|
جنگجو سرداروں کی موجودگی میں امن قائم نہیں ہوسکتا،حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث انتہا پسند پیدا ہوئے،بینظیر بھٹو

29-10-07, 10:41 AM
لاڑکانہ (بیورو رپورٹ) پی پی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ جنگجو سرداروں کی موجودگی میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے انتہا پسند پیدا ہوئے ہیں،انہوں نے کہا کہ شر پسند ہتھیا ر پھینک دیں اور ملک کے آئین کا احترام کریں،انہوں نے کہا کہ میں سیاسی مخالفت پر نہیں عوامی طاقت پر یقین رکھتی ہوں،انہوں نے مزید کہا کہ آمریت اور جمہوریت ساتھ نہیں چل سکتے،انہوں نے واضح کیا کہ صدر سے ملاقات طے نہیں ہوئی،انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ عوامی انقلاب ہے ،اور میں دھمکیوں اور دھماکوں سے نہیں ڈرتی،انہوں نے کہاکہ پی پی وفاق پاکستان کی علامت ہے،اور کوئی بھی ملک جعلی جمہوریت میں ترقی نہیں کرسکتا، وہ اتوار کو دورہ لاڑکانہ کے موقع پر حاجی منور علی عباسی ایم پی اے کی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس اور سانحہ کارساز میں جاں بحق ہونے والے 17سالہ نظام دین سموں کی والدہ اور ماموں اشرف سموں، آفتاب نیک محمد بھٹو کے والد، سردار عامر بھٹو سے ان کے بھائی سردار واحد بخش بھٹو، عبدالخالق بھٹو اور ڈاکٹر روشن شیخ کے ورثاء سے اظہار تعزیت کے موقع پر گفتگو اور صحافیوں سے بات چیت کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی چھوڑ کر جانے والوں کی واپسی کی پی پی کارکن مخالفت کر رہے ہیں اس لئے ان کی واپسی نہیں ہو سکتی۔ ہماری سیاست اصولوں کی سیاست ہے اور اسی وجہ سے ہم اے پی ڈی ایم کا حصہ نہیں بنے۔ صوبائی حکومت نے پی پی پی کے کارکنوں کے خلاف انتقامی اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔ تھر میں پی پی کے کارکنوں کے خلاف ہفتے کو تیس اور حیدرآباد میں چودہ مقدمات درج کئے گئے ہیں مگر ہم ان انتقامی کارروائیوں سے ڈرنے والے نہیں اور ہم عوام کے ساتھ مل کر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اقتدار کی پرامن منتقلی کی وجہ سے حکومت سے مذاکرات کئے ہیں اسی وجہ سے مخالفانہ طرزعمل کر کے ہم مفاہمت کی فضا کو خراب کرنا نہیں چاہتے۔ کرپشن اور سیاست کو الگ الگ کرنا چاہئے، آزاد عدلیہ، شفاف سسٹم اور میڈیا کو بھی کرپشن کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے جبکہ سیاست میں قومی ہم آہنگی اور تحمل و برداشت سے کام لینا چاہئے۔ انہوں نے سرحد میں ایک سیاسی رہنما کے گھر پر میزائل داغنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انتہا پسند چاہتے ہیں کہ عوام تنہا اور یتیم رہیں مگر ہم ان کا مقابلہ کرنے کیلئے میدان میں موجود ہیں اور عوام کے حقوق انہیں واپس دلا کر دم لیں گے۔ بلوچستان میں لاپتہ افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے اس لئے قومی مفاہمت کے جذبے کے تحت بڑے صوبے کے عوام کو بھی اپنے ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔ ملک میں وار لارڈز کی موجودگی میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ ہم یہاں مسلح گروہ بندی نہیں چاہتے۔ 16کروڑ عوام کا یہ ملک اسلامی دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے یہاں عوام پہلے ہی مصیبت کے سمندر میں ہیں، عوام کو کمزور کیا جا رہا ہے، مسلمان دنیا بھی کمزور ہو رہی ہے ہمیں انتہا پسندوں کو بتانا پڑے گا کہ پاکستان میں ان کی کوئی گنجائش نہیں۔ہمیں ایک عظیم ملک اور قوم بننا چاہئے منتخب جمہوری حکومت میں عوام حکومت کے مالک ہوتے ہیں لیکن جعلی جمہوریت میں ترقی نہیں ہو سکتی۔ ہمیں اپنا رویہ اور سوچ بدلنی ہو گی ہمیں ایک نیا سیاسی کلچر پیدا کرنے کی ضرورت ہے میں انتہا پسندوں سے کہتی ہوں کہ وہ اپنی بندوقیں پھینک دیں ہمارے آئین کا احترام کریں ہم کسی کو تشدد کی اجازت نہیں دیں گے موجودہ حکومت کی اپنی اہمیت ہے اور سانحہ کار ساز کے موقع پر دنیا بھر سے حکومت سے بھی اظہار ہمدردی کیا گیا موجودہ حکمرانوں کو اتحادی سمجھا جاتا ہے تاہم ہمارے غم میں شرکت کیلئے بھی دنیا بھر سے رابطہ اور افسوس کا اظہار کیا گیا میں غریبوں کی سیاست کرتی ہوں اور ان کے حقوق کے حصول کیلئے جدوجہد کر رہی ہوں۔ قبل ازیں نظام الدین سموں کی والدہ اور ماموں سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہید نظام الدین نے جمہوریت کے قیام اور ملک کا نام روشن کرنے کیلئے کراچی میں اپنی جان قربان کی ہے۔ انہوں نے آفتاب احمد بھٹو سے ان کے والد چاچا نیک محمد بھٹو کی پارٹی کے لئے دی جانے والی قربانیوں پر مرحوم کو خراج تحسین پیش کیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے دورہ لاڑکانہ کے موقع پر لاڑکانہ میں گہما گہمی میں زبردست اضافہ ہو گیا اور تقریباً تمام راستوں پر ہزاروں افراد نے نہ صرف انہیں خوش آمدید کہا بلکہ سینکڑوں افراد ان کے قافلے میں شریک ہو گئے۔ بندر روڈ پر ڈاکٹر روشن شیخ کے گھر سے آتے ہوئے پھول بازار کے دکانداروں نے اپنے تمام پھول ان پر نچھاور کر دیئے متعدد مقامات پر بھی ان پر پھول نچھاور کئے گئے محترمہ بے نظیر بھٹو کے آج کے جلوس نے 88ء کے جلوس کی یاد تازہ کر دی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے شام کو اپنی رہائشگاہ پر حلقہ انتخاب رتوڈیرو اور نوڈیرو کے شہریوں سے بھی ملاقات کر کے انہیں انتخابات کی تیاری کرنے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہی پنجاب کا بھی دورہ کریں گی اور انہوں نے پیپلزپارٹی کے صوبائی رہنماؤں سے اس بارے میں بات چیت کی ہے جو ان کے دورے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ بینظیر بھٹو نے کہا کہ ان کے لاڑکانہ کے دورے کو الیکشن مہم کا آغاز سمجھ لیں اور اسے بینظیر اور عوام کے درمیان محبت کا دوبارہ آغاز بھی کہہ سکتے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آمریت اور جمہوریت ایک ساتھ نہیں چل سکتے اور اسی لئے انہوں نے جنرل مشرف کے سویلین صدر بننے کی بات کی ہے۔ بینظیر نے بتایا کہ وہ عوام کا جذبہ دیکھ کر غور کر رہی ہیں کہ عوامی اجتماعات کی شروعات کریں۔ انہوں نے کہاکہ غیر تشدد پسند گروپوں سے مذاکرات کئے جاسکتے ہیں انتہا پسند پاکستانی عوام کو غریب اور پسماندہ رکھنا چاہتے ہیں۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|