واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


ججوں اور بار کے تعاون سے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے بھرپور اقدامات کئے جائیں گے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 13-09-11, 07:55 AM   #1
ججوں اور بار کے تعاون سے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے بھرپور اقدامات کئے جائیں گے
محمد یاسرعلی محمد یاسرعلی آف لائن ہے 13-09-11, 07:55 AM

اسلام آباد(ثناء نیوز ) چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ ججوں اور بار کے تعاون سے ملک میں بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بناتے ہوئے آئین کا تحفظ اور دفاع کیا جائے گا۔ وقتی مداخلتوں نے آئین کو متاثر کیا لیکن ایسے اقدامات غیرآئینی طریقے سے کیے گئے جن کو کبھی قانونی تحفظ حاصل نہ ہو سکا تاہم ان غیر آئینی اقدامات سے عوام متاثر ہوئے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ماضی میں غیر آئینی مداخلت کی وجہ سے سیاسی استحکام ، معاشی اور سماجی ترقی کو سخت نقصان پہنچا ہے پاکستان کے عوام آئین پر اعتماد رکھتے ہیں اگرچہ ماضی میں عدلیہ کا کردار قابل تعریف نہیں رہا تاہم عدلیہ نے سخت مراحل سے گزر کر سبق سیکھا ہے ۔ ہماری قومی خود مختاری و سلامتی کا راز آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی میں مضمر ہے ۔ جمہوریت کے فروع کے لیے گڈ گورننس ،شفاف انتظامیہ ، شفافیت اور احتساب ملکی ترقی اور عظمت کے لیے انتہائی ضروری ہیں ۔افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ ریٹائرڈ ججوں کو بہت سے مراعات ملتی ہیں انہیں دوبارہ ملازمت کی خواہش نہیں رکھنی چاہیئے ۔پیر کے روز سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال 2011-12 ء کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں اور ساتھی ججز آپ کو 2022-12 ء کے نئے عدالتی سال کی افتتاحی تقریب کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔ عدالتی کلینڈر کے مطابق اس تقریب کو باقاعدہ طور پر منایا جا رہا ہے ۔ یہ ایک عالیشان تقریب ہے جو ہم منا رہے ہیں ۔ اس تقریب کا مقصد عزم اور حوصلوں کی تجدید کرنا ہے کہ انصاف کی فراہمی اور آئین کی پاسداری کرنا ہوگی ۔ اس دھرتی کے بنیادی حقوق کو نافذ کرنا اور تمام ملکی اداروں اور اتھارٹی کے بنیادی حقوق کو نافذ کرنا اور تمام ملکی ا داروں اور اتھارٹی کو قانون کے مطابق چلنا ہوتا ہے ۔ آئین تمام شہری ، بلاامتیاز ذات پات ، رنگ و نسل کی لوگوں کی زندگی اور حقوق کو تحفظ کی ضمانت دیتا ہے ۔ قانون کے سامنے تمام سیاسی ،سماجی کے حقوق برابر کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہ بیشک ایک حقیقت ہے لیکن آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میرے بھائی ججوں اور بار کی حمایت کی بدولت ہمیں انسانی حقو ق کی تحفظ کے لیے اب تک کوششیں جاری رکھیں گے ۔ ہمیں اپنے حلف کی پاسداری کرنا ہوگی تاکہ آئین کا دفاع کیا جا سکے ۔ چیف جسٹس نے عدالت عظمیٰ کے ریٹائرڈ ججوں جسٹس ر حمت حسین جعفری ، جسٹس خلیل الرحمان رمدے ، جسٹس راجہ فیاض اور رجسٹس جاوید اقبال کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گزشتہ سالوں میں اہم فیصلے کیے تھے۔ چیف جسٹس نے زیر التواء مقدمات کو نمٹانے کے حوالے سے اعلیٰ عدلیہ اورذیلی عدالتوں میں مقدمات کو جلد نمٹانے کے حوالے سے دی گئی ہدایات کا بھی ذکر کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ مقدمات کے اندراج اور زیر التواء مقدمات کی تعداد میں اضافہ عدالتی نظام کے لیے قابل توجہ ہے ۔ اس معاملے کو حل کرنے کے یے یکم جون 2009 ء کو جوڈیشل پایسی کا اعلان کیا گیا ان کاکہنا تھا کہ دنیا کا کوئی نظام متوقع نتائج حاصل نہیں کر سکتا جب تک اس میں معاشرتی تبدیلیوں کے مطابق تبدیلیاں نہ لائی جائیں ۔ جوڈیشل کمیٹی پالیسی ساز کمیٹی کے تحت کانفرنس اس سال بھی منعقد ہوئی جس میں گزشتہ سال کے تجربات اور تجاویز کا جائزہ لیا گیا ۔ کانفرنس کی سفارشات کا عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے جائزہ لیا اور جوڈیشل پالیسی کا حصہ بنایا گیا جس کے باعث پالیسی کے تحت مثبت نتائج سامنے آئے ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ستمبر 2010 سے 10 ستمبر 2011 تک 15027 کیسز جن میں 10445 آئینی درخواستیں ، 3713 اپیلیں اور 869 مقدمات دائر کیے گئے ۔ اس عرصہ کے دوران 15262 کیسز کا فیصلہ سنا دیا گیا جس میں 9696 درخواستیں 3738 اپیلیں اور 1829 مختلف نوعیت کے مقدمات تھیں ۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں 7173 نئے مقدمات دائر کیے گئے ۔ اور 8290مقدمات کا فیصلہ کیا گیا ۔ لاہور برانچ رجسٹری میں 4733 مقدمات دائر کیے گئے اور 4462 مقدمات کا فیصلہ کیا گیا ، کراچی میں 1570 نئے مقدمات دائر ہوئے ۔ جن میں سے 1533 مقدمات کا فیصلہ سنایاگیا جبکہ پشاور میں1144 نئے مقدمات دائر کیے گئے اور 784 مقدمات کا فیصلہ کیا گیا جبکہ کوئٹہ میں 407 نئے کیسز دائر ہوئے اور 191 کا فیصلہ کیا گیا ۔ ان کا کہنا تھا 19558 کیسز ستمبر 2010 میں زیر التواء تھے اور 15027 نئے مقدمات دائر کیے گئے اسی طرح مقدمات کی کل تعداد 34585 مقدمات ہوگئی اور اب بھی 19323 زیر التواء ہیں ۔ حقوق انسانی سیل کے تحت لیے گئے مقدمات کی تعداد ستمبر 2010 ء میں 15263 تھی ۔ جبکہ اب تک 52432 نئی درخواستیں اور شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں سے 56118 کیسز نمٹا دئیے گئے ہیں ۔ چیف جسٹس نے مقدمات کو نمٹانے میں بار اور عدالتی ملازمین کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ بار نے عدالتی آزادی کے لیے ا پنے کردار کو بخوبی ادا کیا ہے اور عدالت کی آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے معاونت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 18 ویں آئینی تر میم کے تحت قائم کیے گئے جو ڈیشنل کمیشن نے 23 اجلاس منعقد کیے گئے اور 100 کے قریب ججوں کی اعلیٰ عدلیہ میں تقرری کی سفارش کی گئی ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وکلاء ا ور ججز کی تربیت کے لیے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی نے 26 تربیتی پروگرامات منعقد کیے جن مین 558 ججوں اور عدالتی افسران اور لاء افسران کو تربیت دی گئی ۔ ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل اکیڈمی کی توسیع کے لیے مستقبل میں زمین کی ضرورت ہوگی ۔ جوڈیشل اکیڈمی ، عدالتی تعلیم کے لیے اہم مرکز ہو گی ۔ جہاں پر ایل ایل ایم ، اور پی ایچ ڈی سطح کی تعلیم دی جا سکے گی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو ریٹائر کے وقت معقول تنخواہیں اور مراعات ملتی ہیں اس لیے انہیں دوبارہ ملازمت لینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیئے ۔ آئین کے آرٹیکل 207 کے تحت کوئی بھی ریٹائر جج دو سال کی مدت سے پہلے کوئی ملازمت اختیار نہیں کر سکتا ۔ ججوں کو اپنا تشخص برقرار رکھنا ہو گا اور ا یسی کسی عہدہ قبول نہیں کرنا ہو گا جو ان کے منصب سے کم ہو ۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے کے تشخص کے لیے ایسے تمام جو عہدوں پر تعینات ہیں ۔ ان کو اپنی عہدے پر نظر ثانی کرنی چاہیئے اور ایسے عہدہ چھوڑ دینے چاہیئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں جاری سیاسی جھگڑوں اور عسکریت پسندی ، قومی سلامتی و کو درپیش خطرات اور امن وامان کے مخدوش صورت حال اور مقدمات کے زیر التواء کے باوجود بھی یہ ایک مسلمہ حقیقت ہیں کہ ہم محب وطن پاکستانی ہیں ان کاکہنا تھا کہ بنیادی مسائل پر سب کا اتفاق ہے ہمار ے پاس گڈ گورننس کے لیے بنیادی قوانین موجود ہیں اور ہمارا آئین اتفاق رائے سے منظور کی گئی دستاویز ہے۔ آئین پر عمل کرکے آزادی مساوات ، صبر تحمل ، سماجی ، معاشی استحکام اور سیاسی انصاف کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ اس سال سپریم کورٹ نے آئین کی روح کے مطابق تاریخ ساز فیصلے کیے ۔ کامیاب فیصلے کی بنیاد پر عدالت آئین کی تشریح کرنا چاہتی ہے تاکہ گڈ گورننس اور بہترین انتظام کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ آسکے ان کا کہنا تھا خردبرد کیے گئے اربوں روپے کی وصولی ، مشکوک معاہدوں کی منسوخی ، اورغیر قانونی قابضین سے زمینوں کی راہ گزاری ، ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے ، گزشتہ سال کے سیلاب کے دوران ہونے والے نقصان کے ذمہ دران کے نشاندہی ، پولیس کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل ، انتخابی ووٹ لسٹوں میں بے قاعدگیوں اور ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے بہت سے معاملات عدالت کے سامنے آئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بلا خوف و خطر ،ذاتی مفادات اور تعلقات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے فرائض انجام دینے کا عزم کر رکھاہے ۔اس موقع پر اٹارنی جنرل انوار الحق اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر عاصمہ جہانگیر نے بھی خطاب کیا
SANA (South Asian News Agancy) | ججوں اور بار کے تعاون سے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے بھرپور اقدامات کئے جائیں گے ،افتخارمحمد چوہدری
__________________
فیس بک پہ پاک نیٹ کا حلقہ احباب
https://www.facebook.com/groups/pak.net

دوستوں سے گزارش ہے کہ اپنے شائع کردہ موضوع کو یہاں بھی شئیر کردیا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پاک نیٹ کی فیملی کا حصہ بنایا جاسکے۔

 
محمد یاسرعلی's Avatar
محمد یاسرعلی
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: راولپنڈی
عمر: 28
مراسلات: 4,031
شکریہ: 7,881
2,881 مراسلہ میں 7,142 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 78
Reply With Quote
محمد یاسرعلی کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (13-09-11)
جواب

Tags
کوئٹہ, کورٹ, کراچی, پولیس, پاکستان, پاکستانی, نیوز, نظر, ماحولیاتی آلودگی, متوقع, مسائل, آلودگی, انتظامیہ, اسلام, اعلیٰ, بہترین, بھائی, تعلیم, جلد, جاوید اقبال, حال, خوش, زندگی, سپریم, سال


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تعارف حضرت علامہ فیض احمد اویسی قادری آف بہاولپور بلال اویسی گپ شپ 15 17-07-10 02:12 PM
بہالپور سے بہاولنگر آنیوالی ٹرین میں بم دھماکہ‘جاں بحق ‘متعدد زخمی ابن جلال خبریں 0 26-09-08 02:49 PM
یو فون نے جدید ترین گیمز پورٹل متعارف کرا دیا Real_Light موبائلز معلومات اور جائزہ 5 06-06-08 06:36 PM
:::‌ محراب پور ٹرین حادثہ،ہلاکتیں سیکڑوں تک پہنچنے کا خدشہ،ہزاروں مسافر ٹرینوں میں محصور،کھانا پانی ختم ::: ابو کاشان خبریں 0 23-12-07 11:01 PM
صدر کی اہلیت کا کیس جلد نمٹانے کا فیصلہ، ججوں کی تعداد پوری کرنے میں دشواری عبدالقدوس خبریں 0 08-11-07 03:23 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:47 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger