اسرائیل کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان در پردہ مزاکرات جاری ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات جلد ہی معمول پر آ جائیں گے۔
اس سال مئی میں امدادی سامان غزہ لے جانے والے جہاز پر اسرائیلی کمانڈوز کی کارروائی کے بعد جس میں نو ترک شہری ہلاک ہوگئے تھے، ترکی نے پہلی مرتبہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کم دیے تھے۔
لیکن اب اس بات کے کافی اشارے مل رہے ہیں کہ ترکی اور اسرائیل اپنے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسرائیل کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا یہ بیان کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان خفیہ مزاکرات جاری ہیں ترکی کے وزیر خارجہ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں مسٹر داووت گلو نے کہا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا چاہتے ہیں مگر اسرائیل کو ترک شہریوں کی ہلاکت پر معافی مانگنی ہو گی۔
یہ ترک شہری غزہ کے لیے امداد لے جانے والے بحری جہاز پر سوار تھے جس پر اسرائیلی کمانڈوز نے حملہ کیا تھا۔ ترکی کی حکمراں جماعت کے ایک رکن پارلیمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ترکی کی اسرائیل سے کیا توقعات ہیں۔
"ہمیں توقع ہے کہ اسرائیل ہمارے آٹھ اور امریکہ کے ایک شہری کو کھلے سمندر میں ہلاک کرنے پر معافی مانگے اور جو لوگ مارے گئے اور زخمی ہوئے انہیں معاوضہ ادا کرے۔ اگر یہ شرائط پوری کی گئیں تو ترکی اسرائیل کے ساتھ اپنے تعقات بحال کرنے کو تیار ہے۔ مگر ہم اس بات کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ اسرائیلی کمانڈوز نے ہمارے آٹھ شہری کھلے سمندر میں مارے ہیں۔ اس لیے اسرائیل کو ہمیں منانے کے لیے کسی قسم کے اقدامات کرنے پڑیں گے۔"
اسرائیل نے ہمیشہ کہا ہے کہ اس کے کمانڈوز نے ترک شہریوں کو اپنے دفاع میں مارا تھا۔ لیکن اب اسرائیلی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان اینڈی ڈیوڈ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دونوں ممالک تعلقات بہتر کرنے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں اور تعلقات جلد ہی دوستانہ ہو جائیں گے۔
"در پردہ مزاکرات تو جاری ہیں اور میں چاہوں گا کہ وہ در پردہ ہی رہیں، لیکن ساتھ ہی سفارتکاری اس معاملے کا اہم حصہ ہے یعنی دو ممالک کو واپس ڈگر پر آنا ہے، انہیں اپنے تعلقات پہلے کی طرح دوستانہ بنانے ہیں۔ اور مجھے یقین ہے کہ وہ دن دور نہیں۔"
جب پوچھا گیا کہ کیا اسرائیل ترکی کی ان شرائط پر رضامند ہے کہ اسرائیل ہلاکتوں کے لیے معافی مانگے اور ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو مغاوضہ دے، تو مسٹر ڈیوڈ نے کہا:
"مجھے معاوضے کے بارے میں پوری طرح سے نہیں پتا۔ یہ کوئی راز نہیں کہ ہم ان معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ اور ظاہر ہے ہمیں جو کچھ ہوا اس پر بہت زیادہ پچھتاوا ہے۔ ذمہ داری پچھتاوے سے مختلف چیز ہے لیکن امید ہے کہ وہ دن بھی قریب ہے۔"
ترکی کا بحری جہاز ماوی مارمارا مرمت کے بعد آج استنبول پہنچا ہے۔ یہ جہاز اس فولٹیلا میں شامل تھا جو فلسطینی علاقے غزہ کے لیے امداد پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا۔ فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے اور نتیجتاً نو ترک شہریوں کی ہلاکت کے بعد ترکی نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات گھٹا دیے تھے۔
بی بی سی اُردو