|
تاجکستان سے بجلی کی درآمد کامنصوبہ نیپرا ایکٹ کی خلاف ورزی ہے

02-03-11, 04:26 AM
اسلام آباد( خالد مصطفی) تاجکستان سے ایک ہزار میگا واٹ بجلی کی درآمد کا منصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا کیونکہ یہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی( نیپرا) ایکٹ کی صریحاً خلاف ورزی ہے جس میں واضح طورپر یہ کہاگیا ہے کہ نیشنل گرڈ کمپنی ملک بھر کے صارفین کو بجلی کی محفوظ اور قابل بھروسہ سپلائی یقینی بنانے کی پابند ہے اورایسی ٹرانسمیشن لائن جوجنگ زدہ ملک افغانستان سے گزرے گی سیکورٹی خطرات کے باعث قابل بھروسہ نہیں ہوگی ۔بجلی کے ممتازماہرارشد ایچ عباسی کی ایس ڈی پی آئی کےلئے بنائی گئی جائزہ رپورٹ کے مطابق شدید خطرات کے باعث تاجکستان کے راستے بجلی کی قابل بھروسہ اور مسلسل فراہمی ممکن نہیں ہے ۔لہٰذابجلی کی درآمد نیپرا ایکٹ کی خلاف ورزی کے مترادف ہوگا جائزہ رپورٹ میں مزید کہاگیا ہے کہ پاکستانی حکام نے 2004 ءمیں تاجکستان سے وافان کے راستے بجلی کی درآمد کےلئے دلچسپی کااظہار کرکے نیپرا ایکٹ کی خلاف ورزی کی ۔ تاجکستان کے روگن ہائیڈرو پاوراسٹیشن سے ساڑھے 6 سو کلومیٹر ٹرانسمیشن لائن کے ذریعے ہرسال 5.5 ارب یونٹ بجلی 4 سے 5 سینٹ فی یونٹ کے حساب سے خریدی جائے گی اورٹرانسمیشن کے دوران ہونی والے لائن لاسز بھی پاکستان کوبرداشت کرناہوں گے تاجکستان سے آنیوالی مجوزہ ٹرانسمیشن لائن کا 430 کلومیٹر حصہ افغانستان سے گزرے گانیپرا اوروزارت پانی وبجلی اس جنگ زدہ ملک میں ٹرانسمیشن لائن کے تحفظ کےلئے کرے گی ۔ خوش قسمتی سے اس منصوبے پرکام کاآغازاب تک نہ ہوسکا کیونکہ فروری 2007 ءمیں روس نے ردگن ڈیم کی تکمیل میں تاجکستان کے ساتھ شراکت پرآمادگی ظاہر کی تھی لیکن بعدازاں بعض معاملات پراختلافات کے باعث اس سے کنارہ کش ہوگیا۔بعدازاں تاجکستان نے اس ڈیم کومکمل کرنے کےلئے بنیادی پبلک پیشکش طلب کیں اور اپریل 2010 ءتک تاجک حکومت صرف 1.84 ملین ڈالر ہی اکٹھے کرپائی جو اس ڈیم کی تعمیر کے دوسالہ اخراجات کےلئے کافی ہوں گے اسٹڈی پورٹ میں مزید کہاگیا ہے کہ نیپرا غالباً تین ہائیڈرو پاور پراجیکٹس پرکوئی توجہ نہیں دے رہا جن میں 740 میگاواٹ کامنڈا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ‘400 میگاواٹ کا کلنگی پراجیکٹ اور175 میگاواٹ کا خزانہ پراجیکٹ شامل ہے یہ تمام منصوبے خیبرپشتونخوا میں بننے ہیں ۔ ان منصوبوں کی تجویز جنگ سے تباہ حال اورپسماندہ علاقے فاٹا کے اقتصادی حالات بدلنے کےلئے کی گئی تھی ان کی تکمیل سے نہ صرف مستقبل میں پاکستان میں سیلاب کی صورتحال پرقابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ ان سے سستی بجلی بھی حاصل ہوگی ۔بدلتے موسمی حالات میں جن جگہوں پر ان منصوبوں کی نشاندہی کی گئی ہے وہاں یہ نہ صرف قابل عمل ہیں بلکہ ان سے کالا باغ‘ تونہ ‘گدو‘ سکھر ‘ کوٹری ‘جناح اور چشمہ بیراجوں کوغیرمعمولی سیلاب سے بچانے میں مددملے گی ایکٹ میں تمام ترباتوں کا ذکر ہونے کے باوجود نیپرا نے ان پر سرگرمی سے عمل نہیں کیا اورحالیہ سیلاب میں توقع کی جارہی تھی کہ اتھارٹی اس کانوٹس لے گی اوروزارت پانی وبجلی کوان کی تعمیر کامشورہ دے گی لیکن ایسانہیں ہوا اوریہ اقدام نیپرا انتظامیہ کی لاپرواہی ظاہر کرتاہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,222 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|