26476 ایساف کنٹینرز پاکستان کے راستے افغانستان پہنچ گئے
ایف بی آر نے افغان فراڈ کمپنی لونر پراڈکٹ اسکینڈل میں ملوث 22 اہلکار معطل کردیئے
اسلام آباد (رپورٹ حنیف خالد) ایساف ذرائع کے ریکارڈ کے مطابق یکم جنوری 2008ء سے 31 اکتوبر 2010ء کے دوران اس کے 26490 کنٹینرز پاکستان کی بندرگاہوں پر پہنچے ان میں سے 26476 کنٹینرز افغانستان اپنی منزل پر پہنچ گئے۔ تقریباً 14 کنٹینرز لاپتہ ہوئے اس طرح وہ میڈیا رپورٹ گمراہ کن ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایساف کے 11 ہزار کنٹینرز کراچی سے افغانستان جاتے ہوئے راستے میں لاپتہ ہو گئے ہیں۔ ہفتے کو کسٹم گروپ کے جن 6 افسروں اور سولہ اہلکاروں کو معطل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے ان کی معطلی لونر پراڈکٹ کمپنی کے فراڈ میں ملوث ہونے کی بناءپر ہوئی ہے۔ یہ کمپنی افغانستان کی ہے مئی 2010ء میں ایف بی آر کے اس وقت کے چیئرمین سہیل احمد اور اس وقت کے ممبر کسٹم منیر قریشی نے مشترکہ نیوز کانفرنس میں اعلان کیا تھا کو لونر پراڈکٹ کمپنی فراڈ ہے جس کی تحقیقات کے احکامات ڈائریکٹر جنرل آف کسٹم انٹیلی جنس کو پریس کانفرنس میں ہی جاری کئے اس کمپنی نے شراب اور دوسری قابل اعتراض سے بھرے کنٹینرز کی کلیئرنس کے ڈاکومنٹس پروسیس کیلئے تھے بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے والی بین الاقوامی سکیورٹی مسلح افواج جس میں امریکہ سمیت نیٹو ممالک اور اس کے اتحادی ممالک کے فوجی دستے شامل ہیں کے لئے اسلحہ گولہ بارود سے لے کر اشیائے خوردو نوش اور دوسرا ضروری سازو سامان پاکستان کی بندرگاہوں کے راستے قندھار، جلال آباد سے ہوتا ہوا کابل وغیرہ کئی سالوں سے کنٹینرز میں جارہا ہے۔ گزشتہ سال ایک مقامی نجی ٹی و چینل(جیو نہیں) نے یہ دعویٰ کرکے ملک بھر میں سنسنی پیدا کر دی کہ ایساف کے 11 ہزار کنٹینرز پاکستان سے افغانستان جاتے ہوئے غائب ہوگئے ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر اس سکینڈل کی تحقیقات پر مامور فیڈرل ٹیکس محتسب نے گزشتہ دنوں اخباری کانفرنس میں واضح کیا کہ ایساف کے گیارہ ہزار کنٹینرز لاپتہ ہونے کی ان کے پاس نہ تو کوئی انفارمیشن ہے اور نہ ہی شہادت ہے۔ ایف ٹی او نے ایساف کے 11 ہزار کنٹینرز کے لاپتہ ہونے کی انکوائری کی رپورٹ سپریم کورٹ میں نہیں دی البتہ انہوں نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے لاتعداد کنٹینرز پاکستان میں ہی رہ جانے کی تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی، سپریم کورٹ اس رپورٹ کا کل پیر کو مزید جائزہ لے گی۔ ایف بی آر کے نوٹیفکیشن /425 سی II-/2011 مجریہ 26 جنوری کے مطابق کراچی آپریزمنٹ کے چار پرنسپل آپریزرز آغا اسلم، سردار امین فاروقی، نعمت اللہ علوی، ایس ایم وسیم کاظمی تاحکم ثانی معطل کئے گئے ہیں، چاروں بنیادی اسکیل نمبر 16 کے افسران ہیں ایف بی آر کے نوٹیفکیشن نمبر 424 مجریہ 26 فروری کے مطابق کراچی آپریزمنٹ کے بنیادی اسکیل نمبر 15 کے درج ذیل بارہ آپریز تاحکم ثانی معطل کئے گئے ہیں طارق عزیز، عبدالعزیز عمرانی، غلام محمد، سکندر علی جونیجو، بشیر احمد سحر، عباس خاں، انجم بارک زئی، انور خان، نواب توقیر احمد، ضمیر احمد بروہی، نور اکبر مہر، ایف بی آر کے 26 فروری کے نوٹیفکیشن نمبر 423 کے تحت بنیادی اسکیل نمبر 18 کے 6 افسران لونر پراڈکٹ اسکینڈل میں معطل کئے ہیں ان کے نام یہ ہیں جمشید علی تالپور ڈپٹی کمشنر آر ٹی او کراچی انجینئر حبیب احمد، ڈپٹی کلکٹر کراچی، مس مونا عفت بلوچ ڈپٹی ڈائریکٹر، عبدالوحید مروت سیکنڈ سیکرٹری اسلام آباد سمیع الحق ڈپٹی ڈائریکٹر کراچی، یوسف حیدر اورکزئی سیکنڈ سیکرٹری اسلام آباد، دریں اثناءایف بی آر نے نوٹیفکیشن نمبر 372 مجریہ 26 فروری کے ذریعے مرزا امتیاز احمد کو سیکرٹری ایف بی آر اسلام آباد اور ریاض احمد شاہ بنیادی اسکیل نمبر 19 کو ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں سیکرٹری مقرر کیا ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی