واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


تبدیلی کتنی ضروری ہے؟ ضروری ہے بھی یا نہیں؟ تبدیلی کا راستہ سیاستدان خود ہموار کررہے ہیں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 21-09-10, 04:34 PM   #1
تبدیلی کتنی ضروری ہے؟ ضروری ہے بھی یا نہیں؟ تبدیلی کا راستہ سیاستدان خود ہموار کررہے ہیں
جاویداسد جاویداسد آف لائن ہے 21-09-10, 04:34 PM

عوام اب جمہوریت اور آمریت کا آپس میں موازنہ کرتے ہیں کیونکہ اب عوام نے جمہوریت بھی دیکھ لی اور آمریت کا بھی متعددبار تجربہ کرچکے ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ جمہوریت ایک اچھا نظام ہے۔ اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ امریکہ' مغرب اور بعض دیگر جمہوری ملکوں نے عوام کو ڈلیور کیا ہے۔ یہ بھی تسلیم کہ اگر پاکستان میں مارشل لاء نہ آتے اور جمہوریت کو پنپنے کا موقع دیا جاتا تو آج ملکی حالات یکسر مختلف ہوتے۔
درحقیقت آج وجہ نزاع جمہوریت نہیں وہ آمرانہ روئیے ہیں جن کے تحت اس ملک اور قوم کو مکمل تباہی اور بربادی کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ نام جمہوریت کا استعمال ہو رہا ہے اور اس کی چھتری تلے عوام کا بدترین طریقے سے استحصال کیا جا رہا ہے۔ آج کی سیاسی قیادت جمہوریت سے قطعی طور پر مخلص نہیں کیونکہ یہ لوگ اگر جمہوریت سے مخلص ہوتے تو سب سے پہلے اپنی اپنی سیاسی جماعتوں میں اسے پنپنے کا موقع دیتے۔ سیاسی جماعتیں خاندانی جاگیر بنی ہوئی ہیں اور چند اجارہ دار ہاتھوں میں پوری طرح یرغمال ہیں۔
اب ہم اس اہم سوال کی جانب آتے ہیں کہ تبدیلی کتنی ضروری ہے؟ ضروری ہے بھی یا نہیں؟
اگر ہم یاد کر سکیں تو 2008ء کے انتخابات سے پہلے اور بعد میں تبدیلی کا نعرہ شد و مد کے ساتھ لگایا جاتا رہا ہے۔ اس کا مقصد عوام کو یہ باور کرانا تھا کہ مشرف کی آمریت نے ان کا بدترین طریقے سے استحصال کیا ہے اس لئے تبدیلی کے لئے ان جمہوریت پسندوں کو ووٹ دیا جائے جنہوں نے مشرف کی آمریت کو تسلیم نہیں کیا یا اس کے خلاف سینہ سپر رہے۔ تبدیلی کی بات کرنے والوں نے عوام کو طرح طرح کے سہانے خواب دکھانے شروع کر دئیے اور یوں مشرف کے ہاتھوں ستائے ہوئے عوام ان کے دام فریب میں آگئے اور اس خوش گمانی میں مبتلا ہوگئے کہ آٹھ سالوں تک جلاوطنی کاٹنے والے نواز شریف اور لگ بھگ اس سے زیادہ عرصہ دیار غیر میں جلاوطنی کا عذاب بھگتنے والی محترمہ بینظیر بھٹو مل کر جو تبدیلی لائیں گے اس سے ان کی کایا پلٹ جائے گی۔
عوام اس فیصلے پر پہنچ چکے تھے کہ اسی دوران محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا۔ نئے منظر نامے میں ان کے شوہر آصف علی زرداری کا ظہور ہوا تو انہوں نے بار بار ایک ہی بات کو دہرانا شروع کر دیا کہ محترمہ کی شہادت کا بدلہ نظام بدل کر لیں گے۔ ''پاکستان کھپے'' سے شروع ہونے والی کہانی اقتدار کے ایوانوں سے سرگوشیاں کرتی ہوئی جب اختیار و اقتدار کی آمیزش کے ساتھ ایک نئے قالب میں ڈھلی تو صدر زرداری ایک ایسی شخصیت کے طور پر ابھرے جسے اپنے وعدوں اور عہدناموں کا کوئی پاس لحاظ نہیں ہوتا۔ رفتہ رفتہ یہ بھید بھی کھلنے لگا کہ حکمرانوں کو عوام تو کیا محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل ناحق سے بھی کوئی دلچسپی نہیں۔
حکومت کاری کے لئے وزیروں اور مشیروں کی فوج بھرتی کرلی گئی کرپشن کی کہانیاں گردش کرنے لگیں۔ عدلیہ کے ساتھ ٹکرائو کی کیفیت پیدا ہوگئی اور حکومت ایسے ایسے لوگوں کا دفاع کرنے لگی جنہیں فوری طور پر فارغ کر دیا جانا چاہیے تھا۔ چہیتے اور من پسند لوگوں کو نوازا جانے لگا اور بڑے بڑے سیکنڈل سامنے آنے کے باوجود کسی ایک وزیر سے بھی استعفیٰ لیا گیا نہ اس پر اخلاقی دبائو ڈال کر اسے استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا۔ مہنگائی پر کنٹرول کرنے اور عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے بجائے مہنگائی میں اتنا خوفناک اضافہ کر دیا گیا کہ عوام کو مشرف یاد آنے لگا۔ کاروبار تباہ ہو کر رہ گیا۔ دیہاڑی دار مزدور روٹی روزی کو ترسنے لگا۔ لاکھوں لوگ بھکاری بننے پر مجبور ہوگئے۔ بجلی کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ ہونے لگا۔ بدترین لوڈشیڈنگ نے عوام اور کاروباری طبقے کا بیڑہ غرق کردیا۔ گیس کی قیمتیں بڑھائی جانے لگیں' پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ کیا جانے لگا اور یوں عوام کی قوت خرید کو بالکل ختم کرکے رکھ دیا گیا۔
ایک ہوتا ہے جرم کرنے والا اور اس کی اعانت کرنے والے کو شریک جرم کہا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو مسلم لیگ (ن) اور اس کے قائد میاں نواز شریف کو لوگ شریک جرم سمجھتے ہیں جنہوں نے ایک حیرت انگیز فلسفے کے تحت حکومت کے عوام کش فیصلوں پر یا تو خاموشی اختیار کی' یا کمزور سا احتجاج کرکے حکومت کو گویا راستہ دیدیا کہ وہ عوام پر جتنا چاہے ظلم کرلے' مسلم لیگ (ن) اس کے آڑے نہیں آئے گی۔ جس حیرت انگیز فلسفے کے تحت میاں نواز شریف نے یہ سب کچھ کیا وہ یہ تھا کہ اگر انہوں نے حکومت کے خلاف کوئی مہم یا تحریک چلائی تو کہیں پھر فوج اقتدار پر قابض نہ ہو جائے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت ان کی اس کمزوری سے واقف تھی اس لئے وہ مطمئن ہو کر عوام کش فیصلوں کے انبار لگاتی رہی۔
دوسری جانب عدلیہ بھی خاصی محتاط روی کا مظاہرہ کرتی رہی اور اسے بھی یہ دھڑکا لگا رہا کہ اگر اس کی وجہ سے پھر فوجی بغاوت ہوئی تو اس پر یہ لیبل لگ جائے گا کہ جمہوریت کی بساط الٹائے جانے کا جواز اس نے پیدا کیا تھا۔ گو یا میاں نواز شریف اور اعلیٰ عدلیہ کی یہ محتاط روی حکومت کے لئے بلینک چیک بن گئی جس میں اس نے مرضی کی رقم لکھی اور اسے کیش کرالیا۔ دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ جمہوریت کا راگ الاپنے والے سیاستدانوں نے فوج کے خطرے سے ڈرا کر عوام کا بدترین استحصال کیا لیکن اپنے اطوار نہ بدلے ورنہ یہ بھی تو ہوسکتا تھا کہ اچھی حکمرانی کے ذریعے عوام کے دل یوں جیتے جاتے کہ وہ جمہوریت کی مضبوط ترین ڈھال بن جاتے اور اس ڈھال کی موجودگی میں جرنیلوں کو کبھی ہمت نہ ہوتی کہ وہ اقتدار پر قبضہ کر سکیں۔
یہ ایک عجیب منطق ہے کہ تبدیلی غیر سیاسی لوگوں کی طرف سے نہیں آنی چاہیے یا پارلیمنٹ کے اندر سے ہونی چاہیے۔ یعنی عوام سے کہا جارہا ہے کہ وہ آسمان سے گر کر کھجور میں اٹک جائیں۔ کھائی سے بچ جائیں اور گڑھے میں گر جائیں۔
سوال یہ ہے آج کی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں کیا فرق ہے؟ جعلی ڈگریاں ان کی بھی پکڑی گئیں اور ان کی بھی پکڑی گئیں۔ پورے اڑھائی سال کے عرصے میں نواز شریف عوام کو حکومت کے ایک بھی عوام کش فیصلے سے نہ بچا سکے۔ تھوڑے بہت فرق کے ساتھ امیج بھی ایک طرح کا ہے گویا سید یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف جو فلسفہ پیش کر رہے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بہت ناگزیر ہوا تو صدر زرداری اور وزیراعظم گیلانی کو ایک طرف ہٹا کر ان کی جگہ اسی پارلیمنٹ سے دو اور چہرے ایوان صدر اور وزیراعظم ہائوس میں سجا لئے جائیں اور اس پارلیمنٹ کو موقع دیا جائے کہ وہ بقیہ اڑھائی سالوں میں ملک کو خونی انقلاب' مکمل انارکی یا سول نافرمانی کی طرف دھکیل دے اور ایک ایسی صورتحال پیدا کر دے جس پر فوج بھی قابو نہ پاسکے۔ اہل فکر و نظر ذرا غور تو کریں کہ ہم میں اور سول فرمانی میں بھلا کتنا فاصلہ رہ گیا ہے؟ جب بجلی کے ایک یونٹ کی قیمت کو آئی ایم ایف کے تقاضے کے مطابق 17روپے تک لے جایا جائے گا تو کیا اس ملک کا غریب اور متوسط طبقہ بجلی کے بل ادا کر یگا؟ نہیں اس کے بجائے پورے ملک میں کراچی کی طرح نوگوایریاز بن جائیں گے جن میں لوگ واپڈا کے اہلکاروں کو داخل ہی نہیں ہونے دیں گے۔ لوٹ مار شروع ہو جائے گی۔ لوگ گاڑی والوں کا سڑک پر نکلنا محال کر دیں گے۔ ذرا یاد تو کریں کہ جب عوام بپھر جائیں تو کیا ہوتا ہے؟ کیا ہمیں یاد نہیں کہ محترمہ بے نظر بھٹو کی شہادت کے بعد کیا ہوا تھا؟ کہاں تھی اس وقت انتظامیہ جب بپھرے ہوئے لوگ عمارتیں اور گاڑیاں جلا رہے تھے؟
عوام بپھر جائیں تو پولیس بھاگ جاتی ہے۔ عوام انقلاب لے آئیں تو فوج بھی ان پر گولی چلانے سے انکار کر دیتی ہے۔ ایرانی انقلاب کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ سو سید یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف اگر اس ملک کو ایک ایسی سطح پر لے جانا چاہتے ہیں کہ جہاں خونی انقلاب آجائے اور فوج بھی بے بس ہو جائے تو پھر ایک بدترین جمہوریت کو عوام پر مسلط کئے رکھیں اور انتظار کریں اس وقت کا جب وہ خود بھی اپنے گھروں تک محدود ہو جائیں۔
آج ہم جس نظام کو جمہوریت کہہ کر عوام کو فریب دے رہے ہیں یہ جمہوریت نہیں ہے' جمہوریت میں جمہور مضبوط ہوتے ہیں اور اس بدبودار نظام نے عوام کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ اس بدبودار نظام کی بساط کون لپیٹتا ہے اور یہ اقدام آئینی ہوتا ہے یا غیر آئینی عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں۔ وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ صرف چہرے تبدیل کر دئیے جائیں۔ وہ اس استحصالی نظام کو دریا برد دیکھنا چاہتے ہیں جسے سیاستدانوں نے اپنے ذاتی مفادات کے لئے جمہوریت کا نام دے رکھا ہے۔ عوام صرف اس تبدیلی کی حمایت کریں گے جس میں ایک بھی سیاستدان نظر نہ آئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس ملک میں ان گنت درویش صفت محب وطن لوگ موجود ہیں جنہیں اقتدار اور شہرت کی ضرورت ہے نہ طلب' ان لوگوں کو اگر ذمہ داری سونپی گئی تو وہ ملک اور قوم کو بچا بھی لیں گے اور چلا بھی لیں گے۔
__________________
جاویداسد

Last edited by جاویداسد; 21-09-10 at 04:38 PM..

 
جاویداسد's Avatar
جاویداسد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
شکریہ: 2,418
1,903 مراسلہ میں 5,667 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 104
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے جاویداسد کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (21-09-10), محمد عاصم (21-09-10), مرزا عامر (21-09-10)
پرانا 21-09-10, 07:08 PM   #2
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,679
کمائي: 52,584
شکریہ: 5,148
1,533 مراسلہ میں 5,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یہ جمہوریت کا باطل نظام جب تک پاکستان میں رائج ہے پاکستان اور عوام ایسے ہی مظالم سہتے رہیں گے یہ نظام باطل تو اس سے بہتری کیسے لائی جاسکتی ہے ۶۳ سال سے یہی تو ہم دیکھتے آئے ہیں ان لٹیروں نے پاکستان اور عوام کو لوٹنے کی باری بنائی ہوئی ہے ۵ سال ایک لوٹ کر جاتا ہے تو اگلے ۵ سال دوسرے کی باری ہوتی ہے اصل میں ہیں یہ دونوں ایک جیسے لٹیرے۔
اگر پاکستانی عوام چاہتے ہیں کہ ان کی تقدیر بدلے تو ان کو اس باطل نظام کو بدلنا ہوگا یہ سب برُائیاں اس نظام کی پیدا کردہ ہیں اگر آج نظامِ خلافت پاکستان میں رائج ہوجائے تو ہی عوام کو سکھ اور سکون مل سکتا ہے ورنہ مزید ۶۳ سال کیا ۶۳ صدیاں بھی گزر جائیں تو بھی عوام کی حالت بدل نہیں سکتی۔
پاکستان میں عوام کو اتنے مصائب میں مبتلا کرنے کا مقصد ہی یہی ہے کہ ہم حکمران جو مرضی ہے کرتے رہیں اس عوام میں اتنی ہمت ہی نہ رہے کہ یہ کوئی انقلاب برپا کر سکیں ان کو فکر ہو تو صرف اتنی کہ دو۲ وقت کی روٹی کیسے کمانی ہے، پاکستان میں ایک عام ورکر کی تنخواہ صرف ۴ سے ۵ ہزار ہے اور ایک اوسط درجے کے خاندان ۵ یا ۶ افراد کے خاندان کا ماہانہ خرچہ بہت کم بھی لگائیں تو ۱۰ سے ۱۲ ہزار روپے بنتا ہے جس میں ۲ سے ۳ ہزار روپے صرف بجلی کا بل ادا کرنے میں ہی صرف ہوجاتے ہیں اور ضروریاتِ زندگی آٹا، گھی، چینی، دالیں، چاول ان کی قیمت آئے دن بڑھا دی جاتی ہے تاکہ عوام میں اُٹھنے کی ہمت ہی نہ رہے اس وقت مارکیٹ میں چینی ۸۵ روپے کلو بک رہی ہے جو کہ ایک ظلم ہے اور یہ ظلم کون کروا رہے ہیں یہی حکمران طبقہ کیونکہ جتنی بھی چینی کی ملیں ہیں وہ انہی چوہدریوں، شریف ذادوں، ٹوانیوں اور وڈیروں کی ہی ہیں اگر یہ عوام دوست ہوں تو کم از کم ضروریاتِ زندگی تو مہنگی نہ کریں مگر نہیں یہ عوام دوست نہیں ہیں بلکہ عوام دوشمن ہیں اور ان کی عوام دشمنی کم نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ ہوتی جارہی ہے۔
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا گیا
جاویداسد (21-09-10)
پرانا 21-09-10, 09:08 PM   #3
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,729
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,068 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
یہ جمہوریت کا باطل نظام جب تک پاکستان میں رائج ہے پاکستان اور عوام ایسے ہی مظالم سہتے رہیں گے یہ نظام باطل تو اس سے بہتری کیسے لائی جاسکتی ہے
اقتباس:
اگر پاکستانی عوام چاہتے ہیں کہ ان کی تقدیر بدلے تو ان کو اس باطل نظام کو بدلنا ہوگا یہ سب برُائیاں اس نظام کی پیدا کردہ ہیں اگر آج نظامِ خلافت پاکستان میں رائج ہوجائے تو ہی عوام کو سکھ اور سکون مل سکتا ہے
اقتباس:
پاکستان میں عوام کو اتنے مصائب میں مبتلا کرنے کا مقصد ہی یہی ہے کہ ہم حکمران جو مرضی ہے کرتے رہیں اس عوام میں اتنی ہمت ہی نہ رہے کہ یہ کوئی انقلاب برپا کر سکیں
جب تک امریکہ افغا نستان میں موجود ہے تبدیلی کو بھول جائیں
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم (22-09-10)
جواب

Tags
کراچی, پولیس, پاکستان, وزیراعظم, لوگ, نواز شریف, مہنگائی, مکمل, موقع, آج, اللہ, انتظامیہ, امریکہ, احتجاج, اعلیٰ, بے نظیر, جرم, خوش, خلاف, راستہ, زرداری, علی, صدر, صدر زرداری, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اب جمہوری رستم و سہراب چپ کیوں ہیں؟ ALI-OAD اپکے کالم 0 26-01-11 09:07 PM
سیاستدانوں' جرنیلوں اور افسر شاہی پر تنقید کرنے والے عوام خود کیا کررہے ہیں؟ جاویداسد خبریں 1 15-12-10 08:56 PM
مستقبل پاکستان (ایک نئی سیاسی جماعت) shafresha خبریں 4 01-10-10 06:46 PM
آپ مستقبل میں کیا کر نے کی خواہش رکھتے ہیں؟ ڈاکٹرنور گپ شپ 32 02-07-09 01:17 PM
صدر پر ویز کیساتھ کام کر نا چاہتے ہیں،پاکستانی عوام ہی ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کر ینگے ،امر یکا عبدالقدوس خبریں 0 22-02-08 02:31 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:12 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger