|
بینظیر شہادت:آصف زرداری،نوازشریف اورقاضی حسین کامدبرانہ کردار

01-01-08, 10:36 AM
بینظیر شہادت:آصف زرداری،نوازشریف اورقاضی حسین کامدبرانہ کردار
اسلام آباد (طارق بٹ) بے نظیر بھٹو کی شہادت اگرچہ ملکی تاریخ کا المناک ترین سانحہ ہے تاہم محترمہ کی وفات کے بعد پاکستان میں مدبرین کی کوئی کمی نہیں رہی۔ آصف علی زرداری اور نواز شریف ذمہ دار قومی رہنماؤں کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں اورقاضی حسین احمد بھی ان سے کچھ زیادہ پیچھے نہیں دونوں رہنماؤں نے حاضر دماغی اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وفاق اور عوام کو سنبھال لیا ہے۔ وفاق پاکستان کے استحکام اور بقاء کیلئے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل طارق مجید نے بھی غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے بے نظیر کے خاندان سے تعزیت اور مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی ان دونوں فوجی افسروں کا یہ اقدام قابل تحسین ہے۔ عام طور پر سیاسی سرگرمیوں اور عوامی اجتماعات میں براہ راست حصہ نہ لینے والے آصف علی زرداری نے گزشتہ روز ہونیوالی پی پی پی کی پریس کانفرنس میں اپنی اعلیٰ سیاسی صلاحیتوں کا جس طرح مظا ہرہ کیا اس کی توقع نہیں کی جا رہی تھی۔ متعدد لوگوں کی رائے میں سادہ سیاستدان نظرآنے والے میاں محمد نواز شریف بھی اس عظیم قومی سانحہ پر پاکستان کوبچانے کیلئے جس طرح اپنی ذات اور مفادات کو خطرے میں ڈال کر سامنے آئے، اس سے انہوں نے اپنے متعلق دنیا کو غلط ثابت کیا۔ اس سے ان کے بارے میں قائم عالمی تاثر غلط ثابت ہوگیا۔ غم سے نڈھال آصف علی زرداری نے بینظیر کی شہادت کے بعد پاکستان کی بقاء اور قومی یکجہتی کو پیپلز پارٹی کا مقصد قرار دیکر ملک توڑنے کی باتیں کرنے والے لوگوں کو جھٹلا دیا، فوج پاکستان اور پنجاب کے متعلق اچھے تاثرات اور پاکستان کی بقاء کو پیپلز پارٹی کی بقاء کیلئے ناگزیر قرار دینے سے پی پی پی کا یہ نعرہ دوبارہ زندہ ہوگیا ہے کہ ”بے نظیر چاروں صوبوں کی زنجیر“ زرداری نے یہ تمام باتیں عوام سے اس وقت کی ہیں جب سندھ میں لوگ پنجاب اور مرکز کیخلاف سخت غصے کی حالت میں تھے زرداری کے خطاب نے فوج اور اسٹیبلشمنٹ کو واشگاف الفاظ میں یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کسی بھی دوسرے شخص یا جماعت کی طرح پاکستان کی وفادار ہے حتی کہ انتہائی غم کی حالت میں بھی ہم وفاق پاکستان کی سالمیت کو عزیز رکھتے ہیں۔ لہذا پی پی پی کے متعلق غلط تاثر پھیلانے سے گریز کیا جائے، بے نظیر بھٹو کی زندگی میں بھی بہر حال یہ خدشہ موجود تھا کہ پی پی پی کی کارکردگی پنجاب میں 8 جنوری کے انتخابات میں کچھ خاص اچھی نہیں ہوگی۔ آصف علی زرداری نے اکثریتی آبادی والے صوبوں پنجاب کے عوام سے براہ راست خطاب کرتے ہوئے انہیں اعتماد میں لیا اور پنجاب سے متعلق انہیں اپنے مثبت جذبات سے آگاہ کیا، امید کی جا رہی ہے کہ ان کا یہ خطاب پنجاب میں پی پی پی کے ووٹ بینک میں اضافے کا باعث بنے گا۔ زرداری گروہ بندی سے بالاتر ہو کر پاکستان کو بچانے کیلئے سامنے آئے۔ بینظیر بھٹو کے غم کو انہوں نے پی پی پی کیلئے انتخابی مواقع میں تبدیل کردیا ہے علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں میں خدشات اور بددلی پیدا ہونے کے پیش نظر انہوں نے بے نظیر کی وصیت میں تبدیلی کرکے اپنی جگہ اپنے بیٹے بلاول کو پارٹی کا چیئرمین نامزد کردیا اور بلاول کے نام کیساتھ ”بھٹو“ کے لفظ کا اضافہ کردیا۔ صدر مشرف یا اسٹیبلشمنٹ سے متعلق غیر ذمہ دارانہ بیان دینے کی بجائے انہوں نے 26 اکتوبر کو مارک سیگل کی لکھی گئی ای میل کا حوالہ دیا۔ انہوں نے عوام سے پی پی پی کے انتخابی نشان تیر پر مہر لگانے اور ق لیگ کو دفن کرنے کیلئے بھی کہا، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ انتخابی جلسے سے خطاب کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو یہ تاثر بھی دیا کہ وہ معاملات کو الٹنے کی کوشش نہیں کرینگے بلکہ سسٹم کا حصہ بنتے ہوئے اپنی شہید اہلیہ کی پالیسی پر عمل پیرا ہونگے۔ 8 جنوری کو انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ پی پی پی کی جانب سے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ ہے کیونکہ عام طور پر خیال کیا جا رہا ہے کہ لوگوں کی ہمدردیاں اب واضح طور پرپی پی پی کیساتھ ہیں۔ پیپلز پارٹی شاید کبھی بھی اپنی فتح کے بارے میں اتنی پریقین نہیں رہی ہوگی جتنی موجودہ صورتحال میں ہے۔ دوسری جانب میاں محمد نواز شریف کی جانب سے بینظیربھٹو کے قتل پر تعزیت کیلئے نوڈیرو اور گڑھی خدا بخش جانا بھی قابل تعریف اقدام ہے اس سے سندھی عوام میں اچھا تاثر پیدا ہوا اور پنجاب اور پاکستان کے متعلق ان کے جذبات میں عموعی طور پر مثبت رجحان پیدا ہوا بے نظیر بھٹو کی شہادت کا سننے کے بعد راولپنڈی ہسپتال پہنچنے والی وہ پہلی غیر پی پی پی سیاسی شخصیت تھیں اور وہاں پر ان کا دھاڑیں مار مار کر رونا بھی پیپلز پارٹی اور اس کی چیئرپرسن بے نظیربھٹو کے ساتھ ان کے اخلاص کا واضح اظہار تھا، بینظیر بھٹو کی شہادت پر آرمی چیف جنرل کیانی اور جنرل طارق مجید کے تاثرات کہ پاکستان بہادر قومی لیڈر سے محروم ہوگیا ہے بھی توجہ کے طالب ہیں علاوہ ازیں ان کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھانا بھی اس بات کی غمازی کرتا تھا کہ وہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|