|
تمام سر کاری ویب سائٹس سے آئین میں پی سی او ترامیم ختم کر دی گئیں

18-04-08, 07:48 AM
تمام سر کاری ویب سائٹس سے آئین میں پی سی او ترامیم ختم کر دی گئیں
اسلام آباد(دلشاد عظیم) کثیر الجماعتی مخلوط حکومت نے تمام سرکاری ویب سائٹس سے آئین میں پی سی او ترامیم ختم کردی ہیں۔حکومت نے آئین پاکستان سے 2 نومبر 2007 ء کے بعد کی جانے والی ترامیم کا خاتمہ کر دیا ہے دی نیوز کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق حکومت سرکاری طور پر موجود آئین کے تمام ذریعوں میں مذکورہ ترامیم کو منسوخ کر دیا ہے جس کے بعد ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے تازہ ترین اقدام میں آئین پاکستان میں شامل کی جانے والی ترامیم کو تمام سرکاری ویب سائٹس سے بھی ختم کردیا گیا ہے جبکہ ذرائع کے مطابق وزیرقانون نے اپنے محکمے کو آئین کی پرنٹ شدہ کاپیاں تقسیم کرنے سے روک دیا عملی طور پر حکومت اور نظم و نسق درحقیقت ترمیم شدہ آئین کے تحت چلایا جارہا ہے جس کی سب سے بڑی مثال میڈیا سے متعلق کالے قانون پیمرا آرڈی ننس کے خاتمے کیلئے مسودے کا قومی اسمبلی میں منظوری کیلئے پیش کیا جانا ہے سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پیمرا اور قومی مصالحتی آرڈی ننس Nro کا درجہ یکساں ہے دونوں کو پی سی او کے تحت تحفظ فراہم کیا گیا بصورت دیگر 120 یوم کی مدت کے خاتمے کے بعد دونوں ختم ہو چکے ہیں۔مذکورہ ترامیم کے خاتمے نے ایک بڑے سوال کو جنم دیا ہے کہ حکومت کو ان ترامیم کے خاتمے کیلئے کسی قانون سازی یا انتظامی حکم کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے جبکہ ایمرجنسی کا نفاذ، پی سی او اور اس کے تحت بعدازاں کی جانے والی ترامیم آئین کا حصہ ہی نہیں ہیں۔ صدر پرویزمشرف نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے قیام کے علاوہ 3 نومبر کو اٹھائے گئے تمام اقدامات اور بعدازاں پیدا ہونے والی صورتحال کو آئینی ترامیم کی صورت میں تحفظ فراہم کیا جس کی توثیق جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان سے حاصل کی گئی۔ جب اس ضمن میں اٹارنی جنرل آف پاکستان جسٹس(ر) ملک قیوم سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ عملی طور پر تمام حکومتی معاملات پی سی او کے ذریعے ترمیم شدہ اور سپریم کورٹ کے توثیق کردہ آئین کے مطابق چلائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ وزات قانون نے آئین پاکستان کی کاپیاں پرنٹ کرائی ہیں اور مذکورہ آئین وزارت قانون کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی موجود ہے اگر کسی کو کاپی درکار ہے تو وزارت قانون سے حاصل کی جائے جب ان سے کہا گیا کہ پاکستان کاعام شہری ابہام کا شکار ہے کہ ملک2 نومبرکو موجودہ آئین کے تحت چلایا جا رہا ہے یا پھر 4 نومبر کے ترمیم شدہ آئین کوتسلیم کیا جارہا ہے تو اپنا واضح موقف دینے کی بجائے انہوں نے مذکورہ سومل کو بڑے قہقہے کے ساتھ ٹال دیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وزیر اطلاعات شیری رحمان نے ازخود تسلیم کیا ہے کہ پیمرا آرڈی ننس کو پی سی او کے تحت تحفظ فراہم کیا گیا ہے جس کے باعث حکومت میڈیا سے پابندیاں اٹھانے کیلئے قانون سازی پر مجبور ہے اٹارنی جنرل نے کہاکہ اگر شق 270aaa کو تسلیم نہ کیا گیا ہوتا تو پیمرا آرڈی ننس کے خاتمے کیلئے پارلیمنٹ سے نئی قانون سازی کرانے کی ضرورت نہیں تھی این آر او سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ این آر او اور پیمرا آرڈی ننس دونوں کو ہی پی سی او کے ذریعے ترمیم شدہ آئین میں تحفظ فراہم کیا گیا ہے بصورت دیگر 120 یوم کی مدت ختم ہونے کے بعد دونوں قوانین جنوری میں ختم ہو جاتے اٹارنی جنرل جن کا اپنا مستقبل واضح نہیں کہ آیا وہ یا پھرکوئی نیا شخص اٹارنی جنرل کا عہدہ سنبھالے گا کاکہنا تھاکہ حکومت نے آئین کی درست صورتحال جاننے کیلئے کہ کیا 2 نومبرکو کی جانے والی ترامیم آئین کا حصہ ہیں یا نہیں مجھ سے کوئی رابطہ نہیں کیا ۔ دریں اثناء وزیر قانون فاروق نائیک نے پیر کو دی نیو کو بتایا تھاکہ انہوں نے آئین پاکستان کی ان کاپیوں کی تقسیم رکوانے کاحکم دیا جن میں 3 نومبر کو ایمرجنسی کے نفاذ، پی سی او اور اس کے تحت ترامیم کو شامل کیا گیا تھا۔ فاروق نائیک نے اپنے سابقہ بیان میں آئین کو متنازعہ قرار دیا تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس معاملے پرخود بھی ابہام یا موجودہ دور میں وزارت قانون کے سربراہ بن جانے کے بعد بعض مجبوریوں کا شکار ہیں۔ وزارت قانون نے اپنے باس کے حکم پر ان ترامیم کو محکمے کی آفیشل ویب سائٹ سے چند روز قبل ختم کر دیا۔وزارت اطلاعات سمیت دیگر سرکاری ویب سائٹس پر بھی آئین پی سی او ترامیم کے بغیر موجود ہے کیونکہ یہ تمامویب سائٹس وزارت قانون کی ویب سائٹ سے منسلک ہیں۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|