|
تشدد کی ویڈیو دیکھ کر لگتا ہے سیالکوٹ میں انسان نہیں درندے بستے ہیں: بی بی سی

27-08-10, 12:20 PM
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سیالکوٹ میں دو نوجوان بھائیوں کی موت کا تو بہت دکھ ہے مگر اس سے بھی زیادہ دکھ اس معاشرے کی موت کا ہے جو ٹرالی سے زمین پر گرتی ہوئی لاشوں کے مسخ شدہ چہروں کی تصاویر انتہائی قریب جا کر بنا رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اقبال اور فیض کے شہر سیالکوٹ میں اب انسان نہیں بلکہ صرف درندے ہی بستے ہیں۔ ہندوئوں کی معتبر کتاب مہا بھارت میں سیالکوٹ کا وجود چھ ہزار سال پرانا ہے مگر اس طرح کی درندگی کی مثال ان ہزاروں برسوں میں تو نہیں ملتی۔ اپنے کیمرے کی آنکھ سے اس درندگی کو فلم بند کرنے والا مقامی رپورٹر و کیمرہ مین حافظ عمران اب تک ٹھیک طرح سو بھی نہیں سکا اور اوپر سے ملنے والی دھمکیوں نے اس کی والدہ اور بہن بھائیوں کا مسلسل خون خشک کیا ہوا ہے اور کیوں نہ ہو۔ حافظ عمران اور ایک دوسرے رپورٹر بلال خان کو جان سے مارنے کی دھمکی دے کر فوٹیج ضائع کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔ میں اور دوسرے مقامی صحافی ان نوجوانوں کی زندگیوں کے بارے میں بڑے فکر مند ہیں۔ جہالت۔ ظلم اور فرقہ واریت کی کئی داستانیں میں نے بطور رپورٹر سیالکوٹ میں دیکھی تھیں۔ اس واقع کے ملزمان کو سزا ملے نہ ملے مگر شہر کے اندر لوگ مطمئن ہیں اور زندگی کو معمول کے مطابق گزار رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
__________________
جاویداسد
|
جاویداسد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
شکریہ: 2,418
1,903 مراسلہ میں 5,667 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|