واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


ترکی کے قومی دن کی تقریب، صدر زرداری کی آمد سے شرکاء حیران

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-10-10, 05:11 AM   #1
ترکی کے قومی دن کی تقریب، صدر زرداری کی آمد سے شرکاء حیران
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 30-10-10, 05:11 AM

آفتاب شیرپاﺅ نے صدر سے ہاتھ نہیں ملایا، زرداری نے حامد میر کو دیکھ کر کہا تم شیطان ہو
ناہید نے صدر کی طرف اشارہ کرکے کہا، یہ شخص نہیں جانتا کہ جلد پارٹی کے اندر سونامی آئےگا
ق لیگ کی نوشین سعید نے کہا ہم لوگ ملکی تاریخ کی نا اہل ترین حکومت میں شامل نہیں ہونگے
تقریب کے شرکاء سوال کرتے رہے کہ 18 ویں ترمیم سے وزیراعظم طاقتور ہوئے یا نہیں


اسلام آباد (رپورٹ: .... حامد میر) صدر آصف علی زرداری نے جمعہ کو ترکی کے قومی دن کی تقریب میں شریک ہو کر شرکاء کو حیران کردیا۔ وہ تقریباً 20 منٹ تک وہاں موجود رہے لیکن تقریب میں ان کی اس مختصر موجودگی نے کئی سوالات اور افواہوں کو جنم دیا۔ اسلام آباد کے انتہائی محفوظ ترین علاقے ڈپلومیٹک انکلیو میں یہ 2010ء کی سب سے بڑی تقریب سمجھی جا رہی ہے۔ ترک سفیر بابر ہازلان کی جانب سے بلائے گئے سیکڑوں مہمانوں کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ صدر زرداری مہمان خصوصی کی حیثیت سے تقریب میں کیک کاٹیں گے۔ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل خالد شمیم وائیں اور ائر چیف مارشل راﺅ قمر سلیمان ان چند افراد میں شامل تھے جنہیں اپنے ”سپریم کمانڈر“ کی شرکت کے متعلق پہلے سے علم تھا۔ وہ صدر زرداری کے استقبال کےلئے باہر موجود تھے لیکن وہ ایک گھنٹہ دیر سے پہنچے۔ جب وہ ہال میں داخل ہوئے تو ان کے سامنے ان کے ”سابق دوست“ آفتاب احمد خان شیرپاﺅ ان کے سامنے موجود تھے۔ شیرپاﺅ نے صدر زرداری سے مصافحہ کرنے سے گریز کیا اور ایک طرف چلے گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آفتاب شیرپاﺅ کے ساتھ ہی باغی جوڑا سینیٹر صفدر عباسی اور ان کی اہلیہ ناہید خان کھڑی تھیں۔ سیکورٹی اہلکاروں نے دونوں کی موجودگی پر پریشانی کا اظہار کیا اور ایک دوسرے سے کھسر پھسر کرنے لگے کہ سینیٹر عباسی اور ناہید خان کا آمنا سامنا صدر زرداری سے ہونے سے کیسے روکا جائے۔ صفدر عباسی حال ہی میں اپنی پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی رکنیت سے معطل ہوچکے ہیں کیونکہ انہوں نے جیو ٹی وی کے پروگرام ”کیپیٹل ٹاک“ میں شرکت کی حالانکہ ان کی پارٹی جیو ٹی وی کا بائیکاٹ کرچکی تھی۔ وہاں موجود کئی صحافیوں نے مسکراتے ہوئے سینیٹر عباسی سے پوچھا کہ آیا وہ اپنے پارٹی کے سربراہ سے مصافحہ کرنا پسند کریں گے تو وہ کوئی جواب دیئے بغیر ایک طرف ہوگئے اور صدر زرداری سے ہاتھ نہیں ملایا۔ سینیٹر عباسی اور ناہید خان کے گرد کئی سفارت کار موجود تھے۔ ناہید خان انہیں بتا رہی تھیں کہ پارٹی کے قواعد کے مطابق سیکریٹری جنرل کو کسی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی رکنیت معطل کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ انہوں نے صدر زرداری کی جانب انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا ”اس آدمی کو یہ نہیں معلوم کہ جلد ہی پارٹی کے اندر سے ایک بڑا سونامی جنم لے گا“۔ دوسری جانب صدر زرداری مسکراتے ہوئے بڑے مجمع میں چلے گئے۔ وہ اپنے چہرے سے ”پراعتماد“ ہونے کا تاثر دے رہے تھے۔ وہ کئی سفارت کاروں سے خوشگوار تبادلہ خیال کر رہے تھے لیکن جیسے ہی انہوں نے اس نمائندے کو دیکھا تو انہوں نے کہا کہ تم شیطان ہو۔ صدر پاکستان کے منہ سے ایسے الفاظ سن کر کئی سفارت کار حیران رہ گئے۔ ایک سفارت کار نے مجھے بتایا کہ ”اب ہم سمجھے کہ آج کل آپ لوگ کس طرح کے دباﺅ کا سامنا کر رہے ہیں“۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) کی رکن قومی اسمبلی نوشین سعید نے باآواز بلند کہا کہ ”صدر صاحب اپنے بنکر سے باہر آچکے ہیں، شاید وہ سفارتی حلقے کو یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ معاملات ٹھیک ہیں لیکن یہ درست نہیں ہے“۔ کئی سفارت کاروں نے نوشین سعید سے پوچھا کہ صدر زرداری نے حال ہی میں اپنے قریبی ساتھی بابر اعوان کو ق لیگ کے رہنما پرویز الٰہی سے ملاقات کےلئے بھیجا تھا تو پھر آپ صدر کے خلاف کیوں بول رہی ہیں؟ نوشین نے ہنستے ہوئے کہا کہ وہ خود چل کر آئے تھے؛ ہم نے انہیں آنے کی دعوت نہیں دی تھی، ہم ڈوبتی کشتی میں کبھی سوار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیر پگارو کے پاس جانے والے مسلم لیگیوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے؛ انہیں چاہئے کہ وہ پہلے سب ق لیگ میں شمولیت اختیار کریں اسی صورت میں تمام جماعتوں میں انضمام ہوسکتا ہے۔ نوشین سعید نے پیپلز پارٹی کے وزیر نوید قمر پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ”آپ جیسے پرانے پیپلز پارٹی کے لیڈروں نے پرویز الٰہی سے ملاقات کیوں نہیں کی، آپ نے ہمارے رہنماﺅں سے ملاقات کےلئے پی پی میں شامل ہونے والے نئے افراد کو کیوں بھیجا، کیا آپ کو معلوم نہیں کہ یہ بے وقوفی کارگر ثابت نہیں ہوگی اور ق لیگ کے نام پر آپ لوگ ایم کیو ایم کو بے وقوف نہیں بنا سکتے“۔ قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر فیصل کریم کنڈی، نواز لیگ کے ایم این اے پرویز ملک اور نزہت صادق نے نوشین سے پوچھا کہ وہ پی پی اور ق لیگ کے مابین ممکنہ اتحاد کے خلاف کیوں بول رہی ہیں تو نوشین نے دعویٰ کیا کہ سینیٹر ایس ایم ظفر سے لے کر مشاہد حسین اور فیصل صالح حیات سے لے کر امیر مقام تک سب ہی پاکستان کی تاریخ کی سب سے نا اہل حکومت میں شامل ہونے سے نفرت کرتے ہیں۔ اس پوری سیاسی گپ شپ کے باوجود مغربی ممالک کے سفارت کار ترکی کے قومی دن کی تقریب میں صدر زرداری کی ”غیر معمولی“ موجودگی کی وجہ سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ دفتر خارجہ کے چند عہدیدار انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کررہے تھے کہ صدر صاحب کی یہ شرکت غیرمعمولی نہیں ہے کیونکہ ماضی میں انہوں نے چین اور امریکا کی سفارتی تقریبات میں بھی شرکت کی ہے۔ تقریب میں موجود ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ صدر زرداری نے ترکی کی جانب سے سیلاب متاثرین کی مدد کی وجہ سے تقریب میں شرکت کرکے جذبہ خیر سگالی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان، ترکی اور ایران 20 ارب ڈالر کے 6566 کلومیٹر طویل ریلوے لائن پروجیکٹ کے پارٹنر ہیں۔ کئی لوگ یہ بھی کہتے سنے گئے کہ شاید ترکی پاکستان کے پاور سیکٹر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے اسی لیے صدر زرداری خود چل کر تقریب میں آئے اور شرف بخشا۔ لوگ اس موضوع پر بات کررہے تھے کہ آخر صدر مملکت کا پارلیمانی جمہوریت میں کیا کردار ہے۔ تقریب میں صدر مملکت کی موجودگی نے اہم سوالات پیدا کئے۔ شرکاء پاکستانی دوستوں سے یہ پوچھ رہے تھے کہ 18 ویں ترمیم کی منظوری سے وزیراعظم صاحب طاقتور ہوئے ہیں یا نہیں؟ صدر اوباما اب بھی صدر زرداری سے فون پر کیوں بات کرتے ہیں اور انہیں واشنگٹن دورے کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ صدر زرداری اسلام آباد کے سفارتی حلقے کو یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ اب بھی حکومت کے طاقتور ترین شخص ہیں۔ وہ یہ بھی پوچھ رہے تھے کہ وزیراعظم گیلانی کہاں ہیں؟ بیچارے پاکستانیوں کے پاس ان کے غیرملکی دوستوں کے پریشان کن سوالات کے جواب ہی نہیں تھے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,222 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 151
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے گلاب خان کا شکریہ ادا کیا
پاکستانی (31-10-10), ماسٹر مقسود (31-10-10), مرزا عامر (31-10-10), ابرارحسین (30-10-10), حیدر (30-10-10), عبدالقدوس (30-10-10)
پرانا 31-10-10, 10:06 PM   #2
Senior Member
 
ماسٹر مقسود's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: Germany
مراسلات: 247
کمائي: 5,376
شکریہ: 243
177 مراسلہ میں 390 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

- - - - - ڈوبتے کو تنکے کا سہارہ - - - - ؟
ماسٹر مقسود آف لائن ہے   Reply With Quote
ماسٹر مقسود کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (31-10-10)
پرانا 31-10-10, 11:45 PM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,643
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
نوشین نے دعویٰ کیا کہ سینیٹر ایس ایم ظفر سے لے کر مشاہد حسین اور فیصل صالح حیات سے لے کر امیر مقام تک سب ہی پاکستان کی تاریخ کی سب سے نا اہل حکومت میں شامل ہونے سے نفرت کرتے ہیں
یہ اس ساری کہانی کا لب لباب ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
پاکستانی (31-10-10)
جواب

Tags
پاکستان, پاکستانی, پسند, واشنگٹن, وزیراعظم, قواعد, لوگ, نفرت, چین, معلوم, آج, آدمی, ایران, امیر, اسلام, اعلیٰ, ترمیم, جیو ٹی وی, جواب, حال, خلاف, خان, زرداری, علی, صدر زرداری


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:19 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger