|
تحفظ ناموس رسالت پر اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس

16-12-10, 04:30 PM
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام توہین رسالت قانون میں ترمیم اور آسیہ مسیح کی متوقع سزا معافی کے خلاف آل پارٹنز کانفرنس اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ہوئی جس میں جید علمائے کرام کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی' سماجی اور صحافتی زعماء نے شرکت کی۔
ہم سمجھتے ہیں کہ علمائے کرام نے بجا طور پر یہ استدلال پیش کیا ہے کہ قوانین غلط نہیں ہوتے' ان کا استعمال بسا اوقات غلط کرلیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے اگر 295-Cکو دیکھا جائے تو اس کی زد میں صرف وہی آئے گا جو نبی کریمۖ کی شان میں گستاخی کرے گا اور یہ ایسا معاملہ ہے جس پر کوئی مسلمان سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ ہاں مسلمانوں کی آڑ میں کچھ گمراہ طبقات ایسے ہیں جنہوں نے امریکہ اور مغرب کے ایماء پر اس قانون کے خلاف میڈیائی مہم چلائی ہوئی ہے اور ٹی وی سکرینوں پر ایسی ایسی بے سروپا باتیں کی جارہی ہیں کہ جنہیں سن کر اپنا سر پیٹنے کو جی چاہتا ہے' خاص طور پر نجم سیٹھی تو اس قانون پر یوں برس رہے ہیں جیسے یہ گستاخان رسولۖ کے خلاف نہیں ان کے خلاف بنایا گیا ہے۔ گورنر سلمان تاثیر بھی اپنے منصب کا خیال رکھے بغیر ایسی دل دکھانے والی باتیں کر چکے ہیں کہ جنہیں پاکستان کے کسی بھی طبقے نے پسند نہیں کیا۔ گورنر سلمان تاثیر اور نجم سیٹھی یہ باتیں کیوں کر رہے ہیں اور اس حوالے سے ان کے جذبات اتنے شدید کیوں ہیں اس کھلے راز سے ہر پڑھا لکھا اور باشعور پاکستانی آگاہ ہے۔ حکومت کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس نے 295-Cکے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تو اس کے اپنے ساتھ بہت بڑی چھیڑ چھاڑ ہو جائے گی۔ اس لئے آسیہ مسیح کے معاملے کو قانون کے مطابق ڈیل کیا جائے۔ وہ بے گناہ ہوئی تو اعلیٰ عدالتوں سے رہائی پالے گی۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اس ضمن میں گورنر پنجاب اور نجم سیٹھی جیسے لوگوں کو احتیاط سے کام لینا چاہیے کیونکہ یہ قانونی اور آئینی معاملہ ہے۔
__________________
جاویداسد
|
جاویداسد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
شکریہ: 2,418
1,903 مراسلہ میں 5,667 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|