افغانستان میں نیٹو افواج کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریئس نے فوجی مشن کی ذمہ داری جنرل جون ایلن کو سونپ دی ہے۔
جنرل پیٹریئس اب امریکہ میں خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ کا عہدہ سنبھالیں گے۔
نیٹو فوج کی کمانڈ کی منتقلی کے موقع پر جنرل پیٹریئس نے افغانستان کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’آپ نے افغانستان کے دشمنوں کو یہ دکھا دیا ہے کہ آپ دھمکیوں اور تشدد کی مہم سے نہیں دبنے والے ہیں ‘۔
نیٹو افواج کے اقتدار کی منتقلی اسی روز ہوئی ہے جب چند گھنٹوں قبل ہی افغان صدر کرزئی کےسینئیر مشیر جان محمد خان کو مسلح افراد نے کابل میں ان کےگھر میں گھس کر قتل کر دیا
اس موقع پر ان کے کمانڈ سنبھالنے والے جنرل ایلن نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ افغانستان کی سکیورٹی کی ذمہ داری افغان فوج کو سونپ دی جائے گی۔
اس موقع پر امریکی فوج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن بھی موجود تھے۔
جنرل پیٹریئس سینتیس سال سے امریکی فوج میں ہیں۔وہ سنہ 2010 میں وہ افغانستان میں امریکہ کی جنگی مہم کا حصہ بنے اور انہوں نے طالبان سے لڑنے کے لیے تیس ہزار سے زیادہ فوجیوں کو تعنیات کروایا۔
نیٹو افواج کی کمان کی منتقلی اسی روز ہوئی ہے جب چند گھنٹوں قبل ہی افغان صدر کرزئی کے سینیئر مشیر جان محمد خان کو مسلح افراد نے کابل میں ان کےگھر میں گھس کر قتل کر دیا۔
جنرل جون ایلن
افغانستان کی سکیورٹی کی ذمہ داری افغان فوج کو سونپ دی جائے گی:جنرل ایلن
افغانستان میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار سنجے مجومدار کا کہنا ہے کہ پیر کو صدر کرزئی کے ایک قریبی ساتھی پر قاتلانہ حملہ ہلاکت اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ نیٹو کے نئے سربراہ کے سامنے ابھی بہت بڑے چیلنجز ہیں۔
اس سے قبل گزشتہ ہفتے صدر کرزئی کے بھائی کو بھی ہلاک کر دیا گیا تھا۔
نیٹو افواج کے کماندار کی تبدیلی سے ایک روز قبل اتوار کو نیٹو نے افغانستان کے وسطی صوبے بامیان کا کنٹرول بھی افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کیا ہے۔
افغان صدر حامد کرزئی کی جانب سے مارچ میں اعلان کردہ منصوبے کے مطابق یہ سات علاقوں میں سے پہلا علاقہ ہے جن کا اختیار اب مقامی فوج کو دے دیا گیا ہے۔
خبر