|
ججوں کی بحالی کے معاملے پر حکمران اتحاد میں ڈیڈلاک پیدا ہو گیا

21-04-08, 06:04 PM
ججوں کی بحالی کے معاملے پر حکمران اتحاد میں ڈیڈلاک پیدا ہو گیا
ڈیڈلاک ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر اور بحالی کی تاریخ پر ہوا، ذرائع
حکمران جماعتوں میں ججوں کی بحالی کے معاملے پر کوئی ڈیڈلاک پیدا نہیں ہوا، فرحت اللہ بابر
اسلام آباد۔۔۔۔۔۔ معزول ججوں کی بحالی کے معاملے پر حکمران اتحادی جماعتوں میں ڈیڈلاک پیدا ہو گیا ہے، جن معاملات پر تعطل پیدا ہوا ہے ان میں ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر، بحالی کی تاریخ اور مسودے کی کچھ مزید شقیں شامل ہیں جبکہ حکمران اتحاد میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ معاملات طے کرنے کےلئے آج دوبارہ ملاقات ہو گی جبکہ ججوں کی بحالی کی قرارداد قومی اسمبلی کے رواں سیشن میں پیش کی جائے گی جبکہ تاریخ کا حتمی فیصلہ آج دوبارہ ہونے والی ملاقات میں کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق پیر کو یہاں پنجاب ہائوس میں حکمران اتحاد کے مذاکرات ہوئے جن میں پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی کے علاوہ مسلم لیگ ن کے رہنمائوں راجہ ظفر الحق، شہباز شریف، اقبال ظفر جھگڑا، چوہدری نثار علی خان اور خواجہ محمد آصف جبکہ پی پی کے رہنمائوں میں شیری رحمن، فاروق ایچ نائیک اور خورشید شاہ نے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات 3 گھنٹے تک جاری رہے جن میں ججز کی بحالی کے حوالے سے پیش کی جانے والی قرارداد کے مسودے سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ آصف علی زرداری اور میاں محمد نواز شریف کے درمیان علیحدہ ملاقات بھی ہوئی۔ اجلاس میں ججز کی بحالی کےلئے قرارداد کے مسودے کا جائزہ لیا گیا جسے حتمی منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اجلاس میں ججز کی بحالی کے حوالے سے قرارداد کی منظوری کےلئے مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مذاکرات آج منگل کو بھی ہوں گے۔ اجلاس کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کے ترجمان صدیق الفاروق نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ حکمران اتحاد کے اجلاس میں قومی اسمبلی میں ججز کی بحالی کے حوالے سے پیش کی جانے والی قرارداد کو حتمی شکل دینے کےلئے آج منگل کو بھی مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات کا مقصد اعلان مری کو عملی جامہ پہنانے کےلئے اقدامات پر غور کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ججز کی بحالی کے حوالے سے دونوں جماعتوں میں مکمل اتفاق رائے ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی جماعت اعلان مری سے انحراف کی متحمل نہیں ہو سکتی ۔ ذرائع کے مطابق ججوں کی بحالی کےلئے قرارداد قومی اسمبلی کے رواں سیشن میں ہی پیش کی جائے گی جبکہ تاریخ کا حتمی تعین آج دوبارہ ہونے والی ملاقات میں کیا جائے گا۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران صدیق الفاروق نے کہا کہ مذاکرات کے نتیجہ خیز ثابت نہ ہونے کا اعتراف کیا تھا اور کہا تھا کہ اجلاس کا مقصد اعلان مری کو عملی جامہ پہنانے کے حوالے سے اقدامات پر غور کرنا تھا تاہم مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچے لہٰذا کسی بھی نتیجے پر پہنچنے کےلئے جماعتوں کے سربراہ آج پھر دوپہر 12 بجے ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2 نومبر والی عدلیہ کو ہر صورت بحال کریں گے۔ ججوں کی بحالی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں صدیق الفاروق نے کہا کہ اس حوالے سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان بات چیت میں اتفاق رائے اور تعمیری سوچ موجود ہے جبکہ ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کے دوران پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا کہ حکمران اتحاد میں ججز کی بحالی کے حوالے سے کوئی ڈیڈ لاک نہیں، 3 نومبر کے اقدامات کو آئینی اور قانونی تحفظ دینے کی ان لوگوں کو ضرورت ہو گی جنہوں نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 3 نومبر کا اقدام غیر آئینی تھا اس اقدام کو اگر آئینی اور قانونی تحفظ دینا ہو تو پھر جن لوگوں نے یہ قدم اٹھایا تھا ان کو چاہیے کہ وہ پارلیمان کے اندر دو تہائی اکثریت سے اس اقدام کو تحفظ دیں جس طرح آٹھویں ترمیم کے ذریعے جنرل ضیاء الحق اور سترویں ترمیم کے ذریعے جنرل پرویز مشرف کے اقدام کو تحفظ دیا گیا۔ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ 3 نومبر کے اقدامات کو تحفظ دینے کےلئے ان لوگوں کو دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہو گی جنہوں نے یہ اقدام اٹھایا تھا موجودہ پارلیمان کو ججز کی بحالی کےلئے دو تہائی اکثریت کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پارلیمان قرارداد کے ذریعے ججز کو بحال کر سکتی ہے۔ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ججز کی بحالی کے حوالے سے کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہوا ہے اعلان مری کے مطابق ججز کو بحال کیا جائے گا جبکہ وفاقی مشیر داخلہ رحمن اے ملک نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ججز کی بحالی کے حوالے سے حکمران اتحاد میں کوئی ڈیڈ لاک نہیں ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ فوج کی طرف سے واضح بیان آ چکا ہے کہ وہ سول اداروں میں کام نہیں کرنا چاہتے فوج ہماری اپنی ہے اگر ہمیں ضرورت پڑی تو ہم استعمال کرینگے ابھی حکومت کی پالیسی ہے کہ ہم سویلین اداروں کو استعمال کریں ۔
|
ابن جلال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|