|
ججوں کی بحالی کا مطالبہ شامل نہ ہو ا تو چارٹر آف ڈیمانڈ تسلیم نہیں کر ینگے ،وکلاء رہنما

07-12-07, 08:15 AM
لاہور (نمائندگان جنگ، ایجنسیاں) وکلاء تنظیموں کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ ججوں کی بحالی کا مطالبہ شامل نہ ہوا تو چارٹر آف ڈیمانڈ تسلیم نہیں کریں گے،پشاور ہائیکورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز نے قرارداد کے ذریعے عدلیہ کی آزادی اور ججوں کی بحالی کے مطالبات شامل نہ کرنے کی صورت میں چارٹر آ ف ڈیمانڈ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور 17 دسمبر تک پشاور ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت بیرسٹر باچاخان نے کی ، کراچی بار ایسوسی ایشن نے ایمرجنسی اور پی سی او کے خلاف 15 دسمبر کو عدالتوں کا بائیکاٹ اور احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ ایمرجنسی کے خلاف سندھ ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں میں وکلاء کی ہڑتال اور عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا ، کراچی کی ماتحت عدالتوں میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی اور وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے ، عدالتوں پر مکمل سناٹا چھایا رہا ، سٹی کورٹ کے احاطے میں رجسٹرار آفس ،بینک اور تمام کینٹینز بھی بند رہیں۔کراچی میں سندھ ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا اور وکلاء نے جنرل باڈی کے اجلاس منعقد کئے جن میں فیصلہ کیا گیا کہ 30 دسمبر کو ہائی کورٹ سے پریس کلب تک احتجاج کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے رہنما اور سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان وکلاء سے یکجہتی کے اظہار کیلئے بار روم پہنچے اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے وکلاء تحریک سے علیحدگی پر تنقید کی۔ راولپنڈی میں ڈسٹرکٹ کورٹ سے وکلاء نے احتجاجی جلوس نکال کر ضلع ناظم کے دفتر کے باہر احتجاج کیا اور بعد میں نعرے لگاتے ہوئے ڈی آئی جی آفس پہنچے جہاں وکلاء اور پولیس اہلکاروں کے درمیان معمولی ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے شہروں میں وکلاء نے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور آج ہفتے کو کوئٹہ میں دھرنا دیا جائے گا۔ پشاور میں وکلاء نے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کے بعد جنرل باڈی کا اجلاس منعقد کیا جس میں اپوزیشن جماعتوں سے مطالبہ کیا گیا، اے پی ڈی ایم اور اے آر ڈی کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں پہلا مطالبہ عدلیہ کی آزادی اور ججوں کی برطرفی کی بحالی ہونا چاہئے بصورت دیگر وکلاء اس کو قبول نہیں کریں گے۔ وکلاء رہنماؤں کا کہنا تھا کہ نوازشریف اور بینظیر بھٹو کویاد رکھنا چاہئے کہ عدلیہ کی آزادی کی وجہ سے ہی وہ آج پاکستان میں موجود ہیں۔ ڈسٹرکٹ بار فیصل آباد نے احتجاجی ریلی نکالی۔ اے پی سی کے انعقاد کی تاریخ کا فیصلہ سیاسی جماعتوں سے رابطوں اور مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ دوسرے شہروں کی طرح لاہور میں بھی وکلاء نے ہڑتال کی۔ جلسے منعقد کئے اور احتجاجی جلوس نکالے جن میں عدلیہ کو بحال کرو، میڈیا پر پابندیاں ختم کرو کے نعرے لگائے گئے۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے درجنوں وکلاء نے جنرل ہاؤس کے اجلاس کے بعد بار سے جی پی او چوک تک احتجاجی ریلی نکالی۔ قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا اجلاس وکلاء کی تحریک اور معزز جج صاحبان کی بحالی کیلئے صدر لاہور ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن محمد احسن بھون کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں مقررین نے کہا کہ جب تک 2 نومبر 2007ء والی عدلیہ کی پوزیشن بحال نہیں ہوتی۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|