|
بے نظیر کی شہادت سے متعلق برطانوی صحافی کرسٹینا لیمب کی تحقیقات کے حوالے سے چشم کشا رپورٹ

03-05-10, 04:09 AM
درجہ بندی:
(1 votes - 5.00 average)
لندن (جنگ نیوز) معروف ایوارڈیافتہ برطانوی صحافی کرسٹینا لیمب نے اپنی چشم کشا رپورٹ میں لکھا ہے کہ بینظیر کی شہادت کے بعد اس وقت کے راولپنڈی پولیس کے سربراہ سعود عزیز نے کہا کہ انہوں نے پرویز مشرف کے قریبی ساتھی کی فون کال پر جائے شہادت دھونے کے احکامات دیئے تھے ۔ کرسٹینا لیمب نے بینظیر بھٹو کے قتل کے شواہد کی تلاش میں لندن ، کراچی اور واشنگٹن کے دورے کئے ۔ برطانوی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ میں وہ لکھتی ہیں کہ انہیں حسین حقانی نے بتایا تھا کہ مشرف حکومت نے بینظیر کی سکیورٹی بڑھانے کے بجائے کم کردی تھی اور جب انہوں نے اس حوالے سے امریکی سفیر سے رابطہ کیا تو انہوں نے بھی خاطر خواہ مدد نہیں کی۔27دسمبر کو راولپنڈی میں حملے سے قبل اُس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ ندیم تاج نے بھی محترمہ بینظیر بھٹو سے ملاقات کی تھی ، کرسٹینا لیمب کے مطابق سانحہ کار ساز کے بعد بیت اللہ محسود نے بینظیر کو پیغام بھجوایا تھا کہ وہ اپنے دشمن کو پہچانیں ، ہم ملوث نہیں ہیں، بینظیر کی شہادت کے بعد آصف زرداری کو دبئی سے آنے والے نامعلوم شخص نے بینظیر کی ہاتھ سے لکھی ہوئی وصیت دی تھی۔شہید بی بی کے علاوہ دھماکے میں جاں بحق ہونے والے کسی بھی شخص کا پوسٹ مارٹم ہوا نہ ہی سانحہ کارساز کی تحقیقات کی گئیں،برطانوی صحافی کرسٹینا لیمب نے حسین حقانی کے حوالے سے بتایا کہ بے نظیر بھٹو نے مشرف کو فون کیا تو اس نے خبردار کیا کہ انتخابات سے پہلے واپس مت آنا اور دھمکی دی کہ ”اگر تمہارے ہمارے ساتھ تعلقات بہتر ہوں گے تب ہی میں تمہاری حفاظت کروں گا“۔ حسین حقانی نے مزید بتایا کہ بے نظیر کی سکیورٹی بڑھانے کے بجائے کم کردی گئی اور یہ بھی کہا گیا رنگدار شیشوں والی گاڑی استعمال نہ کی جائے کیونکہ یہ خلاف قانون ہے۔ حقانی نے بتایا کہ بی بی نے واپسی کیلئے مذاکرات میں مدد دینے والے امریکی و برطانوی عہدیداروں سے اپیلیں کیں۔ میں نے ہر کسی کو فون کیا۔ حتیٰ کہ پاکستان میں امریکی سفیر این پیٹرسن نے کوئی خاطر خواہ مدد نہیں کی۔ بے نظیر کے کزن اور قریبی ساتھی طارق اسلام نے بتایاکہ ”پیٹرسن کا رویہ ٹھیک نہ تھا‘ وہ ایک ہی راگ الاپتی رہی کہ ”مشرف کیخلاف بات نہ کی جائے“۔ طارق نے بتایا کہ ”امریکیوں کو بی بی پر اعتبار نہیں تھا‘ یہ محض مفاد پرستی کا تعلق تھا“۔ 26 دسمبر 2007ء راولپنڈی کے واقعہ سے ایک روز قبل پشاور میں ریلی کے دوران ایک مشکوک خود کش بمبار کے پکڑے جانے پر آصف زرداری نے بے نظیر سے کہا کہ تم ایک ماں ہو لہذا گھر پر رہو اور مجھے جلسے جلوسوں سے خطاب کرنے کی اجازت دیں لیکن بے نظیر نے انکار کردیا۔ اگلے روز یعنی 27 دسمبر کو آئی ایس آئی کے سربراہ ندیم تاج نے بی بی سے ملاقات کی۔ انہوں نے ملاقات میں کیا کہا کچھ معلوم نہیں۔ تاہم بی بی نے اپنے دوست پیٹر گلبرائتھ کو ای میل کرکے کہا کہ وہ میرے دوست اور عراقی صدر جلال طالبانی سے رابطہ کریں کہ ان سے کہیں کہ اپنے کچھ جیمرز بھجوادیں۔ دوپہر کو کھانے پر بی بی نے ناہید خان کو بلایا اور بتایا کہ کچھ امریکی سیاستدان ملاقات کیلئے آرہے ہیں۔ بے نظیر نے ری پبلکن سینیٹر ارلین سپیکٹر اور ڈیموکریٹک رکن کانگریس پیٹرک کینیڈی کو مشرف کی طرف سے آئی ایس آئی کے خفیہ دھاندلی سیل کے ذریعے دھاندلی کے پروگرام سے آگاہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ کرسٹینا لیمب نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ دوپہر کو 2 بجے قافلہ اسلام آباد سے راولپنڈی روانہ ہوا۔ ناہید خان نے بتایا کہ ”اس روز بہت بڑا ہجوم تھا۔ ہمیں اس کی توقع نہ تھی‘ لوگ بہت زیادہ پرجوش تھے اور بی بی بھی بہت زیادہ خوش تھیں“۔ جلسے کی بعد کی صورتحال کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے کرسٹینا لیمب نے لکھا کہ پھر فائرنگ کی آواز سنائی دی۔ ناہید خان نے بتایا کہ ”اچانک مجھے اپنے اوپر دباؤ محسوس ہوا‘ بی بی میرے اوپر گر چکی تھیں‘ وہ مکمل طور پر بے ہوش تھیں اور اس کا خون مجھ پر گر رہا تھا‘ بی بی کے گرنے سے 3 سے 4 سیکنڈ بعد دھماکا ہوا۔ صفدر عباسی نے بی بی کی نبض دیکھی تو وہ ختم ہوچکی تھی“۔ ہسپتال میں ڈاکٹروں نے ان کی سانس واپس لانے کی کوششیں کی شیری رحمن نے بتایا کہ زخمیوں اور جاں بحق ہونے والوں کے ورثا کا ہجوم ہسپتال میں جمع ہو گیا تھا اور کارکن بھی اکٹھے ہو رہے تھے۔ ناہید اور امین فہیم سکتے کی حالت میں تھے‘ انہوں نے کہا کہ ہسپتال والے چاہتے تھے کہ ہم ان کی میت جلد وہاں سے لے جائیں۔ ”میں اور مخدوم امین فہیم نے باہر آ کر کارکنوں کی توجہ دوسری طرف کرائی تاکہ وہاں سے میت لائی جا سکے‘ یہ ہمارے ذہن میں نہیں آیا کہ میڈیکل رپورٹ کا مطالبہ کریں‘ مجھے یقین تھا کہ انہیں گولی ماری گئی ہے میں نے گولیوں کی آواز سنی تھی اس کے بعد دھماکے کی آواز آئی ہم نے سوچا بھی نہیں تھا کہ کوئی اس سے اختلاف بھی کرے گا۔ دبئی میں بھٹو کا خاندان یہ سب کچھ ٹی وی پر دیکھ رہا تھا۔ زرداری نے کہا کہ ہم سب جان چکے تھے کہ کچھ ہو گیا ہے‘ میں نے کہا کہ طیارے کا بندوبست کرو جب میں دوبارہ کمرے میں آیا تو ٹی وی پر چل رہا تھا کہ وہ انتقال کر چکی ہیں‘ ان کی میت پلائی وڈ کے تابوت میں رکھی گئی اور قریبی چکلالہ ایئر بیس پر لے جائی گئی‘ رات ایک بجے گھر والے پہنچ گئے اور میت لے کر موہنجوداڑو کے لئے پرواز کی تاکہ نوڈیرولے جایا جا سکے۔ 30 دسمبر کو ان کی وفات کے صرف 3 دن بعد زرداری نے پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کال کی‘ انہوں نے اپنے بیٹے بلاول کو ہاتھ سے لکھا ہوا ایک خط پڑھنے کے لئے کہا اس پر لکھا تھا ”میں چاہتی ہوں کہ اس عبوری دور میں میرے شوہر آصف زرداری آپ کی رہنمائی کریں تاوقتیکہ آپ اور وہ یہ فیصلہ کر لیں کہ بہتر کیا ہے میں یہ اس لئے کہہ رہی ہوں کہ وہ جرأتمند اور قابل احترام شخص ہیں“۔ زرداری نے مجھے بعد میں بتایا کہ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ (بے نظیر بھٹو) ایسی وصیت لکھے گی اس دن جب بے نظیر کی باقیات نوڈیرو دلائی گئیں۔ ایک شخص دبئی سے آیا اور کہا ”میرے پاس ایک دستاویز ہے جو میڈم نے دی تھی“ انہوں نے بتایا کہ وہ اس شخص کو نہیں جانتے تھے اس پر 16 اکتوبر کی تاریخ درج تھی یعنی ان کی پاکستان واپسی سے دو روز قبل زرداری نے بتایا کہ اسی روز انہیں واپس نہ جانے کا کہا گیا تھا اور بے نظیر نے مشرف کو مخصوص لوگوں سے خطرے کے حوالے سے خط لکھا تھا۔ صدمے میں گھرے ہوئے پارٹی ارکان نے وصیت پر کوئی سوال نہیں اٹھایا بعد میں امین فہیم جو کہ پارٹی کے سابق سربراہ ہیں نے بتایا وہ حیران ہو گئے کہ بے نظیر نے پارٹی زرداری کے حوالے کر دی ہے۔ زرداری پاکستان میں مبینہ کرپشن کے باعث مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے مشہور ہیں اور بھٹو کی دونوں حکومتوں کے خاتمے کے بڑی حد تک ذمہ دار بھی سمجھے جاتے ہیں۔ غم میں گھری ہوئی ناہید خان بھی حیرت سے گنگ رہ گئی تھیں۔ دوسری طرف اسلام آباد میں مشرف حکومت پریشانی سے دوچار تھی۔ واقعے کے ایک گھنٹے کے اندر اندر ہی جگہ کو پانی کے بڑے بڑے پائپوں سے دھو دیا گیا اور تقریباً تمام شواہد مٹا دےئے گئے اس وقت کے راولپنڈی پولیس کے سربراہ سعود عزیز نے کہا کہ انہوں نے پرویز مشرف کے ایک قریبی ساتھی کے فون پر یہ احکامات دےئے تھے جبکہ وزارت داخلہ نے کہا کہ وہ متفکر تھے کہ گدھ جسموں کے اعضاء نوچنا نہ شروع کر دیں۔ یہ امر اس بات سے کھلا تضاد رکھتا ہے کہ پرویز مشرف پر حملے کی دو کوششوں کے بعد اسی شہر میں ان جگہوں کو کئی ہفتوں تک سیل رکھا گیا تھا‘ ملک میں انتشار کی کیفیت تھی‘ بے نظیر کے قاتل کا نام اور موت کی وجہ بتانے میں نامناسب عجلت اختیار کی گئی‘ 28 دسمبر کو شام 5 بجے جب ان کی وفات کو 24 گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈیئر جاوید اقبال چیمہ نے پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے بتایا کہ ہسپتال رپورٹ کے مطابق بھٹو کی موت سن روف گاڑی کے لیور لگنے کے باعث ہوئی اور گولی یا دھات سے زخم کا کوئی نشان نہیں پایا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انٹیلی جنس اداروں نے بیت اللہ محسود کی ایک فون کال پکڑی ہے جو ثابت کرتی ہے کہ وہی اس میں ملوث ہے اس کی ٹرانسکرپٹ بعد میں فراہم کر دی گئی مگر وہ آڈیو ٹیپ نہیں تھی ایک ہفتے بعد مجھ سمیت صحافیوں کو ان کے متعلقہ سفارتخانوں میں بلایا گیا اور بتایا گیا کہ ایم آئی سکس اور سی آئی اے نے ٹرانسکرپٹ کی تصدیق کی ہے اور اس بات پر مان گئے ہیں کہ حملہ بیت اللہ نے ہی کرایا تھا۔ سابق پاکستانی کرکٹر اور سیاست دان عمران خان یہ ماننے پر تیار نہیں ”واقعہ کے ایک دن بعد انہوں نے بیت اللہ کی ایک ٹیپ جاری کی جس میں کہا گیا ”میں یہاں بیٹھا ہوں کل میں ناشتہ کر رہا ہوں گا ویل ڈن ”لڑکو“ یہ کیا مذاق ہے۔ بھاگے ہوئے لڑکے کو پکڑا جا رہا ہے‘ کیا وہ اس طرح کی باتیں کر سکتا ہے“ بیت اللہ کا اصرار تھا کہ وہ اس میں ملوث نہیں اس نے اپنے ترجمان مولوی عمر کے ذریعے کہا ”میں اس کی سختی سے تردید کرتا ہوں‘ قبائلی لوگوں کی اپنی روایات ہیں‘ وہ کبھی عورتوں پر حملہ نہیں کرتے“ القاعدہ اور طالبان کی کئی سالہ رپورٹنگ کے دوران میں نے ایک دفعہ بھی نہیں دیکھا کہ انہوں نے کسی چیز کی ذمہ داری قبول نہ کی ہو‘ مزید یہ کہ بھٹو نے مجھے بتایا تھا کہ کراچی حملے کے بعد بیت اللہ نے مجھے پیغام بھیجا تھا کہ ”اپنے دشمن کو پہچانو‘ میں تمہارا دشمن نہیں‘ اسی دوران ایک فوٹیج بھی جاری ہوئی جس میں ایک کلین شیو شخص جس نے گہرے رنگ کا چشمہ لگایا ہوا ہے واضح طور پر 3 گولیاں چلاتے ہوئے نظر آتا ہے۔ بے نظیر کے علاوہ جاں بحق ہونے والے دیگر 22 افراد کے ورثا نے بتایا کہ ان کے جسموں پر گولیوں کے نشان تھے۔ لیکن ان میں سے کسی کا پوسٹ مارٹم نہ کرایا گیا۔ کرسٹینا لیمب نے لکھا کہ میں نے کراچی میں اپنی تحقیقات کا آغاز کیا کیونکہ میرا خیال تھا کہ جس نے 18 اکتوبر 2007ء کو بی بی کے قتل کی کوشش کی غالباً وہی شخص ہے جو بالآخر اپنے مقصد میں کامیاب ہوا۔ برطانوی صحافی نے لکھا کہ مجھے یہ جان کر سخت حیرانی ہوئی کہ اس خوفناک دھماکے کی کوئی باقاعدہ تحقیقات نہیں کی جارہی۔ اس دھماکے میں جاں بحق ہونے والے ایک نوجوان کے والد محمد یونس نے کہا کہ ”میرے لئے یہ بات ناقابل قبول ہے کہ حکومت بے نظیر کی موت کی تحقیقات نہیں کررہی۔ میرا بیٹا تو عام شخص تھا لیکن بی بی بڑی لیڈر تھیں“۔ اس نے مزید کہاکہ ”زرداری بی بی کی جگہ نہیں لے سکتے“۔ کرسٹینا نے فاطمہ بھٹو اور غنویٰ بھٹو سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ ”انہیں یقین تھا کہ مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے احکامات اوپر سے آئے تھے۔ انہوں نے زرداری اور مرتضیٰ کے درمیان اختلافات کا بھی ذکر کیا۔ فاطمہ بھٹو کے حوالے سے برطانوی صحافی نے مزید لکھا کہ مرتضیٰ قتل کیس کے 18 ملزم پولیس افسران گزشتہ دسمبر میں رہا کردئیے گئے اور شعیب سڈل کو آئی بی کا سربراہ بنایا گیا۔ فاطمہ نے کہا کہ اس کیس میں زرداری کے وکیل کو اٹارنی جنرل بنادیا گیا ہے۔ کرسٹینا لیمب نے لکھا کہ مرتضیٰ بھٹو کے قتل کی طرح بے نظیر کے قتل کے بعد بھی کسی کو ملازمت سے فارغ نہیں کیاگیا حالانکہ سکیورٹی میں غفلت اور تفتیش میں ناکامی کی واضح نشاندہی ہوچکی ہے۔ کرسٹینا نے لکھا کہ جب بے نظیر کے چیف سکیورٹی آفیسر رحمن ملک سے پوچھا کہ انہوں نے جائے وقوع کیوں چھوڑی؟ تو اس نے جواب دیا کہ میرے مخالفین بکواس کرتے ہیں۔ میں کوئی سکیورٹی افسر نہیں تھا کہ میں وہاں ہوتا۔ میں کوئی گن مین یا گارڈ نہیں ہوں“۔ اسی طرح کمال شاہ اپنے عہدے پر برقرار رہا اور سعود عزیز کو وزیر اعظم کے حلقے میں تعینات کردیا گیا۔ بے نظیر کے محافظ خالد شہنشاہ جو بی بی کے قتل کے روز ان کی گاڑی میں تھا کا قتل بھی ایک معمہ ہے۔ کرسٹینا نے خالد کے دوست محمد یاور کے حوالے سے بتایا کہ خالد امریکا میں ایک سٹور چلاتا تھا اور اس کا زرداری سے رابطہ تھا۔ خالد کا بی بی سے تعارف اس وقت ہوا جب اس کے دورے پر اس نے اس کی گاڑی چلائی۔ یاور نے بتایا کہ ”اس قتل کی بھی کوئی تحقیقات نہیں ہوئیں‘ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ بی بی کے قتل کے بارے میں جانتا ہوگا“۔ یاور نے مزید بتایا کہ ”خالد نے ہمیشہ یہی کہا کہ بی بی کو گولی ماری گئی ‘لیکن میں اسے پسند نہیں کرتا۔ میں نے پی پی کو چھوڑ دیا“۔ برطانوی صحافی نے مزید لکھا کہ جب میں بی بی کی جائے شہادت لیاقت باغ گئی اور وہاں تصاویر لیں تو پولیس اہلکاروں نے روکنے کی کوشش کی اور مجھے وہاں سے چلے جانے کو کہا اور میری گاڑی کا نمبر نوٹ کرلیا جس پر ڈرائیور نے مجھے مزید کہیں اور لے جانے سے انکار کردیا۔ کرسٹینا نے لکھا کہ جب میں نے راولپنڈی پولیس سربراہ راؤ اقبال سے کسی واقعہ کے بعد پولیس کے طریقہ کار کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ تمام شواہد کے جمع کئے جانے کے بعد جائے وقوع کو کھولا جاتا ہے۔ لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ بی بی کے قتل کے بعد ایسا کیوں نہ ہوا تو انہوں نے کہا کہ ”حکم ہوسکتا ہے سعود عزیز نے دیا ہو لیکن جگہ کو دھونے کے احکامات حکومتی ایجنسی کے تھے ایک پولیس افسر کے نہیں تھے“ انہوں نے مزید کہا کہ ”میرے خیال میں جگہ کو دھویا نہیں جانا چاہئے تھا“۔ کرسٹینا نے لکھا کہ جائے وقوع سے صرف 23 شواہد اکٹھے کئے گئے حالانکہ وہاں سے ہزاروں شواہد مل سکتے تھے۔ پولیس نے 5مشکوک افراد کو پکڑا جبکہ 5 کو پکڑنے کا منصوبہ ہے۔ ان کو یقین ہے کہ ان کو مدرسوں سے بھرتی کیا گیا اور بی بی کے قتل کا ٹارگٹ دیا گیا لیکن ان سب سے کوئی بھی اس بات میں دلچسپی نہیں رکھتا کہ یہ معلوم کیا جائے انہیں بھیجا کس نے تھا۔ کرسٹینا نے لکھا ہے کہ شواہد کے بغیر اس بات کا تعین کرنا بہت مشکل ہے کہ بی بی کی موت کس طرح ہوئی۔ تاہم ان کی گاڑی میں موجود ہر شخص کا اس بات پر اصرار ہے کہ وہ دھماکے سے قبل گر گئی تھیں۔ کرسٹینا نے مزید لکھا کہ کوشش کے باوجود پروفیسر ڈاکٹر مصدق سے رابطہ نہ ہوا تاہم دیگر ڈاکٹرز نے بتایا کہ ”ہمارا اصل مسئلہ ان کی زندگی بچانا تھا یہ نہیں تھا کہ زخم کیسے ہوا کیونکہ ایسا پوسٹ مارٹم میں ہوتا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ بی بی کو گولی ماری گئی۔ ہسپتال بورڈ کے رکن اطہر من اللہ نے بتایا کہ ”ڈاکٹر بہت زیادہ پریشان تھے کیونکہ وہ بی بی بچا نہ سکے۔ انہوں نے پولیس چیف کو 3 مرتبہ بتایا کہ پوسٹ مارٹم کی ضرورت ہے لیکن وہ کسی اور کے ساتھ مسلسل فون پر مصروف تھے اور پوسٹ مارٹم کرنے سے روک دیا۔ حالانکہ قانون کی رو سے یہ لازم تھا“۔ کرسٹینا نے لکھا کہ اگر اس بات کا تعین نہ ہوسکا کہ بی بی کی موت کس طرح ہوئی تو اس بات کا امکان نہیں کہ قاتل کو تلاش کیا جاسکے گا۔ کرسٹینا لیمب نے بی بی کے قریبی ساتھی بشیر ریاض کے حوالے سے لکھا کہ ”وہ جنوبی ایشیائی روایات کے تحت پارٹی کو اپنے گھر میں ہی رکھنا چاہتی تھیں“۔ مشیر نے مزید کہا کہ ”لیکن یہ بات حیران کن ہے کہ زرداری کے صدر ہوتے ہوئے تحقیقات شروع نہیں کی گئیں“۔ کرسٹینا نے لکھا کہ جب میں نے یہی سوال صدر زرداری سے کیا تو انہوں نے کہا کہ ” بی بی اتنی بڑی لیڈر تھیں کہ ان کیلئے ایک آزاد‘ شفاف اور شک و شبہ سے بالا تر تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ جانبداری کا الزام نہ آسکے اور کام ہمارے لئے بہت بڑا ہے۔ کرسٹینا نے لکھا کہ صدر زرداری نے بینظیرکی فریم شدہ وصیت دکھائی۔ زرداری نے کہا کہ ”یہ سب کچھ ہمارے لئے غیر متوقع تھا جس کسی نے بھی بی بی کو قتل کیا وہ چاہتا تھا کہ بی بی کے بغیر پی پی کمزور ہوجائے۔ اس کا خیال تھا کہ اس طرح وہ اپنی خواہش پوری کرلیں گے“۔ کرسٹینا نے لکھا کہ صدر نے کہا کہ ”میں نہیں چاہتا کہ بی بی کی موت کا انتقام لینے کیلئے محض 9 افراد کو پھانسی دیدی جائے بلکہ ان کی موت کا ذمہ دار پورا نظام ہے۔ ان کا انتقام یہی ہے کہ ہم سنگا پور کی طرح خوشحال ہو جائیں ۔کرسٹینا کے مطابق وزیر داخلہ رحمن ملک بتایا کہ ”ہم اپنی تحقیقات کررہے ہیں اور جلد اس کی رپورٹ جاری کریں گے ہمیں ایک شخص کی تلاش ہے پھر اس طرح یہ سرکل مکمل ہوجائے گا“۔ کرسٹینا نے اپنی رپورٹ میں برطانوی دفتر خارجہ کے افسر جوکہ بی بی مشرف مذاکرات میں شامل تھا کے حوالے سے لکھا کہ ”شاید ہم نے ہی بی بی کی پیشانی پر گولی کا نشان لگایا تھا“۔ اقوام متحدہ کے افغانستان میں نمائندے پیٹر گلبرائتھ نے کہا کہ انکے تمام دوستوں نے انہیں (بی بی کو) واپس پاکستان جانے سے روکا تھا میں نے بھی کہا کہ تم دو مرتبہ وزیراعظم بن چکی پھر اب کیا ضرورت ہے“۔
روزنامہ جنگ کی خبر 3 مئی 2010
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,222 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|