|
ترک صدرسیاسی جماعتوں کوبائیکاٹ سے روکنے کیلئے آئے تھے،ذرائع

05-12-07, 08:50 AM
اسلام آباد(رپورٹ :…رؤف کلاسرا)ترک صدر عبداللہ گل کے بارے میں کہاجارہاہے کہ انہو ں نے پاکستان کے حکومت سے ناراض سیاسی رہنماؤں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ آرمی جرنلز سے نمٹنے کیلئے صبر سے کام لیں اور اس سلسلے میں ترک سیاستدانوں سے سبق سیکھیں۔دلچسپ امر یہ ہے کہ صدارت کے منصب پر فائز ہونے سے قبل عبداللہ گل کے ترک آرمی جرنلز اور اعلیٰ ججز سے تعلقات کافی کشیدہ تھے۔ترک فوج عبداللہ گل کی صدارتی انتخاب میں فتح پر خوش نہیں تھی اور چیف آف دی ترکش جنرل اسٹاف ان کی حلف برداری کی تقریب میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے جبکہ حزب اختلاف رپبلکن پیپلز پارٹی نے اس تقریب کا بائیکاٹ کیا تھا۔یہاں تک کہ لال اسکارف میں ملبوس ان کی اہلیہ کو بھی حلف برداری کی تقریب میں شریک نہیں ہونے دیا گیاتھا۔حکومتی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ عبداللہ ایک ایسے دوستانہ ملک کے سربراہ ہیں جس سے صدر پرویز بہت زیادہ متاثر ہیں اور اسی وجہ سے حز ب اختلاف کی جماعتوں کو الیکشن کے بائیکاٹ سے روکنے کیلئے ان کی خدمات حاصل کی گئیں۔ترک صدر نے صدر پرویز کو مایوس نہیں کیا اور ان کا پیغام حزب اختلاف کے رہنماؤں تک پہنچا دیا۔ذرائع نے کہاکہ پاکستان میں سیاسی منظر نامے پر ہونے والی حالیہ تبدیلیوں کی وجہ سے ترک صدر کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی گئی اور کہا گیا کہ پاکستانی سیاسی رہنماؤں کو اپنے ترک فوج کے ان افسران سے نمٹنے کے تجربات سے آگاہ کریں جن کا سیاست میں کافی عمل دخل تھا۔ان کے بارے میں یہ خیال تھا کہ وہ اس طرح کی ساری صورتحال سے نمٹ چکے ہیں تو وہ اس سلسلے میں سیاسی رہنماؤں کو بہتر مشاورت فراہم کرسکتے ہیں۔پاکستانی سیاسی رہنماء کسی بھی طور پر کسی امریکی یا سعودی شخصیت کی بات (فرینڈلی ایڈوائس)سننے پر آمادہ نہیں تھے اس بنا ء پرترک صدر کو پاکستان کے داخلی معاملا ت میں بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کا کہا گیا۔ترکی اور وہاں کی عوام کو پاکستان عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اس وجہ سے میڈیا ،سیاستدا ن اور لوگوں کو ان کے ملک کے داخلی معاملات پر دخل اندازی پر اعتراض نہیں ہو گا جیسا کہ پہلے سعودی عرب اور امریکا کے معاملے میں ہوا تھا۔موجودہ صورتحال سے ایسا لگتا ہے کہ معاملے کے سدھار کیلئے کھیلا گیا جوا کامیاب ہو گیا ہے کہ کیونکہ سیاسی جماعتوں ، عوام ،میڈیا سمیت کسی بھی جانب سے عبداللہ گل کی پاکستانی سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتوں پر اعتراضات نہیں اٹھائے گئے۔ذرائع کے مطابق ترک صدر عبداللہ گل نے بینظیر بھٹو ، قاضی حسین ،نواز شریف اور عمران خان کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ آ پ سب کے مفاد میں ہے کہ آپ لوگ جان لیں فوج سے کس طرح نمٹنا ہے اور اسے کس طرح ملکی سیاست سے الگ رکھنا ہے۔سیاسی رہنماؤں کیلئے ان کا پیغام بلکل واضح تھا کہ ”آپ لوگ صبر کریں اور ترک سیاستدانوں سے سیکھیں کہ فوج سے کس طرح نمٹا جائے اور سب سے اہم یہ کہ الیکشن کا بائیکاٹ کر کے اپنے منظم مخالفین کیلئے میدان کھلا نہ چھوڑیں۔پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے ی نیوز کو بتایا کہ ترک صدر عبداللہ گل نے محترمہ بینظیر بھٹو سے گفتگو کے دوران کہاکہ ترک عوام اور وہ ان کی وطن واپسی اور جمہوری میں حصہ لینے پر بہت خوش ہیں۔جب فرحت اللہ بابر سے پوچھا گیا کہ ترک صدر نے پاکستانی سیاستدانوں کو کس قسم کے مشوروں سے نوازاہے اس پر انہوں نے جواب دیا مجھے اس حوالے سے مکمل علم نہیں ہے۔
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|