|
تمام سیاستدانوں کو سیکورٹی فراہم کی جائے،امریکا اور برطانیہ تحقیقات میں مدد کریں، بینظیر

22-10-07, 06:37 PM
تمام سیاستدانوں کو سیکورٹی فراہم کی جائے،امریکا اور برطانیہ تحقیقات میں مدد کریں، بینظیر
پیپلز پارٹی چیئرپرسن بینظیر بھٹو نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا اور برطانیہ سانحہ کارساز کی تحقیقات میں مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاست دانوں کو سیکیورٹی فراہم کی جائے، خود کش حملے کے بعد میرا صدر پرویز سمیت انتہاپسند مخالف طاقتوں سے اتحاد قائم ہوسکتا ہے، انٹیلی جنس سروس میں موجود بعض عہدیداروں سے نجات کیلئے اصلاحات کرنا ہونگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانوی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے اور اپنی رہائش گاہ میں صحافیوں کے ایک گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے بلاول ہاؤس میں خواتین کے اجتماع سے بھی خطاب کیا، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ بزدلوں نے رات کی تاریکی میں مجھ پر نہیں بلکہ عوام، ملک اور جمہوریت پر کیا گیا۔ بینظیر بھٹو نے لیاری میں شہید کارکنوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت بھی کیا جبکہ جے پی ایم سی میں زخمیوں کی عیادت بھی کی۔ تفصیلات کے مطابق بینظیر بھٹو نے متنبہ کیا ہے کہ ملک میں طالبان اور القاعدہ عناصر نے پاکستان میں اپنی جڑیں مضبوط کرلی ہیں لیکن جمعرات کے روز ہونے والا خود کش حملہ صدر جنرل پرویز مشرف سمیت ان تمام طاقتوں کے ساتھ میرا اتحاد قائم کرسکتا ہے جو انتہا پسندی کے خلاف ہیں۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق کراچی میں اپنی رہائش گاہ میں صحافیوں کے چھوٹے گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے بینظیر بھٹو برطانیہ اور امریکا سے اپیل کہ وہ جمعرات کو ہونے والے خود کش حملے میں ماہرانہ مدد فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کی آزادانہ تحقیقات کی جائے گی جب ان کا قافلہ اندھیرے میں آگے بڑھتا جا رہا تھا تو اس وقت اسٹریٹ لائٹس کیوں بند تھیں، جنگجو عناصر سیاسی عمل سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم ہر صورت میں عوامی رابطہ مہم چلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاست دانوں کو سیکیورٹی فراہم کی جائے۔ بینظیر بھٹو نے کہا کہ جیسے صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے ہوئے ہیں ویسے ہی مجھے پر بھی ہوا ہے اور مجھے یقین ہے کہ جمعرات کے روز ہونے والا حملہ میرا ان طاقتوں سے اتحاد قائم کرے گا جو انتہا پسندی کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں خوش قسمت تھی کہ میں خود کش حملے میں بچ گئی اور مجھے چوٹیں نہیں آئیں لیکن دوسری صبح میرے کان سے خون بہہ رہا تھا۔ انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ ریلی منعقد نہیں کرنا چاہئے تھی، یہ کوئی غلطی نہیں تھی اور میرے خیال میں ریلی کے انعقاد سے ثابت ہوگیا ہے کہ پاکستان کے لوگ انتہا پسندوں اور شدت پسندی کی مخالفت کرتے ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ وہ اپنی نقل و حرکت کے بارے میں اطلاعات جاری نہیں کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ خود کش حملوں کے خطرے کی وجہ سے ہمیں اپنی مہم کو کسی حد تک تبدیل کردیں گے لیکن ہمیں غیر متزلزل نہیں کیا جاسکتا، ہم عوام سے ملتے رہیں گے۔ ادھر برطانوی اخبار ٹیلی گراف کو انٹرویو دیتے ہوئے بینظیر بھٹو نے ملک کی انٹیلی جنس سروسز میں موجود بعض عہدیداروں کی موجودگی پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے نجات حاصل کرتے ہوئے ہمیں اصلاحات کی ضرورت ہے اور ہمیں ایسی سیکورٹی سروس کی ضرورت ہے جو اپنی حد تک ماہرانہ صلاحیتیں رکھتی ہو۔ برطانوی اخبار ٹیلی گراف کو انٹرویو دیتے ہوئے بینظیر نے کہا کہ مجھے انٹیلی جنس سروسز میں موجود بعض لوگوں بارے خدشات ہیں انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسی انٹیلی جنس سروس کی ضرورت ہے جو مذہبی یا سیاسی جذبات سے بالا تر ہو۔ دریں اثناء اتوار کو سانحہ 18 اکتوبر کے شہداء کے ایصال ثواب کیلئے بلاول ہاؤس میں پی پی شعبہ خواتین کے زیر اہتمام منعقدہ فاتحہ خوانی کے بعد خواتین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بینظیر بھٹو نے کہا کہ میں پاکستان کی ماؤں‘ بہنوں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ اپنی بیٹوں اور بھائیوں کی ایسی تربیت کریں کہ کوئی بیٹا اور بھائی ہاتھ میں اسلحہ نہ اٹھائے، غریبوں اور بے گناہوں کا خون نہ بہائے بلکہ ملک اور دین کی خدمت کرے۔ اسٹاف رپورٹر کے مطابق بینظیر بھٹو نے کہا کہ ہمارا نظریہ تشدد نہیں ہے ہمارے ہاتھ میں اسلحہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک دشمن نہیں چاہتے کہ عوام کو روزگار میسر ہو‘ تعلیم ملے‘ روٹی‘ کپڑا اور مکان ملے‘ وہ عوام کو پسماندہ رکھنا چاہتے ہیں تاکہ انہیں اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ رات کی تاریکی میں بزدلوں نے مجھ پر نہیں بلکہ عوام، ملک اور جمہوریت پر حملہ کیا۔ انہوں نے پرعزم لہجے میں کہا کہ میں عوام کو یقین دلاتی ہوں کہ ہم اکٹھے جئیں گے اور جمہوریت کیلئے اکٹھے لڑیں گے۔ اس موقع پر انہوں نے شہداء کے بچوں کو گود میں لیا اور انہیں پیار کیا‘ اس موقع پر انہوں نے شہداء کے فردا فردا نام لئے اور پنڈال میں موجود ان کی ماؤں بہنوں اور بچوں سے تعزیت کی‘ انہیں دلاسادیا‘ اس موقع پر بڑے جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے اور بعض شہداء کی مائیں زار وقطار روتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ میری جان کو خطرہ ہے‘ صدر مملکت نے بھی کہا کہ میں وطن واپس نہ آؤں‘ میری جان کو خطرہ ہے‘ لیکن میرا ایمان ہے کہ ہم مسلمان ہیں اللہ زندگی دیتا ہے اور جب وقت پورا ہو جائے تو کوئی نہیں بچا سکتا‘میرے بھائی اور بہنوں نے بھی اپنی زندگی داؤ پر لگائی‘ انہوں نیایک مشن کیلئے جانیں دی‘ ہم جمہوریت کے لئے لڑرہے ہیں عوام دشمن قوتیں جمہوریت نہیں چاہتی‘ اس موقع پر ناہید خان‘ شیری رحمان‘ فہمیدہ مرزا‘ پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کی صدر‘ فرزانہ بلوچ‘ شاہدہ رحمانی‘ سعیدہ‘ رضیہ بٹ، شمع مٹھانی، نسرین چانڈیو، مہرین اور دیگر بھی موجود تھیں۔ علاوہ ازیں بینظیر بھٹو نے اتوار کو لیاری کا دورہ کیا اور جاں بحق ہونے والے پارٹی کارکنوں کے گھروں میں جا کر ان کے لواحقین سے تعزیت کی۔ اس موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے اور بے نظیر کے قافلے میں پولیس کی متعدد گاڑیاں بھی شامل تھیں۔ پیپلز پارٹی کے کئی مرکزی رہنما اور ارکان قومی و صوبائی اسمبلی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اچانک دورے پر کارکنوں نے ان کا والہانہ خیرمقدم کیا اور پرجوش انداز میں نعرے لگائے۔ وہ 18 اکتوبر کو جاں بحق ہونے والے لیاری سے تعلق رکھنے والے انٹرنیشنل فٹ بالر عبدالخالق کے گھر بھی گئیں اور ان کے اہلخانہ سے تعزیت کی اور ان کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی۔ انہوں نے سبزواری کلینک کا بھی دورہ کیا اور بم دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کی۔ پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن نے سیّد محمد شاہ دولہ سبز واری کندی والا بخاری کے مزار پر بھی حاضری دی۔ بینظیر بھٹو نے جے پی ایم سی میں زخمیوں کی عیادت کی، انہوں نے مختلف وارڈز کا دورہ بھی کیا اور کارکنوں میں گھل مل گئیں۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں کی جرأت مندانہ جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے ان پر خود کش حملہ ناکام بنایا۔ اس موقع پر آفتاب شعبان میرانی، مخدوم شاہ محمود قریشی، سید قائم علی شاہ، نثار احمد کھوڑو، سینیٹر صفدر عباسی، فرحت اللہ بابر، ناہید خان اور ڈاکٹر ذوالفقار مرزا بھی ان کے ساتھ تھے۔ بلاول ہاؤس واپس آنے کے بعد انہوں نے کلفٹن میں بزرگ سیاستدان معراج محمد خان کی بھی عیادت کی۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|