|
جمہوری عمل انتہا پسندوں کے ہاتھوں یر غمال نہیں بنے دوں گا،صدر پر ویز

06-12-07, 08:59 AM
جمہوری عمل انتہا پسندوں کے ہاتھوں یر غمال نہیں بنے دوں گا،صدر پر ویز
کوئٹہ ( ایجنسیاں، جنگ نیوز) صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں اور سوات میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کا جلد خاتمہ کر کے امن و امان بحال کر دیا جائیگا، انتہا پسندی اور عسکریت پسندی ملک کی ترقی کیلئے بڑا خطرہ ہے اور ہمیں اس لعنت کا مکمل خاتمہ کرنا ہے، ہم کسی صورت جمہوری عمل اور جمہوری اداروں کو انتہا پسندوں کے ہاتھوں یرغمال ہونے نہیں دیں گے، گزشتہ 9 سال کے دوران ملک کا دفاع نا قابل تسخیر بنا دیا ہے اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کیلئے مسلح افواج کی ہمہ وقت تیاری یقینی بنائی گئی ہے، افواجِ پاکستان نے ملکی معیشت اور استحکام میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے، منفی پروپیگنڈا کرنے والے نا سمجھ ہیں، ریو نیو 10 کھرب روپے تک پہنچ گیا اور فی کس آمدنی 400 سے بڑھ کر 935 ڈالر ہو گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج میں گریژن افسران سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت نے بلوچستان کی نگراں کابینہ کے ارکان سے بھی ملاقات کی، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر پرویز نے کہا کہ نگراں حکومت آزادانہ، منصفانہ اور پرامن انداز میں انتخابات کے انعقاد کیلئے اپنا کردار ادا کرے، بلوچستان میں جاری تمام ترقیاتی منصوبے شیڈول کے مطابق مکمل ہونگے، نگراں وزیر اعلیٰ محمد صالح بھوتانی اور کابینہ ارکان نے صدر مملکت کو صوبے میں شروع کئے گئے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت سے آگاہ کیا اس موقع پر گورنر بلوچستان اویس احمد غنی اور دیگر حکومتی افسران بھی موجود تھے۔ تفصیلات کے مطابق گریژن افسران سے خطاب کرتے ہوئے صدر پرویز مشرف نے کہا کہ سوات اور قبائلی علاقوں میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاک فوج نہ صرف سرحدوں کی حفاظت بہتر طریقے سے کر رہی ہے بلکہ ملک میں جاری ترقیاتی عمل، صحت ، تعلیم اور دیگر شعبوں کی ترقی میں بھی پیش پیش ہے۔ پاک فوج کے کردار کو سراہتے ہوئے صدر پرویز مشرف نے کہا کہ زلزلے اور سیلاب زدہ علاقوں میں بحالی کے عمل میں بھی فوج نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اپنے چھیالیس سالہ فوجی دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فوج چھوڑنے پر وہ اداس تو ضرور ہیں لیکن خوشی اس بات کی ہے کہ انہوں نے آرمی کمانڈر جنرل اشفاق پرویز کیانی جیسے منجھے ہوئے جرنیل کو سونپی ہے۔ پاک فوج نے ملک کی معیشت اور استحکام میں غیرمعمولی کردار ادا کیا ہے‘ فوج کی تنظیم نو کا عمل جاری ہے جبکہ اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل میں بھی فوج کا کردار اہم رہا‘ بطور آرمی چیف فوج سے وابستگی کبھی نہیں بھلا سکتا‘ فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے والے ناسمجھ ہیں۔ اس موقع پر چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق کیانی‘ کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل خالد شمیم وائیں اور اعلیٰ فوجی افسران موجود تھے۔ صدر پرویز مشرف نے اپنے خطاب میں 46 سال فوج میں اپنی خدمات کا ذکر کیا اور کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی کا تقریباً نصف اس فوج کے ساتھ گزارا ہے اور انہیں اس فوج کی 9 سال تک کمانڈ کرنے کا بھی اعزاز حاصل رہا ہے جس پر وہ فخر محسوس کرتے ہیں۔ صدر نے کہا کہ فوج نے واپڈا کو تباہی سے بچا کر اپنے پاؤں پر کھڑا کردیا جبکہ سندھ اور پنجاب کی ہزاروں ایکڑ اراضی کو سیم وتھور سے محفوظ بنایا گیا ہے حالیہ سیلاب سے بلوچستان اور سندھ کے ہزاروں متاثرہ افراد کی بحالی اور امداد کیلئے بھی فوج نے بروقت اقدامات کئے جو قابل تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج نے کوئٹہ اور پورے بلوچستان میں امن وامان کے قیام میں بھی جو کردار ادا کیا ہے اسے نہیں بھلایا جا سکتا۔ صدر نے فوج سے اپنی وابستگیوں اور مختلف پوسٹوں پر تعیناتی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس عظیم فوج کے ساتھ مختلف محاذوں و مشکل حالات میں کام کرنے کا موقع ملاہے اور انہوں نے اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق خدمات انجام دینے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ نئے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی فوج کی ترقی اور اسے نئی بلندیوں تک لے جانے میں اپنا تمام تجربہ اور مہارتوں کو استعمال میں لائیں گے۔
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|