|
جنرل پر ویز کو صدارتی انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی

20-11-07, 09:39 AM
اسلام آباد (رپورٹ…رؤف کلاسرا) پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے سپریم کورٹ کے 3/ ججوں نے جو ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اپنے گھروں پر نظربند ہیں گزشتہ جمعہ کو سپریم کورٹ کے سامنے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ جنرل پرویز کو صدارتی انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ پاک میں بار بار کی فوجی مداخلت اور منتخب حکومتوں کے عدم استحکام نے بدنظمی ستان اور انتشار، بیروزگاری، وسیع پیمانے پر بدعنوانی، عدم برداشت و انتہا پسندی کو فروغ دیا ہے اور ان سب کو آہنی ہاتھوں سے ختم کیا جانا چاہئے۔ ان تینوں ججوں نے اپنے مشترکہ فیصلہ میں جو میڈیا کو جاری نہیں کیا گیا ،کہا ہے کہ جنرل پرویزکے بطور فوجی سربراہ عہدہ کا تسلسل 31/ دسمبر 2004ء کے بعد غیر قانونی اورخلاف ضابطہ ہے۔ یہ جج جن میں جسٹس رانا بھگوان داس، جسٹس سردار محمد رضا خان اور جسٹس شاکراللہ جان شامل ہیں اس9 رکنی بنچ کا حصہ تھے جس نے 28/ ستمبر کو قاضی حسین احمد اور عمران خان کی اس وقت کی اسمبلیوں سے جنرل پرویزکے صدارتی انتخاب لڑنے یا نہ لڑنے کے سوال پر مبنی درخواست خارج کردی تھی۔ ان ججوں نے جمعہ کے روز سپریم کورٹ میں اپنا تفصیلی فیصلہ داخل کیا ہے جس میں انہوں نے عدالت کے سامنے 7/ سوالات اٹھائے ہیں۔ اس سلسلہ میں بھگوان داس نے جو بنچ کے سربراہ تھے دی نیوز سے باتیں کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے جسٹس سردار محمد رضا خان اور جسٹس میاں شاکراللہ کے ہمراہ گزشتہ جمعہ کو عدالت میں اپنا فیصلہ جمع کرادیا ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ حکام 58/ صفحات کے ان کے فیصلہ کو جاری نہ کریں۔ جسٹس بھگوان داس جن کے جذبے توانا تھے نے نمائندے کو بتایا کہ انہوں نے دلائل کو جمع کرنے میں بہت زیادہ وقت اور کوششیں صرف کی ہیں تاکہ ان کا نقطہٴ نظر ثابت ہوسکے۔ سپریم کورٹ کو چاہئے کہ وہ ان کا فیصلہ عوام کے سامنے لائے۔انہوں نے کہاکہ ان کے اسٹاف نے فیصلہ متعلقہ حکام کے حوالے کردیاہوگاتاکہ اسے میڈیاکوجاری کردیاجائے لیکن اسے ٹھکانے لگا کر نظر انداز کر دیا گیا۔انہوں نے کہاکہ یہ آبزرویشن بہت اہم ہیں اورہرایک کواس کے بارے میں معلوم ہوناچاہیے،اپنے فیصلے میں تینوں ججوں نے کہاہے کہ ”وہ تہہ دل سے یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ ملک اب ماضی کی طرح آئینی مینڈیٹ اورقانون سے گریز اور ڈریکولائی نظریہ ضرورت کی پشت پناہی کرنے کی عیاشی کا مزید متحمل نہیں ہوسکتا۔موجودہ نظام حکومت ،جو پارلیمانی نظام حکومت سے صدارتی نظام حکومت میں تبدیل ہوچکاہے ،کی توثیق یاتسلسل کی کسی بھی کوشش اس ملک کے شہری کے احترام اور عزت ووقارکواقوام عالم میں تباہ کرنے کی باعث ہوگی اوراس سے بدنامی ہوگی جس کی تعریف نہیں کی جاسکتی،عدلیہ کی آزادی،جمہوری نظام کااستحکام،باقاعدہ عام انتخابات کاعمل کاچلنا،اداروں کواپنی حدودکے اندررہتے ہوئے اورمسلح افواج کی مداخلت کانہ ہوناہمیشہ اس قوم کے اعلیٰ ترین مفادمیں ہے۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|