غلط فیصلے پر نظرثانی کی اپیل ”رٹ ایرر“ ہزار سال بعد بھی دائر کی جاسکتی ہے، اظہر صدیقی ایڈووکیٹ
اسلام آباد (رپورٹ: عثمان منظور) صدرآصف علی زرداری نے سپریم کورٹ میں دائر کردہ اپنے ریفرنس میں اس نکتہ کو نظرانداز کیا ہے کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور ہائی کورٹ میں اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران بعدازاں اپنے ساتھ پیش آنے والے انجام کا الزام واشنگٹن پر عائد کیا تھا۔ صدر آصف علی زرداری نے ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کا الزام عدلیہ پر عائد کیا ہے۔ اس طرح انہوں نے آمر وقت اور واشنگٹن کو چھوڑ دیا۔ جن پر خود ذوالفقار علی بھٹو نے الزام عائد کئے تھے۔ لاہور ہائی کورٹ کی فل بنچ کے روبرو جس نے بالآخر انہیں سزائے موت سنائی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ اگست 1976 میں اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ڈاکٹر ہنری کسنجر نے ان سے کہا اگر انہوں نے ری پروسیسنگ پلانٹ معاہدہ منسوخ، تبدیل یا ملتوی نہ کیا تو ہم تمہیں عبرتناک مثال بنادیں گے جبکہ ذوالفقار علی بھٹو کا کہنا تھا کہ وہ ان بلیک میلنگ اور دھمکیوں کے آگے نہیں جھکے ۔ عوامی قانونی امور کے ماہر محمد اظہر صدیقی ایڈووکیٹ جنہوں نے بھٹو کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے احکامات کا سن 2009 میں چار روز معائنہ کیا۔ انہوں نے دی نیوز کو بتایا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے سن 1978 میں لاہور ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ انہیں امریکا کے کہنے کے باوجود نیو کلیئر پروگرام ختم نہ کرنے کی سزا دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو کے مذکورہ بیانات 1978 میں چلائے گئے مقدمے کا حصہ ہیں اور لاہور ہائی کورٹ نے یہ ریکارڈ سربمہر کردیا ہے۔ اظہر صدیقی کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ حقائق بھٹو کیس ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد جمع کئے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے مقدمے کی تمام تر کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے قائم مقام چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین کے جانبدار اور متعصب ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ بنچ نے ان کے خلاف مقدمے میں دہرے معیار اختیار کر رکھے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے احتجاجاً عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ بھی کردیا تھا۔ بھٹو کا موقف تھا کہ عدالت استغاثہ کے لئے ایک قانونی اور ان کے لئے دوسرا قانون اختیار نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ استغاثہ کے گواہوں کو اپنے بیانات بہتر کرنے کا موقع دیا گیا۔ اور جب ان کی درخواستوں کا موقع آیا تو انہیں چیمبر میں سناگیا ۔ مجھ سے کہا گیا کہ اپنی درخواستوں پر میں خود دلائل دوں جبکہ اس وقت دیگر شریک ملزم اور استغاثہ موجود نہ تھا۔ لہٰذا یہ ایک غیر قانونی مقدمہ تھا ۔ بھٹو نے کہا کہ ان کی مختلف درخواستوں کی 18 اور 22 دسمبر کو چیمبر میں سماعت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی اور غیر شفاف مقدمے ، قائم مقام چیف جسٹس اور بنچ کی وجہ سے انہوں نے اپنے وکلاءکو مقدمے سے دستبردار کرالیا اور کارروائی کا بائیکاٹ کردیا۔ انہوں نے عدالت کے کہنے کے باوجود سیکشن 342 سی آر پی سی کے تحت بیان پر دستخط سے انکار کیا۔ کیونکہ انہوں نے کارروائی کا بائیکاٹ کر رکھا تھا سیکشن 342 کے تحت مقدمے کا فیصلہ کرنے کے لئے شہادت کے حوالے سے بیان نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور جب اس بیان پر ملزم کے دستخط نہ ہوں تو مقدمے کے فیصلے پر بڑا سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔ بھٹو نے کہا کہ جیسا کہ مجھے یقین دلایا گیا تھا کہ ان کے خلاف بدنیتی اور تعصب برتے جانے کے ایشوز پر بولنے کے لئے مناسب موقع فراہم کیا جائے گا۔ جس کے لئے 25 جنوری 1978 کو میں تیار ہو کر بھی آیا تو کمرہ عدالت میں مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ گزشتہ روز کی کھلی سماعت کو فوری طورپر خفیہ سماعت میں تبدیل کردیا گیا۔ جس پر بھٹو کے مطابق انہوں نے حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ یقین دہانیوں کے باوجود انہیں اپنا موقف پیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور غیر قانونی رویوں کے باعث یہ غیر قانونی مقدمہ ہے جس میں انصاف کی نفی کی گئی۔ واضح رہے کہ ذوالفقار علی بھٹو پر ایک سیاست داں احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد خان کے قتل کی سازش کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ 11نومبر 1971 کو مبینہ نشانہ ان کی کار تھی لیکن دس دن بعد لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس کے ایم اے صمدانی نے مقدمے کی قانونی بنیاد نہ ہونے پر ذوالفقار علی بھٹو کی ضمانت منظور کرلی۔ تاہم تین دن بعد ہی مارشل لاءکے تحت ان کی ضمانت منسوخ کر کے 16ستمبر کو انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ اظہر صدیقی کا موقف ہے کہ انگلینڈ کے عام قوانین کے مطابق کسی جج کی جانب سے غلط فیصلے پر ہزار برس بعد بھی نظرثانی ہوسکتی ہے اور قانون کی اصطلاح میں اسے ”رٹ ایرر“ کہا جاتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کا سپریم کورٹ آف پاکستان آئین کے آرٹیکل 188 کے تحت ازسرنو جائزہ لے سکتی ہے جبکہ آئین کے آرٹیکل 184(3)- کے تحت سپریم کورٹ کو مکمل انصاف کے لئے وسیع تر اختیارات حاصل ہیں اور جب اپیل تین کے مقابلے میں چار کی اکثریت سے مسترد کی گئی ہو تو عدالت عظمیٰ پہلے فیصلے کو منسوخ یا رجوع کرسکتی ہے۔ جس کی حالیہ مثال اقبال ٹکا کیس ہے۔ جنرل پرویز مشرف کی نافذ کردہ ایمرجنسی پلس کو سندھ ہائیکورٹ سے تحفظ بھی فراہم کیا گیا تھا تاہم سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ذریعہ اقبال ٹکا کیس میں 3 نومبر کے تمام اقدامات کو غیر قانونی اور غیر قانونی قرار دیا گیا۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی