واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


تاریخی بابری مسجد کاہندو فیصلہ سنادیا گیا مسجد کی اراضی تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-09-10, 06:48 PM   #1
تاریخی بابری مسجد کاہندو فیصلہ سنادیا گیا مسجد کی اراضی تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ
جاویداسد جاویداسد آف لائن ہے 30-09-10, 06:48 PM

30 ستمبر 2010
الہٰ آباد ( مانیٹرنگ ڈ یسک ) سیکولر بھارت کی الہٰ آباد ہائیکورٹ نے تاریخی بابری مسجد کیس میں بھارتی فیصلہ جاری کردیاہے اور کہا ہے کہ یہ بات ثابت نہیں سکا کہ یہ مسجد بابر نے تعمیر کی تھی اور ایک بار پھر بھارت میں ثابت کیا گیا ہے کہ وہاں کی اقلیت کو بنیادی اور مذہبی حقوق حاصل نہیں ہیں اور انتہا پسندوں کی من مانی ہی اہم ہے ۔ فیصلے کے مطابق بابری مسجد کی ملکیت کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے جس کے مطابق ایک حصہ ہندوئوں، ایک مسلمانوں اور ایک حصہ وفاق کے پاس رہے گا۔ یہ فیصلہ ہائیکورٹ کے تین ججوں کے بنچ نے سنایا ہے جو جسٹس دھرم ویر شرما، جسٹس ایس یو خاں اور جسٹس ایس اگروال پر مشتمل تھا ۔ فیصلے سے قبل سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے یہاں تک کہ میڈیا کو بھی عدالت نہیں جانے دیا گیا اور انہیں بھی فیصلے کی نقل فراہم کی گئی جبکہ یہ فیصلہ دنیا بھر میں بریکنگ نیوز کے طور پر نشر ہوا ۔ جس کے بعد نعرے گونجنا شروع ہوگئے
__________________
جاویداسد

 
جاویداسد's Avatar
جاویداسد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
شکریہ: 2,418
1,903 مراسلہ میں 5,667 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 240
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے جاویداسد کا شکریہ ادا کیا
aqeel64 (30-09-10), shafresha (30-09-10), فرحان دانش (30-09-10), مرزا عامر (30-09-10), حیدر (01-10-10), عبدالقدوس (01-10-10), عروج (12-12-10)
پرانا 30-09-10, 06:51 PM   #2
Senior Member
 
جاویداسد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
کمائي: 49,240
شکریہ: 2,418
1,903 مراسلہ میں 5,667 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default روزنامہ جنگ نے اس کو اس طرح ریکارڈ کیا ہے

الہ آباد…بھارت کی الہ آباد ہائی کورٹ بابری مسجد زمین کی ملکیت کے تنازع کے حوالے سے سنی سینٹرل وقف بورڈ کی درخواست خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ بابری مسجد اراضی وفاق کی ملکیت رہے گی اور اس تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔ الہ آباد کی ہائی کورٹ کے تین رکنی لکھنو بینچ نے سنی سینٹرل وقف بورڈ اور آکھیل بھارت ہندو مہاسبھا کے درمیان 2.7 ایکڑ زمین کے تنازع کے فیصلے کی تفصیلات سے وکلاء نے صحافیوں کو آگاہ کیا۔فیصلے کے مطابق زمین کی ملکیت کے حوالے سے سنی سینٹرل وقف بورڈ کی درخواست کو 2-1کی اکثریت سے خارج کردیا ہے، جبکہ فیصلے سنانے والے جج ریٹائر ہوگئے ہیں۔ علاوہ ازیں بھارتی کابینہ کی سکیورٹی کابینہ کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا ہے۔ 6 دسمبر1992 کو بابری مسجد کو شہید کیاگیا تھا،بابری مسجد اور رام مندر کے اس تنازعے کی وجہ سے ماضی میں بھارت میں خونیں فسادات ہوچکے ہیں جن میں ہزاروں افراد زخمی و ہلاک ہوئے تھے۔ عدالتی فیصلے کے بعد ممکنہ فسادات روکنے کے لیے مختلف علاقوں میں سکیورٹی کے سخت اقدامات کئے گئے ہیں،بھارتی ریاست اتر پردیش میں انتظامیہ نے19علاقوں کو حساس قرار دیتے ہوئے ایک لاکھ نوے ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں۔اس کے علاوہ فیصلہ پر ممکنہ فسادات کا مقابلہ کرنے کے لئے بھارتی فضائیہ فوجیوں کو متاثرہ علاقے میں منتقل کرنے کے لیے تیار رہے گی۔اس کے علاوہ ایس ایم ایس بھیجنے پر پابندی عائد ہے جبکہ دہلی اور حیدرآباد دکن میں ڈبل سواری اور مختلف علاقوں میں پارکنگ پر پابندی ہے۔فسادات کے خطرے کے پیش نظر مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد خاص طور پر اداکاروں نے عوام سے پرامن رہنے کی درخواست کی ہے
جاویداسد آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے جاویداسد کا شکریہ ادا کیا
aqeel64 (30-09-10), shafresha (30-09-10), مرزا عامر (30-09-10), حیدر (01-10-10), عروج (12-12-10)
پرانا 30-09-10, 06:54 PM   #3
Senior Member
 
جاویداسد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
کمائي: 49,240
شکریہ: 2,418
1,903 مراسلہ میں 5,667 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default بابری مسجد تنازعہ کا تاریخی پس منظر

ایودھیا… بابری مسجد رام مندر تنازع500 سال قدیم بابری مسجد کی ملکیت کے حوالے مختلف عدالتوں میں تقریباً ساٹھ سال کا سفر مکمل کر چکا ہے، بابری مسجد کی 1853 میں تعمیر کے بعد ہی انتہاپسند ہندؤں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا، مگر اس تنازع نے شدت اس وقت اختیار کرلی جب دسمبر 1949 میں انتہاپسندوں ہندؤں نے رات کے وقت بابری مسجد میں مورتیاں رکھ دیں جس کے بعد مسلمانوں اور ہندؤں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ حکومت نے اس مسجد کی جگہ کو متنازع قرار دے کر بندکروادیا، جب کہ مقامی مسجد کی جانب سے بابری مسجد میں مورتیاں رکھنے کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ بابری مسجد کیس کی سماعت پہلے ایودھیا کے ضلع فیض آباد کی عدالت میں ہورہی تھی، لیکن1989 میں ہائی کورٹ نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا اور گزشتہ 21 برسوں سے الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو بینچ اس کیس کی سماعت کررہی تھی جو تین ججز پر مشتمل ہے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران کئی جج ریٹائر اور کئی کے تبادلے بھی ہوئے۔ مقدمے کے دوران ہی انتہاپسند ہندو تنظیموں نے بابری مسجد کے خلاف مہم چلائی اور بالآخر 6 دسمبر 1992 میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور وشوا ہندو پریشد کے رہنماؤں کی موجودگی میں ہزاروں انتہاپسندو ہندوں نے بابری مسجد کو شہید کردیا، اس حوالے سے مجرمانہ مقدمہ کی سماعت ایک دوسری عدالت میں چل رہی ہے۔ بابری مسجد کی شہاد ت کے بعد بھارت میں مذہبی فسادات شروع ہوگئے جس میں تقریباً2000 مسلمان جاں بحق ہوئے تھے،عدالت میں وکیل استغاثہ کی جانب سے سب سے پہلے مقامی پولیس اہلکار کو گواہی کے لیے پیش کیا گیا جس نے انتہا پسند ہندؤں کے خلاف گواہی دی اور مقدمات درج کروائے گئے ۔مسجد شہید کرنے کے بعد مرکزی تفتیشی بیورو سی بی آئی نے1993 میں بی جے پی کے سینئر لیڈر ایل کے ایڈوانی، سابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ سمیت49افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا، لیکن ہائی کورٹ نے تکنیکی بنیاد پر بی جے پی رہنما ایل کے ایڈوانی، اشوک سنگھل، کلیان سنگھ اور شو سینا کے بال ٹھاکرے کے خلاف مقدمہ ختم کرنے کا حکم دیا تھا ۔بابری مسجد کی شہادت کے دس روز بعدہی حکومت کی جانب سے ایک انکوائری کمیشن بھی قائم کیا گیا تھا، جس کو تین ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی لیکن کمیشن کی درخواست پر48مرتبہ اس کی مدت میں توسیع کی گئی۔ انکوائری کے دوران بی جے پی کے سینئر رہنما لال کرشن ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اس وقت کے اترپردیش کے وزیراعلیٰ کلیان سنگھ سمیت دیگر افراد بھی ریٹائرڈ جسٹس ایم ایس لیبرہان کے سامنے پیش ہوئے۔کمیشن میں متعدد مرتبہ توسیع دیے جانے کے باعث لیبرہان کمیشن کافی عرصے سے تنازعات کا شکار رہی اور بالاخر17 سال بعد جسٹس لیبرہان نے30 جون2009 کو رپورٹ بھارتی وزیراعظم کو پیش کردی اور یہ رپورٹ نومبر2009 کو بھارتی پارلیمنٹ میں پیش کی گئی۔ دوسری جانب بابری مسجد کی عدالتی کاروائی بھی جاری تھی اور اپریل2002 سے الہ آباد ہائی کورٹ نے متنازع زمین کے حق ملکیت سے متعلق مقدموں کی سماعت شروع کی اور عدالت نے ماہرین آثار قدیمہ کو حکم دیا کہ یہ پتہ لگایا جائے کہ متازع جگہ پررام کا مندر تھا یا نہیں ،جس پر اگست2003میں ماہرین آثار قدیمہ نے کہا کہ انہیں مندر کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں لیکن مسلمانوں نے اس کو مسترد کردیا۔ مقدمے کے دوران ہندؤں کی جانب سے54 گواہ پیش کیے گئے جبکہ مسلمانوں کی جانب سے34 گواہ پیش ہوئے، جب کہ دونوں فریقین کی جانب سے15 ہزار صفحات پر مشتمل دستاویزات بھی پیش کیے گئے اور بالآخر بھارتی ہائی کورٹ نے جولائی2010 کو بابری مسجد کا فیصلہ محفوط کرلیا اور اس پرانے تنازع کے حل کے لیے 24 ستمبر کو فیصلہ سنائے جانے کا اعلان کیا گیا، اسی دوران عدالت میں فیصلے کو موخر کرنے کی درخواست کی گئی دائر کی گئی مگرالہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے درخواست کو مسترد کردیا، جس کے بعد بھارتی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی سپریم کورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے کیس کا فیصلہ ایک ہفتے کے لئے موخر کرنے کے احکامات جاری کردیے اوردرخواست کی سماعت28 ستمبرتک ملتوی کردی۔ 28 ستمبر کے دن بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کافیصلہ ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کو فیصلہ سنانے کے احکامات جاری کردیے۔

حکومت کی جانب سے مسجد کی شہادت کے دس روز بعد ایک کمیشن قائم کی گئی جس نے سترہ سال بعد اپنی رپورٹ بھارتی وزیراعظم کو پیش کی ، بھارتی اخبار کے مطابق کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مسجد کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت شہید کیا گیا۔جس میں انتہاپسند ہندوتنظیم آرایس ایس، سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی سمیت دیگر افراد شامل تھے۔چھ دسمبر انیس سو بانوے کو ہندو انتہاپسندوں کے ہاتھوں بابری مسجد کو شہید کرنے کے دس روز بعد ایک انکوائری کمیشن قائم کی گئی، جس کی سربراہی جسٹس ریٹائرڈ لبراہان کررہے تھے۔کمیشن کو تین ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تھی مگر کمیشن کی درخواست پر اڑتالیس مرتبہ اس کی معیاد کی مدت میں توسیع کی گئی۔ کیمشن کی انکوائری کے دوران بی جے پی کے سینیر رہنما لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اس وقت کے اترپردیش کے وزیراعلیٰ کلیان سنگھ سمیت دیگر افراد بھی ریٹائرڈ جسٹس ایم ایس لیبرہان کے سامنے پیش ہوئے۔کمیشن میں متعدد مرتبہ توسیع دیے جانے کے باعث لیبرہان کمیشن کافی عرصے سے تنازعات کا شکار رہی۔اور بالاخر 17 سال بعد جسٹس لیبرہان نے تیس جون 2009 کو رپورٹ بھارتی وزیراعظم کو پیش کردی۔اور رپورٹ نومبر 2009 میں بھارتی پارلیمنٹ میں پیش کی گئی۔انڈین ایکسپریس اخبار نے اس رپورٹ کے بعض اقتسبات شائع کیے تھے، اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بابری مسجد کا انہدام منصوبہ بندی اور بہت سوچ سمجھ کرکیاگیا، جس کے لیے بڑے پیمانے پر تیاریاں بھی کی گئیں۔۔جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب مسجد گرائی جارہی تھی تو وہاں اس کے لیے آلات اور ساز وسامان موجود تھا،اخباری رپورٹ کے مطابق مسجدکو مسمار کرنے میں ہندو انتہاپسند تنظیم آر ایس ایس کا ہاتھ تھا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اٹل بہاری واجپئی، ایل کے ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی سمیت دیگر اس سازش میں شامل تھے۔
جاویداسد آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے جاویداسد کا شکریہ ادا کیا
aqeel64 (30-09-10), shafresha (30-09-10), مرزا عامر (30-09-10), حیدر (01-10-10), عروج (12-12-10)
پرانا 30-09-10, 08:55 PM   #4
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,976
کمائي: 48,900
شکریہ: 7,289
5,957 مراسلہ میں 15,121 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میرے خیال سے فیصلہ اچھا ہوا ہے یہی ہونا چاہیے تھا کم از کام دنگھے تو نہیں ہونگے
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (30-09-10), نورالدین (01-10-10), مرزا عامر (30-09-10), حیدر (01-10-10), عبدالقدوس (01-10-10), عروج (12-12-10)
پرانا 30-09-10, 10:59 PM   #5
Member
اجنبی
 
aqeel64's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: Bijnor India
مراسلات: 41
کمائي: 1,000
شکریہ: 208
31 مراسلہ میں 74 بارشکریہ ادا کیا گیا
aqeel64 کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں aqeel64 کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Exclamation Ahmiyat

Very nice. India ke musalmano ko apny ehmiyat to maloom hogaee. Is niyaik fensle se
aqeel64 آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے aqeel64 کا شکریہ ادا کیا
shafresha (01-10-10), مرزا عامر (30-09-10), حیدر (01-10-10), عبدالقدوس (01-10-10), عروج (12-12-10)
پرانا 30-09-10, 11:34 PM   #6
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,729
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,068 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
میرے خیال سے فیصلہ اچھا ہوا ہے یہی ہونا چاہیے تھا کم از کام دنگھے تو نہیں ہونگے
آپ کے اس بیان پر جذباتی جنتا آپ پر پتھروں کی بارش بھی کر سکتی ہے ۔ ۔ہو سکتا ہے تھوڑی دیر میں پتھر آنے بھی شروع ہو جائیں۔ ہیلمٹ پہن لیں
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (01-10-10), فیصل ناصر (01-10-10), فاروق سرورخان (01-10-10), حیدر (01-10-10), عبدالقدوس (01-10-10), عروج (12-12-10)
پرانا 01-10-10, 09:59 AM   #7
Senior Member
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,661
کمائي: 254,773
شکریہ: 53,117
7,705 مراسلہ میں 22,601 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یہ ایک درمیانی راہ ہے!!!
لیکن اس فیصلے سے انصاف کی موت ہوگئی ہے۔۔۔،۔۔
shafresha آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (01-10-10), حیدر (01-10-10), عروج (12-12-10)
پرانا 01-10-10, 04:51 PM   #8
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,729
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,068 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یو ٹیوب کی چھوٹی سی ویڈیو ہندی زبان میں

مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا
عروج (12-12-10)
پرانا 12-12-10, 03:18 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مسلمان اگر متحد ھو کر نہیں دکھاتے ،اور بھی انصاف کی اموات دیکھنے کی ھمتیں مجتمع کررکھئیے۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, فیصلہ, کیس, گئی, گا۔, یو, ویر, نیوز, میڈیا, مذہبی, مسلمانوں, مسجد, مطابق, بھارت, بار, ثابت, جانے, جاری, جسٹس, حصہ, دنیا, سیکولر, شروع, طور, عدالت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
حکومتی مزاج میں نشیب و فراز… سبکدوش پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے پہلے مزاحمت پھر فیصلہ قبول کرلیا گلاب خان خبریں 0 03-09-10 03:22 AM
میریٹ ہوٹل کو آئندہ تین ماہ میں تعمیر و مرمت کر کے چالو کرنے کا فیصلہ ابن جلال خبریں 1 23-09-08 01:17 PM
:::جاپانی ایوان زیر یں نے بحیرہ ہند میں امریکی جہازوں کو تیل دینے کافیصلہ کرلیا::: ابو کاشان خبریں 0 11-01-08 01:49 PM
امپائرز کا فیصلہ اٹل نہیں،کھلاڑیوں کو تین اپیلوں کا حق دے دیا گیا خرم شہزاد خرم کرکٹ 0 05-01-08 09:47 AM
اوپیک اجلاس میں تیل کی موجودہ فراہمی برقرار رکھنے کا فیصلہ خرم شہزاد خرم خبریں 0 06-12-07 09:09 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:10 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger