01-09-10, 03:43 PM
|
#2
|
|
Senior Member
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,411
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : جاویداسد
سعودی قضائ انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم بن ناصر الحمود نے کہا ہے کہ جعلی ڈگری (سرٹیفکیٹ)رکھنے والا شخص فاسق ہے اور اسلام میںاسکی کوئی گواہی قبول نہیںکی جائیگی۔انہوں نے کہا جعلی سرٹیفکیٹ رکھنے والا شخص جعلساز ۔جھوٹا خائن ۔دھوکہ دہی کا مرتکب ہے ۔سعودی عربی جریدہ کے مطابق پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ جعلی سرٹفیکیٹ کی بنیاد پر ملازمت حاصل کرنے والے کی تنخواہ حرام سمجھی جائیگی۔انہوں نے ایسے لوگوں کو نصیحت کی کہ وہ اس گناہ سے توبہ کریں اور جو مال حاصل کیا ہے اس بیت المال کو واپس کر دیں انہوں نے کہا کہ عوام کی خدمت کےلئے مخصوص ملازمتوں سے جوشخص وابستہ ہوتا ہے اس میں امانت داری ہونی چا ہے اگرا ایساشخص جعلسازی کی بنیاد پرملازمت حاصل کرتاہے وہ فاسق ہے اور اسکی شہادت مردودہے ایسا شخص کو سخت سزا دینی چاہیے وہ اللہ اوراسکے رسول کا نافرمان ہے اور معاشرے کو دھوکہ دینے والا ہے اسلام میں اسے منافق بھی کہا جاتا ہے ۔سوال یہ پید ا ہوتا ہے کہ جو پاکستان کے ممبران اسمبلی جعلی سند والے ہیں ان کے متعلق آپ کاکیا خیال ہے
|
***********************************
ان تمام ممبران کو اسکو لوں کا چوکیدار کی نوکری پر اور خاکروپ کے جاب پر لگا دیں بہتر ہے واقعی یہ قوم کے خائن ہیں
|
|
|