|
بینظیرشہادت کیس:تحقیقات میں اسکاٹ لینڈ یارڈ کی مدد لیں گے،صدر پرویز

03-01-08, 08:12 AM
بینظیرشہادت کیس:تحقیقات میں اسکاٹ لینڈ یارڈ کی مدد لیں گے،صدر پرویز
اسلام آباد(نمائندہ جنگ) صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے واقعہ کی ماہرانہ تحقیقات کیلئے برطانوی ادارے اسکاٹ لینڈ یارڈ کا تعاون حاصل کیا جائے گا، نئی تصاویر،ویڈیو کلپس اور عینی شاہدین کے بیانات کا ماہرانہ جائزہ لیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ اس وقت قوم کی الجھنوں کو سلجھانا ضروری ہو گیا ہے،انہوں نے واضح کیا کہ انتہا پسندی اور دہشتگردی کیخلاف مشترکہ جدو جہد کرنا ہوگی،بدھ کی شب قوم سے خطاب کے دوران صدر پرویز مشرف نے کہا کہ قوم نے بہت بڑے حادثے کا سامنا کیا ہے ‘ محترمہ بے نظیر بھٹو دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوگئیں ‘ میں نے اس کی تعزیت ان کے شوہر آصف علی زرداری ‘ان کی بہن صنم بھٹو اور ان کے بچوں سے کی اور اب دوبارہ تعزیت کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ محترمہ کی مغفرت کرے اور ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں سیاسی جماعتیں ملکی مفاد کا سوچیں،انہوں نے مزید کہا کہ شہید محترمہ کی طرح میرا مشن بھی جمہوریت کیلئے جدو جہد اور دہشت گردی کا خاتمہ ہے،انہوں نے اپیل کی کہ عوام اور میڈیا قانون نافذ کرنیوالے اداروں کا ساتھ دیں، تفصیلات کے مطابق صدر پرویز مشرف نے کہا کہ محترمہ کی شہادت کے بعد سے صورتحال بہت بگڑی ہے ‘ الزام تراشیاں کی جارہی ہیں اور بہت سی سازشیں ہوتی رہیں‘ ایک ابہام اور غیر یقینی کا ماحول ہے جو بدقسمتی سے اس قسم کے ماحول میں پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے میں نے ضروری سمجھا کہ قوم کے سامنے حقائق رکھنا ناگزیر ہوگیا ہے۔ صدر نے کہا کہ مجھے پورا احساس ہے کہ اس سانحہ کا پی پی پی کی تمام سطحوں پر بہت رنج ‘ غم اور غصہ ہے ‘ خاص طور پر تمام سندھی بھائی اور بہنوں میں یہ جذبات ہیں۔ صدر نے کہا کہ مجھے بھی اتنا ہی غم و غصہ ہے اور میں ان کے اور پوری قوم کے جذبات کی قدر کرتا ہوں۔ صدر مشرف نے کہا کہ افسوس مجھے اس بات کا ضرور ہے کہ جب پوری قوم خاص طور پر پی پی پی جائز طور پر اپنے جذبات کا اظہار کر رہی تھی تو بہت سے شرپسند عناصر گروپوں اور بعض سیاسی عناصر اس صورتحال کا فائدہ اٹھا کر لوٹ مار ‘ توڑ پھوڑ ‘ جلاؤ گھیراؤ کے ذریعے نقصان کرنے پر تل گئے جس سے ملک اور عوام کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔ خاص طور پر یومیہ اجرت پر کام کرنے والے غریب اپنے کام پر نہ جاسکے اور ان کو تکلیف اٹھانا پڑی ‘ پٹرول پمپ اتنے زیادہ جلائے گئے اور جو باقی رہ گئے تھے وہ بند کردیئے گئے ‘ تمام ٹرانسپورٹ بند ہوگئی‘ کچھ ڈر کی وجہ سے اور کچھ ایندھن کی عدم دستیابی کی وجہ سے۔ صدر نے کہا کہ ریلوے کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ‘ ریلوے انجنوں ‘ بوگیوں کو جلایا گیا اور کچھ پٹڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا جس کی وجہ سے ریلوے کا پورا نظام درہم برہم ہوگیا جو تاحال پوری طرح بحال نہیں ہو سکا۔ مال برداری نہ ہونے سے اقتصادی نقصان اٹھانا پڑا‘ لوگ ریلوے ا سٹیشنوں پر پھنسے ہوئے ہیں اور ان کو اپنے اپنے گھروں میں بھیجنے کا بندوبست کیا جارہا ہے۔ صدر نے کہا کہ اس صورتحال میں خوف اور ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے ڈاکٹر اور نرسیں ہسپتالوں میں نہیں پہنچ سکیں جس کی وجہ سے بیمار افراد کو جو طبی توجہ چاہیے تھی وہ نہیں ملی اور وہ مصیبت اور مشکلات کا شکار رہے۔ صدر نے کہا کہ یہاں تک کہ مولانا عبدالستار ایدھی کے مراکز پر بھی حملے کئے گئے اور ان کی تباہی کی گئی جو بہت افسوسناک ہے۔ بہت سے لوگوں کے گھر اور دکانیں جلائی گئیں خاص کر چن چن کر ایسا کیا گیا‘ جیولری اور اسلحے کی دکانوں کو پہلے لوٹا اور پھر جلایا گیا‘ بینکوں کو جلایا اور لوٹا گیا اس کے علاوہ جیلوں پر حملے ہوئے ‘ 100 سے زائد قیدی فرار ہوئے جو کہ امن و امان کا مسئلہ پیدا کر رہے ہونگے۔ صدر نے کہا کہ اس لوٹ مار میں کچھ سیاسی اور نسلی رنگ نظر آتا ہے جو نہ صرف افسوسناک بلکہ ناقابل برداشت ہے۔ صدر نے کہا کہ سیاسی رنگ اس لئے کہ چن چن کر ایسا کیا گیا اور جو سیاسی جماعت لوٹ مار کرنے کے خلاف تھی ان کو نقصان پہنچایا گیا اور جو بھی دکان ان کے حق میں تھی ان کو چھوڑا گیا۔ صدر نے کہا کہ کل نقصان کا جائزہ لیا جارہا ہے تاہم مجھے بتایا گیا ہے کہ 100 ارب سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں گزشتہ سات سے آٹھ سالوں میں جو ترقیاتی کام ہوئے جو دیہی اور شہری علاقوں میں ترقیاتی منصوبے اور کام ہوا ان دنوں میں کافی حد تک بربادی ہوئی ہے۔ یہ صورتحال برداشت نہیں کی جاسکتی اس سے نمٹنا پڑے گا اس کو سختی سے روکنا اور ختم کرنا پڑے گا فوری کارروائی کی ضرورت ہے‘ پہلے قدم کے طور پر میں نے وزیراعظم کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک کمیشن تشکیل دیں جو تمام نقصانات کا جائزہ لیں اور نشاندہی کریں کہ کون سے عناصر اس میں ملوث ہیں۔ صدر نے کہا کہ میڈیا کو بھی سندھ میں جانا چاہیے اور مقامی سطح پر صورتحال دیکھنی چاہیے تاکہ اس کو معلوم ہو کہ کتنی تباہی ہوئی ہے ‘ جتنی سندھ میں تباہی ہوئی ہے اس کا سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ صدر نے کہا کہ میں نے وزیراعظم کو ہدایت کی ہے کہ جو بھی سینئر عہدیدار ‘ جن سے کوتاہی ہوئی ہے ان کے خلاف فوری طور پر کارروائی کی جائے ‘ لوٹ مار کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر اور مقدمات درج کئے جائیں ‘ جیل سے نکلنے والے قیدیوں اور جو گھومتے پھر رہے ہیں ان کو پکڑنے کا بندوبست کیا جائے اور ان کو واپس جیلوں میں ڈالا جائے اور جو بھی عناصر یا فرد ہتھیار لئے گھوم رہے ہیں ان کو پکڑ کر بند کیا جائے اور اس کو بالکل برداشت نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کس طرح ہوئی اور کس نے کی یہ دوسری انتہائی اہم بات ہے اور میں خود بھی اس معاملے کی گہرائیوں میں جانا چاہتا ہوں اور قوم کو بھی بتانا چاہتا ہوں۔ اس سلسلے میں ملک میں جو بھی ابہام پیدا ہوا اس کو سلجھانا ضروری ہے۔ انہوں نے ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ سے اپیل کی کہ وہ اس ابہام میں اضافہ نہ کریں۔ صدر نے کہا کہ سانحہ کے پہلے روز کے بعد مختلف فوٹو کلپس اور عینی شواہد کے بیانات آرہے ہیں ان تمام شواہد کا ماہرانہ طریقے سے جائزہ لینا ناگزیر ہوگیا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ برطانیہ کی اسکاٹ لینڈ یارڈ ٹیم پاکستان آئے گی جو تحقیقات میں پاکستانی ٹیم کو مدد دے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن سے اس سلسلے میں تعاون کی درخواست کی تھی جو انہوں نے قبول کرلی ہے‘ سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم فوراً پاکستان پہنچے گی۔ امید ہے کہ یہ تحقیقات صحیح ہونگی اور ان سے تمام شبہات دور ہونگے۔ انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ وہ امن برقرار رکھیں ‘ امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنے والوں کا ساتھ نہ دے بلکہ انہیں روکے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ وقت سیاسی محاذ آرائی کا نہیں بلکہ مصالحت کا ہے‘ تمام سیاسی جماعتیں وقت کی نزاکت کو سمجھیں اور سیاست سے بالاتر ہوکر ملک کا سوچیں کیونکہ سب سے پہلے پاکستان ہے۔ ہمیں جتنی مشکلات درپیش ہیں کوئی اس میں اضافہ نہ کرے۔ انہوں نے قوم ‘ خاص طور پر پاکستان پیپلز پارٹی اور خصوصاً سندھی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کا مشن جمہوریت کا فروغ اور دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کرنا تھا ‘ میں یقین دلاتا ہوں کہ میرا مشن بھی اس کے عین مطابق جمہوریت کا فروغ اور دہشت گردی کا خاتمہ ہے اور یہی میرا مشن رہے گا۔ میرا ایمان ہے کہ اسی میں پاکستان کی ترقی اور بقاء ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے بعد ملک میں آئینی اور جمہوری حکومت قائم ہو جائے گی جو ملک کو آئندہ پانچ برسوں میں ترقی اور خوشحالی کی طرف لے جائے گی لیکن ہمیں دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف منظم ہوکر اور زیادہ قوت کے ساتھ جدوجہد کرنا پڑے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس جدوجہد میں ہمیں کامیابی حاصل نہ ہوئی تو خدانخواستہ ملک کا مستقبل تاریک ہوگا۔ انہوں نے قوم اور ذرائع ابلاغ سے اپیل کی کہ وہ حکومت ‘ فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ساتھ دے اور ان کا حوصلہ بڑھائے کیونکہ قوم کی مدد اور تعاون سے وہ زیادہ بہتر طریقے سے دہشتگردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ کر سکیں گے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح راہ پر چلنے کی توفیق دے۔
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|