| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات |
درجہ بندی:
|
ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 434
|
||||
| منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا | کامی007 (11-04-08) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
سلام،
اس سلسلے میں کچھ کہنا ہی بے کار ہے۔ معلوم نہیں انکے پاس لڑنے کے لیے اسلحا آتا کہاں سے ہے؟؟؟؟ انہیں سکھاتا کون ہے ؟؟؟؟ ان سے کام کون لیتا ہے؟؟؟؟؟ وسلام |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
محترم جناب،
سب سے پہلے تو یہ کہ یہ کوئی جہادی نہیں ہیں، ان لوگوں کو تو جہاد کا مطلب بھی پتا نہیںہوگا، یہ بزدل لوگ ہیں جو موت کی آنکھوں میں آنکھیں نہیں ڈال سکتے یہ صرف اور صرف بزدلانہ کاروایاں کر سکتے ہیں، یہ کہاں کا جہاد ہے، میرے خیال میں تو اسلام کی تاریخ میں کہیںایسی کوئی بات نہیں ملتی جس میں جہاد کو اس طرح کیا گیا ہو، مجاہد تو موت کو آنکھوں میںآنکھیں ڈال کر لڑتے ہیں، بے کس مجبور، معصوم، بے گناہ، بے ضرر لوگوں کو مارنا کہاں کا جہاد ہے۔ صرف اور صرف یہ لوگ ہمارے ہی معصوم لوگوں کو اکسا کر جہاد کے نام پر سب کچھ کراو رہے ہیں۔ تاکہ پوری دنیا میںہم مسلمان بدنام ہو جائیں۔ |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
میرا جواب سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 32 ہی دے سکتی ہے۔
مِنْ اجْلِ ذَلِكَ كَتَبْنَا عَلَى بَنِي اسْرَائِيلَ انَّہُ مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ اوْ فَسَادٍ فِي الاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ اَحْيَاھَا فَكَاَنَّمَا اَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا وَلَقَدْ جَاء تْھُمْ رُسُلُنَا بِالبَيِّنَاتِ ثُمَّ اِنَّ كَثِيرًا مِّنْھُم بَعْدَ ذَلِكَ فِي الاَرْضِ لَمُسْرِفُونَ |
|
|
|
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اقتباس:
جناب ترجمہ تو دیں۔ وسلا، |
|
|
|
|