واپس چلیں   پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


ترکی میں خواتین کے حقوق کی جنگ

اس موضوع کے 8 جوابات دیےگئے ہیں اور اسے 129 مرتبہ دیکھا گیا ہے
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 07-04-09, 10:46 PM   #1
Senior Member
 
چیتا چالباز's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 772
کمائي: 13,738
ميرا موڈ:
شکریہ: 1,351
450 مراسلہ میں 963 بارشکریہ ادا کیا گیا
Post ترکی میں خواتین کے حقوق کی جنگ

ترکی میں خواتین کے حقوق کی جنگ

استنبول: گزشتہ دو عشروں کے دوران خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی کم و بیش 30 ترک این جی اوز نے عورتوں کے خلاف تشدد کے خاتمے اور صنفی مساوات کو فروغ دینے کے لئے قانونی، سیاسی اور سماجی تبدیلی لانے کی تحریک کی قیادت سنبھال لی ہے۔ تاہم یہ تبدیلی لانا کوئی آسان کام نہیں کیونکہ ان این جی اوز کو چاروں طرف پھیلی افراتفری کے درمیان عورتوں کے حوالے سے ذہنوں پر ثبت روایتی تصورات کے ساتھ لڑنا پڑ رہا ہے۔

مشرقِ وسطٰی میں بڑھتی ہوئی عسکریت اور دنیا بھر میں قدامت پرستی میں اضافے سے آج کل ترکی میں لوگوں کی زندگی بُری طرح بد نظمی کا شکار ہے۔ ترکی کے مشرقی اور جنوب مشرقی علاقوں میں ترک فوج اور کرد باغیوں کے درمیان مسلّح تصادم اور استنبول اور ازمیر میں ہونے والے حالیہ بم حملوں کے نتیجے میں عورتوں کی طرف سے برابری، صنفی بنیاد پر تشدد کے خاتمے اور قانون کی بالادستی کے مطالبوں جیسے معاملات قومی ترجیحات میں ثانوی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔

ملک بھرمیں، بالخصوص کُرد شہروں دیار باقر اور وان میں، سیکورٹی کے انتظامات انتہائی سخت کر دیئے گئے ہیں۔ مسلّح افواج سڑکوں پر گشت کرتی ہیں اور جا بجا لگے پولیس کے ناکوں پر لوگوں کی شناخت کی جاتی ہے۔ اس صورتحال میں لوگ گھر سے صرف اشد ضرورت پڑنے پر ہی باہر نکلتے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے حفظِ ماتقدم کے طور پر خواتین کا گھر سے نکلنا بالکل بند کردیا ہے۔

اس کشیدہ ماحول میں خواتین کی این جی اوز بڑھتے ہوئے تشدد، خواتین کی نفسیات پر اس کے اثرات اور آزادی سے گھومنے پھرنے کے حق کو محدود کئے جانے کے حوالے سے فکر مند ہیں۔ ساری توجہ عورت کی جسمانی سلامتی پر مرکوز رکھنے والے معاشرے میں ان خواتین کی ان تنظیموں کو امید ہے کہ وہ کمیونِٹیز کی اس طرح رہنمائی کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی کہ " عورتوں کا تحفظ" نہیں بلکہ " عورتوں کے حقوق کا تحفظ" کیا جائے۔

اگست 2008 کے آخری دنوں میں خواتین کے موضوعات پر کام کرنے والی کئی تنظیموں کی 60 خواتین شمالی ترکی کے چھوٹے سے شہر علازِگ میں منعقدہ سہ روزہ ورکشاپ میں اکٹھی ہوئیں جہاں انہوں نے قومی اور علاقائی سطح پر عورتوں کو درپیش مسائل پر گفتگو کی۔ ورکشاپ میں شرکت کرنے والی تنظیموں میں سارے ویمنز ایسوسی ایشن، وان ویمنز ایسوسی ایشن، یاکا کُوپ اور بِطلِس گُل دونیا ویمنز سینٹر کے علاوہ فلمور ویمنز کوآپریٹو اور ویمن فار ویمنز ہیومن رائٹس بھی شامل تھیں۔

ورکشاپ کے شرکأ نے بہت سے ایسے معاملات پر بحث کی جو اس وقت خواتین کو بری طرح متاثر کررہے ہیں۔ ان میں تشدد سے نجات، جنسی اور افزائشِ نسل کے حقوق اور خاص طور پر وہ اثرات شامل ہیں جو تشدد کی حالیہ لہر نے عورتوں پر مرتب کئے ہیں۔

ورکشاپ میں شریک سبھی خواتین نے اس پر اتفاق کیا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی عسکری ذہنیت نے ترک معاشرے میں مردوں کی بالادستی کو دوام دیا ہے۔ وہ سب اس بات پر بھی متفق تھیں کہ مسلح تنازعات اور بے یقینی کے نتیجے میں جنم لینے والے فرسودہ رویّوں کو الٹانے کے لئے کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ان رویّوں نے سماجی، اقتصادی اور سیاسی زندگی میں عورتوں کی مساویانہ شمولیت کو محدود کردیا ہے۔

یہ رویّے ان این جی اوز کے لئے اپنے مقاصد کا حصول مشکل بنا رہے ہیں کیونکہ خواتین کے کہیں آنے جانے پر پابندی انہیں اپنی ضروریات کے مطابق منظّم ہونے اور نیٹ ورکنگ سے باز رکھ رہی ہے۔ بعض لوگوں نے ان رویّوں کو برحق ثابت کرنے کے لئے یہاں تک کہا ہے کہ خواتین کی خود مختار تنظیمیں صرف اس لئے وجود میں آئی ہیں کہ "خاندانی اقدار" اور "عوامی اخلاقیات" کو کمزور کیا جائے، خاندانی نظام توڑا جائے اور طلاق لینے میں عورتوں کی مدد کی جائے۔

موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ ملک بھر میں پھیلا خواتین کی این جی اوز کا طاقتور نیٹ ورک بڑھتی ہوئی عسکری ذہنیت اور قدامت پسندی کے اس ماحول میں صنفی مساوات قائم کرنے کا مقصد حاصل کرنے کے لئے یونہی کام کرتا رہے۔

ترک خواتین پہلے بھی اس طرح کی مشکلات پر قابو پا چکی ہیں۔ 2001 میں حقوقِ نسواں کی تحریک سِول کوڈ میں اصلاحات لانے جیسی انقلابی نوعیت کی قانونی تبدیلیاں لانے میں بھی کامیاب ہوگئی تھی۔ ترمیم کے بعد اس سول کوڈ کے تحت شادی، طلاق، بچّوں کی تحویل، وراثت اور جائیداد کے معاملات میں مرد و عورت کو برابر تسلیم کیا گیا ہے۔ اسی طرح 2004 میں ضابطۂ فوجداری میں بھی ترمیم کی گئی تھی جس کے بعد قانون عورت کی خود مختاری کی ضمانت دیتا اور عورت کے اپنے جسم اور جنسیت پر حق کو تسلیم کرتا ہے۔

گزشتہ برس بھی عورتوں کی تحریک نے ایک بار پھر اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکمران جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی ( اے کے پی ) کو آئین میں ترمیم کے ذریعے "مرد اور عورت برابر ہیں" کی شق ختم کرنے سے روک دیا تھا۔

ترکی کی خواتین اور ان کی این جی اوز کو عسکری ذہنیت کے اس ماحول میں اپنی نظریں اپنے مقاصد سے نہیں ہٹانی چاہئیں اور مکمل صنفی مساوات قائم کرنے کی منزل تک پہنچنے کے لئے یونہی ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملا کر کام کرتے رہنا چاہیے۔ حقوقِ نسواں کی تحریک کو چاہیے کہ اس حرکی قوت اور سیاسی دباؤ کا فائدہ اٹھائے جو اس نے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے غیر متشدد طریقے اختیار کرنے پر زور دے کر پیدا کیا ہے۔

###

*ایور کائی نک حقوقِ نسواں کی ایکٹِوسٹ ہیں اور "ویمن فار ویمنز رائٹس ( ڈبلیو ڈبلیو ایچ آر) – نیو ویز" کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ مضمون کامن گراؤنڈ نیوز سروس (سی جی نیوز) کے لئے لکھا گیا ہے
چیتا چالباز آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 2 صارفین نے چیتا چالباز کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
shafresha (02-07-09), ام غزل (08-04-09)
پرانا 07-04-09, 10:52 PM   #2
ذیلی ناظم

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 8,246
کمائي: 139,845
ميرا موڈ:
شکریہ: 13,522
5,862 مراسلہ میں 14,129 بارشکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں فیصل ناصر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت‌ خوب
کافی دن بعد چکر لگایا
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 07-04-09, 11:28 PM   #3
Senior Member
 
چیتا چالباز's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 772
کمائي: 13,738
ميرا موڈ:
شکریہ: 1,351
450 مراسلہ میں 963 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
بہت‌ خوب
کافی دن بعد چکر لگایا
بس زرا مصروفیت رہی
آپ کے یاد رکھنے کا شکریہ
چیتا چالباز آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
چیتا چالباز کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (07-04-09)
پرانا 07-04-09, 11:48 PM   #4
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 3,206
کمائي: 35,272
شکریہ: 4,332
1,975 مراسلہ میں 5,507 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس مضمون کی مصنفہ سے پوچھنا چاہیے کہ سکارف لینے والی خواتین کے حقوق بھی بحال ہوں گے یا صرف فحاشی کی دلدادہ عورتوں کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (07-04-09)
پرانا 08-04-09, 04:02 AM   #5
ناظم اعلی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,731
کمائي: 22,344
ميرا موڈ:
شکریہ: 9,859
1,839 مراسلہ میں 4,047 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت ہی اچھی شئیرنگ ،

اور عبداللہ بھائی فحش عورت کو تحفظ کی ضرورت کہاں پڑتی ہوگی ، اس لئے مصنفہ کو کیا تکلیف دینی
ام غزل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ام غزل کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 08-04-09, 04:46 PM   #6
Senior Member
 
محمد الیاس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: چترال
مراسلات: 504
کمائي: 6,941
شکریہ: 154
268 مراسلہ میں 483 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد الیاس کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ان عورتوں کی فلاحی(حقوق کی) تنظیموں کو اپنی عزّت کا کوئی غم نہیں‌ رہا ہے اور اب جب جان پر بنی ہے تو واویلا مچایا جا رہا ہے۔ غیر ملکی آزاد فلاحی تنظیموں‌کا کوئی بنیادی مقصد ضرور ہوتا ہے۔ خاصکر جن کا ذکر ہو رہا ہے انکا مقصد صرف مغربّیت کی راہ پر معاشرے کو ڈھالنا ہے۔ صرف اس پر کہ ترکی میں سر کے اوڑھنی کی پردہ داروں کو اجازت ملی ان لوگوں نے پورا شور مچایا تھا اور یورپ میں اس اوڑھنی کے نمونے بنا بنا کر پیش کئے جا رہے تھے کہ تُرکی معاشرہ ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔ اس بد امنی کے عمل میں ترکی کی حکومت کا بڑا ہاتھ ہے۔ مصطفےٰ کمال پاشا نے ملک کو یورپی بنانے کے لئے تُرکی لباس کو ترک کروا دیا، تُرکی ٹوپی جسکو رُومی ٹوپی کہتے ہیں اسکا پہننا ایک سنگین جُرم قرار دیا اور تُرکی خط رومی حروف سے لاگو کرایا جو اب تک جاری ہے۔ ایک اہم غلطی اسکی یہ تھی کہ اس نے تُرکی نسل پرستی کا رُجحان پیدا کیا جس کا ردّعمل کُرد بغاوت ہے جو اسلام کے رشتے سے ان سے پیوستہ تھے۔ تُرکی کے علاوہ کسی زبان کو کوئی سرکاری حیثیت نہیں ہے اور اپنے صوبوں میں بھی کُردوں کی زبان و ادب کے فروغ پر پابندی ہے۔ تُرکی کے ساتھ پہلے فارسی بھی تھی سو وہ بھی اس علاقے سے ختم کرا دی گئی۔ مصطفےٰ کمال پاشا نے نماز اور آذان کو بھی تُرکی زبان میں ادا کرانے کی کوشش کی تھی مگر وہ ناکام ہو گئی۔ اب اس نسل پرستی کو اگر اسلامی بر سر اقتدار جماعتیں ختم کرا دیں تو یہ سارے مسائل حل سکتے ہیں۔
اگر یہ عورتوں کی فلاحی تنظیمیں اپنے شوہروں اور خاندان کے مشورے سے پردے میں رہتے اپنا کام جاری رکھیں تو ان کو کسی اسلام پسند سے خطرہ نہ ہوگا مگر انکی تنظیم کو پیسے ہی آنا بند ہو جائیں گے۔ دراصل انکا مقصد یہ نہیں ہے۔ عورتوں کو یہ حق دلانا کہ وہ طلاق لے سکتی ہے دراصل عورت کو ایک ماں کی سی عظمت سے جُدا کر کے کھلونا بنانے کی تحریک ہے۔

Last edited by محمد الیاس; 08-04-09 at 04:49 PM.
محمد الیاس آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 2 صارفین نے محمد الیاس کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
shafresha (02-07-09), عبداللہ حیدر (02-07-09)
پرانا 08-04-09, 05:55 PM   #7
ذیلی ناظم

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 8,246
کمائي: 139,845
ميرا موڈ:
شکریہ: 13,522
5,862 مراسلہ میں 14,129 بارشکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں فیصل ناصر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

الیاس بھائی
یہ عورتوں کے حقوق کی نمائندہ نہیں بلکہ

اقتباس:
جس کے بعد قانون عورت کی خود مختاری کی ضمانت دیتا اور عورت کے اپنے جسم اور جنسیت پر حق کو تسلیم کرتا ہے۔
جی اصل مطلوبہ مقاصد یہی ہیں
ایسی کئی نام نہاد تنظمیں پاکستان میں بھی ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 3 صارفین نے فیصل ناصر کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
محمد الیاس (02-07-09), ام غزل (08-04-09), عبداللہ حیدر (02-07-09)
پرانا 02-07-09, 07:43 PM   #8
Senior Member
 
محمد الیاس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: چترال
مراسلات: 504
کمائي: 6,941
شکریہ: 154
268 مراسلہ میں 483 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد الیاس کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

درست ہے۔////۔۔۔۔،،،،،،،،//؂؂؎؃
محمد الیاس آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 02-07-09, 08:00 PM   #9
ذیلی ناظم

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 8,246
کمائي: 139,845
ميرا موڈ:
شکریہ: 13,522
5,862 مراسلہ میں 14,129 بارشکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں فیصل ناصر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شکریہ !
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Bookmarks

Tags
کمال, پولیس, پاکستان, پسند, نیوز, نماز, مکمل, ماں, مسائل, معاشرہ, اسلام, اسلامی, بھائی, ترک, ترمیم, حل, خواتین, خلاف, روزہ, رشتے, شور, طلاق, غم, صوبوں, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
قانونی جنگ سے نیٹ حقوق کو خطرہ عدنان خبریں 2 01-06-08 08:39 AM
دہشتگردی کیخلاف جنگ میں فتح حقوق دینے سے ممکن ہے،جنرل طارق مجید عبدالقدوس خبریں 0 21-02-08 04:59 AM
جسٹس بھگوان داس کے باہر خواتین کی گرفتاری : سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار کی حرکت شیخ ہمدان سیاست 1 16-01-08 05:01 PM
حقوق الزوجین ::::: بیوی کے خاوند پر حقوق ::::: عادل سہیل ازدواجی زندگی 3 17-12-07 08:48 AM
حقوق الزوجین ::::: خاوند کے بیوی پر حقوق ::::: عادل سہیل ازدواجی زندگی 2 17-12-07 08:42 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:34 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2010, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO 3.3.0
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2010,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger