سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے امریکی اور اسرائیلی مخالفت کے باوجود شام کے دارالحکومت دمشق میں حماس کے جلاوطن سیاسی رہنماء خالد مشعل سے ملاقات کی ہے۔
حماس کے ترجمان نے بتایا کہ جمی کارٹر نے انہیں راکٹوں کے حملے بند کرنے اور اسرائیلی فوجی کی رہائی کے لیے مذاکرات شروع کرنے کے لیے کہا ہے۔ سابق امریکی صدر کارٹر نے ملاقات کے بعد کوئی بیان نہیں دیا۔ جمی کارٹر نے شامی صدر بشار الاسد سے بھی ملاقات کی ہے۔
سابق صدر کارٹر کی حماس کے رہنما سے ملاقات چار گھنٹے جاری رہی۔ انہیں اس ملاقات پر امریکہ میں بُش انتظامیہ کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جمی کارٹر کا مؤقف ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں۔ جمی کارٹر اس دورے کو اپنا ذاتی امن مِشن قرار دیتے ہیں۔
ملاقات کے بعد حماس کے سیاسی شعبے کے رہنما محمد نزال نے کہا کہ جمی کارٹر نے جنگ بندی کی تجویز پیش کی اور حماس سے اسرائیل کے خلاف راکٹ حملے بند کرنے کو کہا ہے۔ بقول محمد نزال، ان کی تنظیم جنگ بندی کی حامی ہے لیکن اسرائیل کو بھی ایسی کسی بھی جنگ بندی کو تسلیم کرنا ہوگا۔
جمی کارٹر کو سن دو ہزار دو میں نوبلک امن انعام بھی مل چکا ہے۔ انہوں سن انیس سو اناسی میں اسرائیل اور مصر کے درمیان امن معادہ کروایا تھا جو اسرائیل اور کسی بھی عرب ریاست کے درمیان اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ تھا۔
مسٹر کارٹر مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے مصر میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات کی ہے۔ ساتھ ہی وہ اسرئیلی صدر شمعون پیریز سے بھی بات چیت کر چکے ہیں۔
لیکن ہمارے نامہ نگار کے مطابق خالد مشعل سے ملاقات کی خبروں کے پیش نظر اسرائیل کے دیگر سینئیر رہنماؤں نے مسٹر کارٹر سے ملاقات سے انکار کر دیا ہے۔
فلسطینی عسکریت پسندوں نے دو سال قبل اسرائیلی علاقے میں چھاپہ مار کارروائی کرکے ایک اسرائیلی فوجی کو اغوا کر لیا تھا۔ تب سے انکی رہائی کی کوششیں جاری ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے ایک اخبار کو بتایا کہ اگر وہ مسٹر کارٹر سے ملاقات کرتے تو یہ تاثر جاتا کہ وہ حماس سے مذاکرات کر رہے ہیں۔
’اگر مسٹر کارٹر پہلے مجھ سے ملتے اور پھر دو روز بعد خالد مشعل سے ملاقات کرتے تو ایسا تاثر پیدا ہوتا کہ ہم حماس سے بات چیت کر رہے ہیں۔‘
خالد مشعل مارچ دو ہزار چار سے حماس کے سربراہ ہیں۔ وہ کہہ چکے ہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے عرب ممالک کی اس تجویزکی حمایت کرتے ہیں جس کے تحت فلسطینی اسرائیل کو تسلیم کریں گے اور بدلے میں اسرائیل انیس سو سڑسٹھ کی سرحدوں پر واپس چلا جائے گا، مقبوضہ علاقوں پر تعمیر یہدی آْبادیاں ختم ہوں گی، اور ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہوگی۔
لیکن امریکہ حماس کو الگ تھلگ کرنے میں جٹا ہوا ہے اور اس نے کہا ہے کہ مسٹر کارٹر کے دورے سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں۔ امریکہ کے مطابق مسٹر کارٹر ایک نجی دورے پر ہیں جس سے قیام امن کے عمل کو نقصان پہنچے گا۔
مسٹر کارٹر کہہ چکےہیں کہ وہ ثالثی کی کوشش نہیں کر رہے ہیں لیکن ان کے خیال میں مشرق وسطی میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہوسکتا جب تک بات چیت میں حماس اور شام کو شامل نہیں کیا جاتا۔