|
بے نظیر کے خط کے مطابق مقدمہ درج کیا گیا تو اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم سے تعاون کریں گے، پیپلز پارٹی

06-01-08, 07:01 AM
کراچی (اسٹاف رپورٹر) پیپلزپارٹی کی شہید چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کے سیکورٹی ایڈوائزر رحمن اے ملک نے کہا ہے کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد حکومت اور ہمارے سیاسی مخالفین غلط افواہیں پھیلا کر اور پروپیگنڈہ کرکے سانحہ کی تحقیقات میں مسائل پیدا کررہے ہیں۔ سانحہ 27/ دسمبر میں مجھے، خالد شہنشاہ اور دیگر پارٹی ورکروں کو ملوث کرنا ان کی گھناؤنی سازش ہے، بے نظیر بھٹو کی سیکورٹی کی تمام تر ذمہ داری وفاقی حکومت کی تھی اور وہ اس نے پوری نہیں کی ، میں بے نظیر بھٹو کا سیکورٹی ایڈوائزر تھا اور میری ذمہ داری حکومت اور بے نظیر کے درمیان سیکورٹی کے معاملات طے کرانا تھا جبکہ چیف سیکورٹی آفیسر حاضر سروس پولیس کے ایس ایس پی میجر امتیاز تھے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کی شام بلاول ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ رحمن اے ملک نے کہا کہ 27/ دسمبر کو لیاقت باغ کے جلسہ کے موقع پر ہمیں جیمرز فراہم نہیں کئے گئے تھے اور سیکورٹی پر متعین پولیس کی نفری کو بھی کم کردیا گیا تھا جس کی تحقیقات کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بے نظیر بھٹو کی وطن آمد سے قبل اور شہادت تک کئی مرتبہ سیکورٹی کے حوا لے سے متعلقہ حکام کو بار بار خطوط لکھے تاہم ہمیں ممکنہ سیکورٹی فراہم نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ والے دن بھی جیمرز کی عدم فراہمی پر آئی جی پولیس پنجاب اور چیف سیکریٹری سمیت وفاقی سیکریٹری داخلہ سے رابطہ کیا تھا اور انہوں نے اس کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی تاہم فراہمی عمل میں نہ آئی۔ انہوں نے کہا کہ لیاقت باغ جلسہ کے اختتام سے قبل میں نے وہاں موجود ایس ایس پی فاروق یاسین سے نفری کی تعیناتی کی کمی سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ (ق) لیگ اور (ن) لیگ کے تصادم کے دوران ہلاکتوں کے باعث کچھ نفری وہا ں بھیج دی گئی ہے۔ رحمان ملک نے کہا کہ بے نظیر بھٹو سابق وزیر اعظم تھیں اور سیکورٹی بھی سابق وزیر اعظم شوکت عزیز اور چوہدری شجاعت کی طرح وی آئی پی ہونی چاہئے تھی، تاہم جب ہم جلسہ گاہ کی طرف جارہے تھے تو سڑک کے دونوں اطراف عوام موجود تھے مگر سیکورٹی کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ اب بھی محترمہ کے بعد پارٹی کے نئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے سیکیورٹی آفیسر ہیں،جو آج (ہفتہ)کو اپنے بچوں کو لندن الوداع کرنے کے لئے دبئی گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں اور آصف علی زرداری بھی دبئی آتے جاتے رہیں گے۔ انہوں نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ سانحہ لیاقت باغ کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرائی جائے، اسکاٹ لینڈ کی ٹیم کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہیں حکومت پاکستان نے اپنی مدد کے لئے بلایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکاٹ لینڈ کی ٹیم نے ابھی تک ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا، اسپتال میں عدم موجودگی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ سانحہ کے فوراً بعد اسپتال پہنچ گئے تھے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|