پر پاکستان او ربھارت کے درمیان تصادم بھی ہو چکا ہے رپورٹ کے مطابق بھارت کی طرف سے سیاچن گلیشیئر کو سیاحوں کیلئے کھولنا پاکستان کیلئے ایک صاف اورواضح پیغام ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ یہ علاقہ بھارت کا ہے او رجب تک پاکستان اس کو بھارت کا حصہ تسلیم نہیں کرتا نہ تو یہاں سے فوجیوں کی واپسی ممکن ہے اور نہ ہی اس پر کبھی دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہوں گے بھارت نے دفاعی نقطہ نظر سے انتہائی اہمیت کے حامل اس علاقے پر اپنے قبضے کو جائز قرار دینے کیلئے سیاحوں کو جانے کی اجازت دی ہے تاکہ وہ مشاہدہ کر سکیں کے سیاچن گلیشیئرکے کتنے حصے پر بھارت او رکتنے پر پاکستان کا قبضہ ہے بھارت اور فرانس کے کوہ پیماؤں پر مشتمل 16رکنی ٹیم نے 30جولائی سے یکم ستمبر تک اس علاقے کا دورہ کیا اس کے علاوہ انڈین ماؤنٹین فیڈریشن کے 10رکنی وفد نے بھی 6ستمبر سے اس علاقے کا دورہ کیا ایک اور 20رکنی وفد جس میں 8سویلین اور12راشٹریہ انڈین ملٹری کالج کے کیڈٹس شامل ہیں 19ستمبر سے اس علاقے کا 10روزہ دورہ کریگا بھارتی وزارت دفاع کے مطابق سیاچن گلیشیئر کو سیاحوں او رکوہ پیماؤں کیلئے کھولنے کا مقصد اس علاقے کی اہمیت اور افادیت سے نہ صرف بھارتی باشندوں بلکہ بیرونی دنیا کو بھی آگاہ کرنا ہے واضح رہے کہ پاکستان او ربھارت کے درمیان سیاچن گلیشیئر سے فوجوں کی واپسی کیلئے مذاکرات کے کئی دورہو چکے ہیں تاہم ابھی تک اس میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے بھارتی فوج سیاچن سے فوجوں کی شدید مخالفت کر رہی ہے جس کی وجہ سے بھارتی حکومت کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہی بھارتی فوج کا موقف ہے کہ گلیشیئر پر بھارتی فوج کی پوزیشن پاکستان سے بہت بہتر ہے بھارت کا بلند پوزیشن پر کنٹرول ہے جبکہ پاکستان انتہائی مختصر علاقے پر قابض ہے بھارتی فوج کے مطابق پاکستانی فوج کے پاس گلیشیئر کا جو بھی کنٹرول ہے وہ کسی بھی لحاظ سے دفاع کیلئے موثر نہیں ہے
__________________
کدی حال تان پوچھیا کر
دل دے تھورے ہین کج ویکھ کےروسیا کر
|
پاکستانی
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: پاکستان
عمر: 25
مراسلات: 5,290
شکریہ: 10,316
3,105 مراسلہ میں 7,462 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|