|
ججوں کی بحالی ،حکمراں اتحاد کی کمیٹی سفارشات مرتب کرے گی،زرداری نواز ملاقا

23-04-08, 01:49 PM
ججوں کی بحالی ،حکمراں اتحاد کی کمیٹی سفارشات مرتب کرے گی،زرداری نواز ملاقات میں فیصلہ
اسلام آباد(نمائندہ جنگ) پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کے درمیان منگل کو ہونے والی ملاقات میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ججوں کی بحالی کا طریقہ کار ایک چھ رکنی کمیٹی طے کرے گی، جس میں دونوں جماعتوں کے تین تین رہنما شامل ہوں گے۔ اعلان مری کے مطابق ججوں کی بحالی کے لئے قرارداد پیش کی جائے گی۔ حکومت اپنے انتظامی اختیارات کے تحت تمام معزول ججوں کو 2 نومبر 2007ء کی پوزیشن میں واپس لائے گی جبکہ میثاق جمہوریت کے مطابق آزاد اور خودمختار عدلیہ کے قیام‘ پارلیمنٹ اور ایوان صدر کے اختیارات میں توازن‘ خودمختار الیکشن کمیشن اور دیگر آئینی ترامیم کیلئے دونوں جماعتوں کے تین تین ارکان پر مشتمل کمیٹی سفارشات مرتب کرے گی،اس موقع پر شریک چیئر مین پیپلز پارٹی آصف علی زرداری نے کہا کہ اگر کسی جج نے کسی ڈکٹیٹر کو موقع دیا تو اس جج کو ٹانگ دیں گے،تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز پنجاب ہاؤس میں پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کے درمیان بات چیت میں ججوں کی بحالی کے معاملہ پر تمام اختلافات ختم کر لئے گئے اور ججوں کو اعلان بھوربن کے مطابق بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ آصف علی زرداری کی معاونت رضا ربانی‘ فاروق نائیک‘ شیری رحمن اور رحمن ملک نے کی جبکہ میاں نواز شریف کی معاونت ظفر اقبال جھگڑا‘ راجہ ظفر الحق‘ جاوید ہاشمی‘ احسن اقبال نے کی۔ تین گھنٹہ جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں دونوں رہنماؤں نے ججوں کو اعلان مری کے مطابق بحال کرنے اور آئینی پیکج کے لئے 6 رکنی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا۔ آصف علی زرداری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ تمام سیاسی اور جمہوری قوتیں اعلان مری پر عملدرآمد کی خواہاں ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی آزاد اور خودمختار عدلیہ کے قیام کے لئے چارٹر آف ڈیموکریسی پر عملدرآمد کی خواہاں ہے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ میں الٹی یا سیدھی گنتی کے خلاف ہوں، اگر گنتی کو مان لیتا تو سیاست میں جدوجہد نہ ہوتی۔ سہالہ گیسٹ ہاؤس میں مجھے 14 دن رکھا گیا۔ وہاں بات مان لیتا۔ ہم عدلیہ کو آزاد اور خودمختار بنانے کے خواہاں ہیں، انفرادی معاملات کو نہیں، مخلوط حکومت کو توڑنے کی خواہشات ادھوری رہ جائیں گی۔ مجھے جیل میں میاں نواز شریف نے نہیں بلکہ فاروق لغاری نے بھیجا تھا۔ میاں نواز شریف نے مجھے راولپنڈی کی سیٹ دے دی ہے۔ اگر کسی جج نے کسی ڈکٹیٹر کو موقع دیا تو اس جج کو ٹانگ دیں گے۔ میاں نواز شریف نے پریس کانفرنس میں کہا کہ تمام ججز اعلان مری کے مطابق ہی بحال ہوں گے۔ آئینی پیکج بعد کی بات ہے۔ عوام نے ہمیں صدر کے مواخذے کیلئے ووٹ دیا ہے۔ ہم عوام کے نمائندہ ہیں اور ان کی نمائندگی کر رہے ہیں، یہ فوجی مارشل لا نہیں، کوئی ڈکٹیٹر کسی سیاستدان سے بات نہیں کر رہا بلکہ دو سیاستدان ایک دوسرے سے بات کر رہے ہیں۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے اگر رکاوٹ آجائے تو ڈائیلاگ سے دور کرتے ہیں۔ بات چیت میں کوئی ڈیڈ لاک نہیں تھا اگر تھا بھی تو ہم نے ختم کر دیا ہے۔ صدر کے اسمبلیاں توڑنے کے اختیار کے خاتمے کے آصف علی زرداری اور میں دونوں حامی ہیں۔ میں کہتا ہوں جلدی کریں آصف علی زرداری کہتے ہیں تھوڑا صبر کریں۔ اس موقع پر آصف علی زرداری نے کہا کہ ابھی ہم اس پوزیشن میں نہیں‘ میاں نواز شریف نے کہا کہ میں صبر کر رہا ہوں اگر پاکستان عوامی نمائندوں کے ہاتھ میں رہتا تو نہ ٹوٹتا، نہ عدالتیں ‘ نہ پارلیمنٹ اور نہ آئین ٹوٹتا۔ پریس کانفرنس کے آغاز میں وفاقی وزیر قانون و انصاف فاروق ایچ نائیک نے مخلوط حکومت میں شامل دونوں جماعتوں کی قیادت کی طرف سے ایک مشترکہ تحریر پڑھ کر سنائی جس میں ڈیڈ لاک کی خبروں پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا گیا تھا۔ امریکی دباؤ کے حوالے سے جب سوال کیا گیا تو آصف زرداری نے نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے تو بش کی کوئی کال نہیں آئی، آپ کو تو کوئی کال نہیں آئی تھی۔ صدر کی طرف سے بحران پیدا کرنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں آصف زرداری نے ایوان صدر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف اور میں تمام معاملات میں پرسکون ہیں۔ البتہ کچھ لوگ سکون میں نہیں ہیں۔ اس موقع پر شیری رحمن ‘ رحمن ملک‘ سینیٹر رضا ربانی‘ شہباز شریف ‘ راجہ ظفر الحق‘ جاوید ہاشمی‘ سردار مہتاب اور احسن اقبال بھی موجود تھے۔ حکمران اتحاد کی طرف سے قرارداد اسمبلی میں پیش کرنے کے حوالے سے وقت کا تعیّن نہیں کیا گیا۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|