|
ترکی ؛ مبینہ انقلاب ‘ مزید گرفتاریاں ۔

27-07-08, 02:32 PM
ترکی ؛ مبینہ انقلاب ‘ مزید گرفتاریاں ۔
ترکی میں مبینہ طور پر انقلاب لانے اور حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش میں ملوث ہونے کی بنا پر چھبیس افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے ۔
یہ گرفتاریاں ترکی کے مغرب میں استنبول سے لے کر مشرق میں الازگ تک پانچ صوبوں میں کئی مقامات پر ‘ مارے گئے چھاپوں کے دوران عمل میں لائی گئیں ہیں ۔ ترکی میں ان گرفتاریوں کے حوالے سے عالمی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ یہ گرفتاریوں ایک انتہائی قومیت پرست تنظیم “ ارگنکون “ کے خلاف جاری تحقیقاتی اقدامات کا ایک حصہ ہیں ۔ اس تنظیم پر ترکی میں “ سیاسی طور پر عدم استحکام پیدا کرنے اور مالی منڈی کو تہس نہس کرنے کی مبینہ کوششیں کرنے “ کا الزام ہے ۔ لیکن تفتیش و تحقیق کرنے والے ایک اعليٰ پولیس افسر کا کہنا ھے کہ مذکورہ تنظیم متذکرہ سرگرمیوں میں کہاں تک ملوث ہے اس کا فیصلہ کیا جانا ابھی تک باقی ہے ترکی کے وسطی شہر کونیا کے پولیس سربراہ صالح تزکو کے مطابق ‘ انہوں نے اپنے علاقے سے تیرہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور انہیں امید ہے کہ چار پانچ روز میں سب کچھ صاف عیاں ہو جائے گا کہ یہ افراد حکومت کے خلاف سازش میں ملوث ہیں یا نہیں ۔ انہوں نے ان گرفتاریوں کو ایک دیشتگرد تنظیم کے خلاف سرکاری اقدامات سے تعبیر کیا ہے قومیت پرست تنظیم “ ارگنکون “ سے تعلق رکھنے اور ملک میں سیاسی افراتفری پیدا کرکے قومی مالی منڈی کو مبینہ طور پر نقصان پہنچانے کا منصوبہ بنانے کے الزام میں اب تک چھیاسی افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور ان پروزیر اعظم اردگان کی حکومت کے خلاف انقلاب برپا کرنے کی کوشش کرنے کے سلسلے میں باقاعدہ فرد جرم عائد کی جا چکی ہے ۔ ارگنکون تنظیم کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اردگان کی حکومت ملک کے سیکولر تشخص کو ختم کرکے اسلامی اقدار کو بڑھاوا دینا چاہتی ہے انقرہ میں بھی سارکاری طور پر باقاعدہ اس بات کی تصدیق کردی گئی ہے کہ اب تک گرفتار کئے گئے افراد “ ارگنکون ‘ قومیت پرست تنظیم سے تعلق رکھتے ھیں اور یہ سبھی حکومت کا تختہ الٹنے کا ارداہ رکھتے تھے ۔“ سرکاری بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان افراد کی گرفتاریوں کے دوران ‘ ان کے قبصے سے غیر قانونی اسلحہ اور ایسی دستاویزات بھی برآمد کی جا چکی ہیں جو ان کے مکروہ ارادوں کی نشاندھی کرتی ہیں پچھلے پانچ عشروں کے دوران ترکی میں چار منتخب شدہ حکومتوں کو فوجی انقالاب کے ذریعے ہٹایا جا چکا ہے ۔ ترکی اگرچہ ایک اسلامی ملک ہے لیکن اس کا سرکاری تشخص “ سیکولر جمھوریہ “ کا ھے ۔ اور ترکی یورپی یونین میں شامل ہونے کے لیے ایک مدت سے ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے اپنے اس سرکاری تشخص کا دفاع کرتا چلا آرہا ہے ۔ موجودہ حکومت کے بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ حکام کی طرف سے اپنے مخالفین کی گرفتاریوں کا موجودہ سلسلہ در اصل حکمران اے کے پارٹی اور وزیر اعظم اردگان اور صدر عبداللہ گل کو اس طرح کی سیاسی سرگرمیوں سے الگ کردینا ہے جو ملک کے سیکولر تشخص کو ختم یا کمزور کرنے کے لیے ان کی طرف سے کی جا رہی ہیں ۔ انقرہ میں اٹارنی جنرل کے دفتر سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ “ ارگنکون تنظیم “ کے خلاف جو الزامات لگائے گئے ہیں ان میں یہ الزام بھی شامل ہے کہ مذکورہ تنظیم ‘ باقاعدہ ایک مسلح دہشتگرد ونگ تیار کر رہی تھی تاکہ حکومت کا بزور قوت تختہ الٹ دیا جائے ۔ جن اٹھاسی گرفتار شدہ افراد کے خلاف ‘ حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے اور جنہیں اب مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا ان میں ایک قومیت پرست پارٹی کا رہنما ‘ ایک صحافی اور متعدد اعلیٰ ریٹائرڈ فوجی عہدیدار بھی شامل ہیں۔ ماہ رواں کے آغاز پر دو اعلیٰ ریٹائرڈ فوجی جرنیلوں کو کئی ایک کاروباری افراد اور صحافیوں کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا تھا اور اب ان کے خلاف بھی مقدے کی تیاری کی جا رہی ہے ۔ مبصرین کے مطابق ‘ اب دیکھنا یہ باقی رہ گیا ہے کہ ترکی میں اسلامی حکومت کے نفاذ کی ترجمانی کرنے والے فتح پاتے ھیں یا عدالت‘ ملک میں سیکولر اقدار و اقتدار کے حامیوں کو حق بجانب قرار دیتی ہے ۔
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے
|
Real_Light
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
شکریہ: 3,117
988 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|