واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


بے نظیر کی حکومتوں میں تفتیش کیلئے کبھی غیرملکی ایجنسیوں کو نہیں بلایا گیا,,,,رپورٹ :…انصار عباسی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-10-07, 10:43 AM   #1
بے نظیر کی حکومتوں میں تفتیش کیلئے کبھی غیرملکی ایجنسیوں کو نہیں بلایا گیا,,,,رپورٹ :…انصار عباسی
خرم شہزاد خرم خرم شہزاد خرم آف لائن ہے 29-10-07, 10:43 AM

اسلام آباد… پاکستانی تفتیش کاروں اوراداروں کا دہشت گردی کے بڑے واقعات اوردیگر جرائم کومعموں کوحل کرنے کا ماضی کا ریکارڈ نہایت شاندارہے اورایف بی آئی یا اسکاٹ لینڈ یارڈکو 90ء کی دہائی میں بینظیر بھٹوکے 2 ادوار کے دوران بھی کبھی سرکاری طورپرمدعونہیں کیاگیااورپی پی کی رہنما کی 18اکتوبر کے دہشت گردحملوں کی تحقیقات کے لئے غیر ملکی مددحاصل کرنے کی تکرارنہ صرف ان کے اپنے ریکارڈ سے متصادم ہے بلکہ اگرپاکستانی تفتیش کاروں کے ریکارڈ کا موازنہ کیاجائے توبھی مناسب محسوس نہیں ہوتا۔ریکارڈ سے ظاہرہوتاہے کہ پاکستانی ایجنسیاں اورتفتیش کاروں نے خودکش حملوں سمت ہربڑے دہشتگردحملے کے واقعے کا سراغ لگایاہے اورکراچی کے معاملے میں نتائج کے سوفیصدہونے کا دعویٰ کیاجاتاہے۔ میجر جنرل ریٹائرڈ نصیر اللہ بابر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بینظیر بھٹو نے اپنے دور اقتدار میں مقامی ایجنسیوں پر ہی بھروسہ کیا۔ دی نیوز کے رابطہ کرنے پر بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں وزیر داخلہ کے طور پر خدمات انجام دینے والے نصیر اللہ بابر نے اس نمائندے کو بڑے فخر کے ساتھ بتایا کہ بینظیر کے دور حکومت میں دہشت گردی کے تمام بڑے واقعات کے ذمہ داروں کا غیر ملکی مدد کے بغیرہی چند روز کے اندرکھوج لگالیاگیاتھا۔ سیکریٹری داخلہ سید کمال شاہ نے اس نمائندے کو بتایا کہ وزارت داخلہ کے اعلیٰ اہلکاروں کو کم از کم گزشتہ کئی برسوں کے دوران ایسی کوئی مثال یاد نہیں ہے جب حکومت نے دہشت گرد حملوں کی تحقیقات کیلئے، جس میں صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز پر ہونے والے حملے بھی شامل ہیں، غیر ملکی تفتیش کاروں کی خدمات حاصل کی ہوں۔ وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈیئر (ر) جاوید اقبال چیمہ کے مطابق پاکستان نے امریکی شہریت کے حامل افراد اور امریکی اہداف کے خلاف ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بارے میں بھی مقامی اداروں اور ماہرین نے تحقیقات کی تھیں اور اس کے بہترین نتائج نکلے تھے اور ایسی ہی کامیابیوں میں سے ایک ڈینیئل پرل کا کیس تھا۔ تاہم یہ امریکی حکومت کی پالیسی ہے کہ جب بھی غیر ملکی سرزمین پر کسی امریکی پر حملہ ہو یا وہ قتل ہوجائے تو ایف بی آئی اپنی تحقیقات کرتی ہے اور پاکستان میں بھی جب امریکی اہداف پر حملے ہوئے تو ایف بی آئی نے ایسا ہی کیا تھا۔ تاہم، انہیں اسلام آباد نے مدعو نہیں کیا تھا۔ بینظیر بھٹو کی جانب سے 18 اکتوبر کے ماسٹر مائنڈ کو تلاش کرنے کیلئے غیر ملکی تفتیش کاروں کی خدمات حاصل کرنے کا مطالبہ مقامی تفتیشی ٹیم میں تبدیلی کے باوجود بھی کم نہیں ہو رہا جبکہ صدر مملکت نے کسی بھی غیر ملکی ایجنسی کو معاملے میں شامل کرنے کے آپشن کو مسترد کردیا ہے۔ بینظیر نے اگلے روز سیکریٹری داخلہ سے رسمی طور پر یہ مطالبہ کیا کہ امریکی ایف بی آئی اور برطانوی اسکاٹ لینڈ یارڈ کو مجرمان کو پکڑنے کیلئے بلایا جائے۔ نصیر اللہ بابر نے کہا کہ اسلام آباد میں مصری سفارتخانے پر ہونے والے حملے سمیت دیگر دہشت گرد حملوں کے واقعات 24 گھنٹے کے اندر حل کرلئے گئے تھے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ آصف نواز کے معاملے میں انکے بالوں کے نمونے لیبارٹری ٹیسٹ کیلئے باہر بھیجے گئے تھے جس سے یہ انکشاف ہوا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف پر ان کو زہر دینے کا لگایا جانے والا الزام بے بنیاد تھا۔ مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے کیس سے متعلق سوال پر نصیر اللہ بابر نے کہا کہ اس کیس میں بھی حکومت نے، جو کہ بینظیر بھٹو کی تھی، کسی غیر ملکی ایجنسی کی مدد نہیں لی تھی۔ پیپلز پارٹی کے کچھ لیڈر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ بینظیر بھٹو نے اسکاٹ لینڈ یارڈ کے چند ریٹائرڈ افسران کی خدمات حاصل کی تھیں لیکن نصیر اللہ بابر نے ان کا ذکر نہیں کیا۔ سید کمال شاہ نے بتایا کہ وہ اپنے موجودہ عہدے سے قبل تین صوبوں میں پولیس کے سربراہ رہ چکے ہیں لیکن کسی جرم کی تفتیش کیلئے غیر ملکی ایجنسیوں کی کبھی مدد حاصل نہیں کی گئی۔ وزارت داخلہ کے ترجمان جاوید اقبال چیمہ نے اس نمائندے کے سامنے خود کش حملوں اور بڑے دہشت گرد حملوں کے کچھ واقعات پیش کئے اور دعویٰ کیا کہ ماسوائے چند مستشنیات تقریباً تمام مجرموں تلاش کرلئے گئے تھے اور انہیں سزائیں ہوئی تھیں۔ چیمہ نے کہا کہ کراچی کے کیس میں نتائج تقریباً 100 فیصد ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ آج ملک کے تفتیش کار اور ادارے دہشت گردی سے متعلق جرائم کے حوالے سے بہت اچھے تربیت یافتہ اور پوری طرح مسلح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایک قومی فارنسک ایجنسی قائم اور ڈی این اے ٹیسٹ کی سہولیات فراہم کی ہیں۔ اس کے علاوہ فارنسک اور سائبر کے ماہرین بھی پیدا کئے ہیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق پاکستان میں دہشت گرد حملوں کا رجحان 2002ء میں شروع ہوا۔ 17 مارچ 2002ء کو اسلام آباد میں سفارتی علاقے میں قائم ایک چرچ پر خود کش حملہ، جس میں 4 امریکی ہلاک ہوئے تھے، ملک میں اپنی قسم کا پہلا خود کش حملہ تھا۔ اس کے مجرم گرفتار ہوئے تھے اور انہیں عدالت سے سزا ہوئی تھی۔ تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2002ء میں خود کش حملوں اور بڑے دہشت گرد حملوں کے 8 واقعات، جن میں راولپنڈی میں مسجد شاہ نجف فائرنگ کیس، اسلام آباد میں چرچ حملہ کیس، امام بارگاہ قدیمی بھکر بم دھماکا، مری کرسچیئن اسکول فائرنگ کیس، ٹیکسلا چرچ حملہ، ڈینیئل پرل کیس کراچی، کراچی شیرٹن ہوٹل بم دھماکا، امریکی قونصلیٹ کراچی پر حملے کے کیسز حل کرکے مجرموں کو سزا دی گئی۔ 2003ء کے بڑے واقعات میں کوئٹہ میں زیر تربیت پولیس اہلکاروں پر حملے کا کیس، جنرل پرویز پر دو حملے، کراچی میں سپارکو کے ملازمین کی بس پر فائرنگ کے کیس بھی حل کرلئے گئے تھے۔ 2004ء میں حکام نے ایک بار پھر، وزیراعظم شوکت عزیز پر حملے، کراچی میں کور کمانڈر پر حملہ، مسجد زینبیہ سیالکوٹ میں بم دھماکا، کوئٹہ میں محرم کے جلوس پر حملہ، کراچی میں حیدری مسجد میں بم دھماکا، کراچی میں امام بارگاہ علی رضا پر حملہ اور ملتان میں ایم سی مڈل اسکول میں بم دھماکے کے کیس حل کرلئے گئے۔ سرکاری ریکارڈ یہ دعویٰ بھی کرتا ہے کہ 2005ء میں لاہور میں 2 بم دھماکوں اور کراچی میں مدینة العلم میں بم دھماکے کے کیسز حل کرلئے گئے تھے تاہم 2006ء اور 2007ء بڑے بم دھماکوں اور خود کش حملوں کے واقعات اب بھی زیر تفتیش ہیں۔ جاوید اقبال چیمہ نے کہا کہ تفتیش کا عمل عموماً وقت لیتا ہے لیکن چیدہ چیدہ کیسز جلدی حل کرلئے جاتے ہیں۔ 2006ء اور 2007ء میں ہونے والے بڑے واقعات، جو اب تک حل کئے جاچکے ہیں ان میں، حب میں چینی انجینئروں کا قتل، کراچی میں امریکی قونصلیٹ کے نزدیک خود کش کار بم دھماکا، نشتر پارک میں خود کش حملہ، علامہ حسن ترابی پر خود کش حملہ، اسلام آباد ائر پورٹ پر خود کش حملہ، کھاریاں گجرات میں خود کش حملہ، ضلع کچہری ایف 8 اسلام آباد میں خود کش حملہ اور آبپارہ اسلام آباد میں خود کش حملے کے واقعات شامل ہیں۔ 2006ء اور 2007ء میں 32 بڑے واقعات زیر تفتیش ہیں ان میں ہنگو خود کش حملہ، پنجاب رجمنٹ سینٹر درگئی پر خود کش حملہ، اسلام آباد میریٹ ہوٹل پر بم دھماکا، پشاور میں پولیس افسران پر خود کش حملہ، ڈی آئی جی پشاور کا قتل، ٹانک میں فوجی قافلے پر خود کش حملہ، کوئٹہ کی ضلعی عدالت میں خود کش حملہ، آفتاب شیرپاؤ پر خود کش حملہ، ڈی آئی خان میں پولیس لائن پر خود کش حملہ، مٹہ میں فوجی قافلے پر خود کش حملہ، ہنگو میں پولیس تربیتی سینٹر پر خود کش حملہ، راولپنڈی میں آئی ایس آئی کی بس پر خود کش حملہ، تربیلہ غازی میں ایس ایس جی کی میس میں خود کش حملہ، بنوں میں پولیس اہلکاروں پر خود کش حملہ، کراچی میں بینظیر بھٹو کے قافلے پر خود کش حملہ، مینگورہ سوات میں فرنٹیئر کانسٹیبلری پر حملے کے واقعات شامل ہیں۔ پاکستان میں اب تک 60 خود کش حملے ہوچکے ہیں جن کے نتیجے میں 796 افراد ہلاک اور 2275 زخمی ہوچکے ہیں تاہم ان حملوں کی بڑی تعداد 2007ء میں ہوئی ہے اور گزشتہ برسوں میں ایسے واقعات سال میں صرف چند ہوتے ہیں۔ تفصیلات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے 2002ء میں چار دہشت گرد حملے ہوئے، 2003ء میں 2، 2004ء میں 5، 2005ء میں 2، 2006ء میں 6 اور 2007ء میں 41 حملے ہوئے۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز

 
خرم شہزاد خرم's Avatar
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 335
Reply With Quote
جواب

Tags
کوئٹہ, کمال, پولیس, پاکستانی, واقعات, وزیر, وزیراعظم, نیوز, نواز شریف, موجودہ, مسجد, آج, اللہ, الزام, اسلام, اعلیٰ, بہترین, بے نظیر, تلاش, جاوید اقبال, حسن, خودکش, خلاف, عدالت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تخت لاہور کیلئے سیاسی میدان گرم، پی پی اپوزیشن میں جانے کیلئے تیار گلاب خان خبریں 0 08-01-11 05:24 AM
’غیر مقبول سیاسی فیصلے بھی کیے جائیں گے‘ ALI-OAD خبریں 0 15-11-10 11:23 PM
کارکن تیا ر ہیں ،مجھے کسی وقت بھی مار دیا جائے گا : الطا ف حسین جاویداسد خبریں 9 27-09-10 06:53 PM
وکلاء تنظیموں نے پی سی او ججوں کے سوشل بائیکاٹ کا اعلان کر دیا،ملک بھر کے وکلاء،ماتحت عدالتوں میں روزانہ ایک گھنٹے ہڑتال کر یں گے خرم شہزاد خرم خبریں 0 06-12-07 09:00 AM
بے نظیر کی حکومتوں میں تفتیش کیلئے کبھی غیرملکی ایجنسیوں کو نہیں بلایا گیا,,,,رپورٹ عبدالقدوس خبریں 0 29-10-07 09:42 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:07 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger