پنجاب میں پھر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گی، ہارس ٹریڈنگ سے نیا بحران شروع ہو سکتا ہے
اسلام آباد (طاہر خلیل ) ”تخت لاہور“ کے لئے نیا سیاسی میدان گرم ہو گیا ہے اور پیپلز پارٹی پنجاب میں ن لیگ کے ساتھ اپنی سیاسی رفاقت توڑ کر اپوزیشن میں جانے کیلئے تیار ہو گئی ہے۔ میاں نواز شریف نے بعض سیاسی مطالبات کے ساتھ 10جنوری تک کی وفاقی حکومت کو مہلت دی تھی جس کے جواب میں وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان نے بیان دیا ہے کہ مسلم لیگ نواز کی ڈیڈ لائن کا جواب 10جنوری کے بعد دیں گے۔ مبصرین نے وزیر قانون کے بیان سے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ڈاکٹر بابر اعوان نے میاں نواز شریف کے بارے میں پالیسی بیان ازخود جاری نہیں کیا بلکہ پارٹی قیادت کی م کمل اشیر باد کے بعد انہوں نے پالیسی بیان جاری کیا۔ جس کی تصدیق راجہ ریاض کے اس بیان سے ہوتی ہے کہ پنجاب میں ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود مخلوط حکومت سے خود الگ نہیں ہوںگے۔ ن لیگ چاہے تو پی پی پی کو الگ کر سکتی ہے۔ اس صورتحال کو پنجاب میں ایک بار پھر غیر یقینی حالات سے دوچار کر دیا ہے اور صاف حالات نظر آ رہے ہیں کہ پنجاب کا سیاسی میدان گرم ہو رہا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گورنر پنجاب سلیمان تاثیر کے قتل سے قبل وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان نے ”جنگ“ سے ایک ملاقات میں واضح طور پر بتایا تھا کہ آئندہ ہفتے سے پنجاب میں پی پی پی اور ق لیگ ایک مشترکہ حکمت عملی پر کام شروع کریں گی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ سوال بنیادی اہمیت کا حامل ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کو حکومت سے نکال دیا جاتا ہے تو کیا ن لیگ پنجاب میں اپنی حکومت برقرار رکھ سکے گی۔ پنجاب کے 371رکنی ایوان میں پارٹی پوزیشن اس طرح ہے۔
نمبر شمار
پارٹی
تعداد
1
پاکستان پیپلز پارٹی
107
2
مسلم لیگ (ن)
171
3
مسلم لیگ (ق)
81
4
جے یو آئی
02
5
آزاد
05
6
مسلم لیگ (ضیائ)
01
7
مسلم لیگ (فنکشنل)
03
8
کل تعداد
370
ایک نشست خالی ہے اور ضمنی الیکشن ہونا ہے۔ پنجاب میں حکومت بنانے کیلئے 186ارکان کی ضرورت ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو 171ارکان کے ساتھ فارورڈ بلاک کے 41ارکان کی حمایت حاصل ہے اس طرح یہ تعداد 212بنتی ہے۔ اگر پیپلز پارٹی کو حکومت سے نکالا گیا تو پھر دیکھنا یہ ہو گا کہ کیا پی پی پی اور ق لیگ مل کر حکومت سازی میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔ پی پی پی کے 107اور ق لیگ کے فارورڈ بلاک سمیت 81ارکان مل کر 188ارکان کے ساتھ پنجاب کی حکومت بنا سکتے ہیں لیکن یہ اسی صورت ممکن ہے کہ فارورڈ بلاک ساتھ دے تاہم ایک اور اہم آئینی پہلو یہ ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد وزیر اعظم / وزیر اعلیٰ کے انتخاب یا عدم اعتماد کے وقت کوئی رکن جو کسی پارٹی کے انتخابی نشان اور اس کے ٹکٹ پر منتخب ہوا وہ پارٹی پالیسی کے خلاف مذکورہ دونوں صورتوں میں ووٹ نہیں دے سکتا بصورت دیگر اس کی نااہلیت لازمی ہو جائے گی اور پھر میثاق جمہوریت کے ذریعے مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے قوم سے وعدہ کیا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کے ارکان کو نہیں توڑیں گے اور ہارس ٹریڈنگ نہیں ہو گی۔ اسی لئے ان دنوں ق لیگ فارورڈ بلاک میں جانے والے اپنے ارکان کو منانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ فارورڈ بلاک نے منگل کو اپنا اجلاس بلایا ہے اور یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ان کے ارکان کی تعداد 46ہو گئی ہے اگر پنجاب میں پی پی پی کو اقتدار سے علیحدہ کر کے ن لیگ اور فارورڈ بلاک کے ساتھ مل کر نئی حکومت کو کھڑا کیا گیا تو ایسی صورت میں ہارس ٹریڈنگ کے حوالے سے مذمت کرنے والوں کا اخلاقیات کا درس سوالیہ نشان بن جائے گا۔ اور یہ بات طے ہے کہ پی پی پی کی پنجاب میں اقتدار سے رخصتی کے بعد ن لیگ صرف فارورڈ بلاک کے ذریعے اپنا اقتدار قائم رکھ سکے گی۔ کیونکہ ن لیگ کے ساتھ اتنی اکثریت نہیں کہ وہ تنہا حکومت بنا سکے اور پنجاب میں ہارس ٹریڈنگ کے ساتھ ہی ملک میں نیا سیاسی بحران شروع ہو سکتا ہے جس کی پیش بندی کے طور پر پی پی پی نے ایم کیو ایم کے ساتھ اپنے تعلقات کو بحال کیا ہے تاکہ پنجاب میں ممکنہ تبدیلی کے ساتھ ن لیگ کو مرکز میں چھیڑ چھاڑ کا موقع نہ مل سکے۔ اگر ایم کیو ایم اپوزیشن میں رہتی تو پھر ن لیگ کے لئے مرکزمیں پی پی پی کے اقتدار کو چیلنج کرنے میں کوئی دشواری نہیں تھی۔ پی پی پی نے بظاہر یہ محاذ بند کرایا ہے۔