|
تفتیشی ٹیم کو موت کی وجہ جاننے سے آگے کا اختیار نہیں، برطانوی ہائی کمیشن

07-01-08, 07:51 AM
تفتیشی ٹیم کو موت کی وجہ جاننے سے آگے کا اختیار نہیں، برطانوی ہائی کمیشن
اسلام آباد(عمر چیمہ) اس عام تاثر کے برعکس کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کے تفتیش کار بے نظیر بھٹو کے قتل کے ممکنہ ماسٹر مائنڈز کا بھی سراغ لگائیں گے۔تفتیش کیلئے اب تک جو دائرہ کار متعین کیا گیا ہے اس کے مطابق برطانوی تفتیش کاروں کو موت کی وجہ جاننے سے آگے جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ایک سرکاری ذریعے نے بتایا کہ اگرتحقیقات کے وسیع اختیارات دیئے گئے تو یہ ملکی خود مختاری پر سمجھوتا کرنے کے مترادف ہو گا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ دونوں پاکستانی اور برطانوی پولیس کی ٹیموں نے کیس کی تفتیش شروع کر دی ہے جس میں اول الذکر کا کردار قائدانہ ہو گا لیکن ابھی تک کسی واضح دائرہ کار کا تعین نہیں ہوا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے ذہن میں کیس کی تفتیش کے دوران کوئی واضح کام اور محدودات نہیں ہوں گے۔کابینہ کے پچھلے اجلاس میں بھی اس بات پر غور کیا گیا کہ دائرہ کار کا تعین کرتے ہوئے ملکی خود مختاری کو ذہن میں رکھا جائے چاہے تفتیش عام پبلک اور پیپلز پارٹی کے سوالوں کے جواب دینے میں ناکام ہی کیوں نہ ہو جائے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ برطانوی پولیس کیس کی بلا معاوضہ تفتیش کرے گی کیونکہ تفتیش کار حکومت پاکستان کی درخواست کی بجائے ان کی اپنی حکومت کے فیصلے کے تحت آئے ہیں۔دی نیوز نے وزارت داخلہ کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان میں سے کوئی بھی میسر نہ آ سکا۔تاہم برطانوی ہائی کمیشن کے ترجمان نے مذکورہ بالا حقائق کی تصدیق کی۔ترجمان ایڈن لڈل کے مطابق 5 رکنی سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کے پاس اب تک وجہ موت کے تعین کے علاوہ کسی اور بات کی تفتیش کا کوئی اختیار نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ اگر پاکستانی حکام چاہیں تو ان کی ٹیم اس افسوسناک واقعہ کے ماسٹر مائنڈ کا بھی سراغ لگا سکتی ہے۔لڈل نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ دائرہ کار کا ابھی تک تعین نہیں ہوا ہے۔انہوں نے نیوز کو بتایا یہ بات زیر بحث ہے اور یہ تین چار دن مزید لے گی۔پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے قتل کی تحقیقات بھی سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے کی تھی لیکن نتائج کبھی سامنے نہیں آئے،اس بار بھی دوبارہ ایسا ہی ہوتا نظر آ رہا ہے۔برطانوی ہائی کمیشن کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ پاکستان کی حکومت پر منحصر ہو گا کہ وہ انہیں اپنے نتائج کے بارے میں میڈیا کے سامنے پریس کانفرنس کی اجازت دیتی ہے یا نہیں تاہم انہوں نے کنفرم کیا کہ برطانیہ اس کیس کی تحقیقات کیلئے ایک پیسہ بھی نہیں لے گا کیونکہ یہ برطانوی حکومت کے مطالبہ پر کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکام نے سکاٹ لینڈ یارڈ کو نہیں کہا تھا بلکہ یہ پیشکش برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے کی تھی اور یہاں حکومت نے نتیجتاً اسے قبول کر لیا۔اس پس منظر میں ان کی پولیس ٹیم کیس کی تحقیقات کے لئے یہاں پہنچی ہے۔مشترکہ تحقیقاتی ٹیم موت کی وجہ اس تناظر میں دریافت کرے گی کہ بینظیر بھٹو مرحومہ کی بلٹ پروف گاڑی بنانے والی کمپنی پہلے ہی حکومت کے اس الزام کو مسترد کر چکی ہے کہ بے نظیر کی موت گاڑی کا سن روف لیور سر میں لگنے کے نتیجے میں ہوئی۔کمپنی نے بیان دیا تھا کہ گاڑی کا لیور پلاسٹک کا بنا ہوا تھا نہ کہ لوہے یا اس قسم کی کسی اور سخت چیز کا۔ایک پاکستانی تحقیقاتی افسر جو کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کر رہا ہے نے بھی اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے بے نظیر بھٹو کی گاڑی کے لیور پر خون کے دھبے نہیں دیکھے۔ایک دوسرے حکومتی ذرائع کے مطابق بے نظیر کے قتل کی بین الاقوامی تحقیقات کا ایشو کابینہ کی آخری میٹنگ میں بھی زیر بحث آیا تھا۔اس میٹنگ کی سوچ یہ تھی کہ تحقیق کاروں کو بہت کھلے اختیارات دیکر ملک کی خود مختاری پر سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔صرف ان کی مدد لی جائے گی اور ان سے فنی اور فورنیزک آلات کی مدد لی جائے گی جو کہ ہم پاکستان میں نہیں رکھتے۔میٹنگ میں یہ بھی زیر بحث آیا تھا کہ ایک کمیشن قائم کیا جائے جو بیرونی تحقیق کاروں پر نظر رکھے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|