|
جونیئروی آئی پی کیلئے سرکاری پالیسی تبدیل کرانے کی کوششیں

03-12-07, 02:44 PM
اسلام آباد…رپورٹ: انصار عباسی…اس ملک میں بااثر اور طاقت ور لوگوں کے بیٹے اور داماد ہمیشہ قانون سے بالاتر تصور کئے گئے ہیں تازہ ترین مثال میں ایک جونیئر وی آئی پی ایک سال قبل بنائی گئی پالیسی پر نظر ثانی کرنے کیلئے زور دے رہا ہے حالانکہ خود حکومت کے اندر اس بارے میں سخت مخالفت کی جارہی ہے وزارت داخلہ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے درمیان اس بات پر لڑائی جاری ہے کہ 2006ء میں بنائی گئی پالیسی پر نظر ثانی کی جائے جس کے تحت نئے پاس آؤٹ ہونے والے اے ایس پی حضرات ( اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس آف پولیس) کیلئے اپنے کیرئیر کے پہلے سال ایف سی میں خدمات انجام دینا لازمی قرار دیاگیا تھا وزیراعظم شوکت عزیز نے تمام متعلقہ حلقوں بشمول چاروں صوبوں سے طویل مشاورت کے بعد اس پالیسی کی منظوری دی تھی اس پالیسی کی تیاری کے مرحلے پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزارت داخلہ نے اس کی توثیق اور حمایت کی اور خیال ظاہر کیا کہ یہ ایف سی کی کارکردگی بہتر کرنے کیلئے ضروری ہے لیکن اب وزارت داخلہ پالیسی کی نظر ثانی پر اصرار کررہی ہے کیونکہ ایک سینئر بیورو کریٹ کا چشم وچراغ ایف سی میں ایک سالہ تعیناتی کے امتحان سے گزرنے جارہا ہے اور وزارت داخلہ نے یہ دلائل دئیے ہیں کہ سوات ایک خطرناک جگہ بن چکی ہے ۔چونکہ وزارت داخلہ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اپنے طور پر اس معاملے کو طے نہیں کرسکے اس لئے یہ معاملے فیصلے نگراں وزیر اعظم محمد میاں سومرو کے سامنے پیش کردیا گیاہے ۔وزیراعظم کے سامنے یہ مسئلہ دونوں طرف سے تمام تر دلائل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے لیکن ایک انتہائی اہم بات بیان نہیں کی گئی وہ یہ کہ نئے تعینات ہونے والے اے ایس پیز ، جن کو ایف سی میں متعین کیاگیا ہے میں ایک فیڈرل سیکرٹری کا بیٹا بھی شامل ہے ۔ ذرائع کے مطابق اس اہم حقیقت کے بارے میں بیورو کریسی کے ارکان نے زبانی کلامی بحث مباحثہ کیا ہے مگر فائل میں اس کا ذکر نہیں کیاگیا نامہ نگار نے مذکورہ فیڈرل سیکرٹری سے ہفتے کے روز بار بار رابطے کی کوشش کی مگر اتوار کے روز اس رپورٹ کو فائنل کرنے کے وقت تک ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا ۔ 2006ء میں پالیسی تشکیل دئیے جانے کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے مارچ2007ء میں 17نئے پاس آؤٹ ہونے والے اے ایس پی حضرات کی ایف سی میں تعیناتی کے احکامات جاری کئے اور ان کی لا زمی تعیناتی کا پہلا سال مارچ2008ء میں مکمل ہو گا اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے احکامات پر دونوں ایف سی اور وزارت داخلہ نے مکمل عملدرآمد کیا اور تمام17افسروں نے ایف سی میں رہتے ہوئے مختلف سٹیشنز پر فرائض سرانجام دئیے ایف سی میں گریڈ17کے پولیس افسروں کیلئے 28اسامیا ں ہیں ۔ گزشتہ ماہ جونیئر وی آئی پی سمیت11اے ایس پی نیشنل پولیس اکیڈمی سے پاس آؤٹ ہوئے پالیسی پر عمل کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ان کے تبادلے کے احکامات جاری کئے ہیں اور ان کی خدمات ایف سی کے سپرد کردیں لیکن اس مرتبہ وزارت داخلہ نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے11اے ایس پی حضرات کے تبادلے کے احکامات منسوخ کرنے کی درخواست کی ۔وزارت داخلہ نے مزید کہا کہ مذکورہ افسروں کی ایف سی میں تعیناتی سے ایف سی کے نچلے درجوں سے ترقی پانے والے اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ افسروں ( اے ڈی اوز ) کی تنزلی (Demotion)ہو جائے گی وزارت داخلہ نے دلیل دی کہ نئے تعینات ہونے والے اے ایس پی حضرات نا تجربہ کار ہوتے ہیں اور ایف سی کے کلچر سے بھی ناآشنا ہوتے ہیں اس لئے ان کی تعیناتی سے ایف سی کی کارکردگی پربُرے اثرات مرتب ہوں گے ۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے وزیراعظم کو ارسال کی گئی سمری میں وزار ت داخلہ کی مخالفت کی اور کہا کہ ایف سی میں لازمی تعیناتی کی 2006کی پالیسی وزیراعظم نے و زارت داخلہ کی طرف سے توثیق کئے جانے کے بعد منظور کی تھی وزارت داخلہ کی اس دلیل کہ ایف سی کے رینکرز کو اے ایس پی کے عہدے پر ترقی دیدی گئی ہے کے جواب میں اسٹیبلشمنٹ نے کہا کہ ”ایف سی کے اے ڈی اوز کی پی ایس پی کیڈر کی اسامیوں پر ترقی بے ضابطگی ہے اور سول سرونٹس ایکٹ 1973ء کے سیکشن9کی خلاف ورزی ہے “۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے مزید وضاحت کی کہ ایف سی میں11اے ایس پی حضرات کی تعیناتی کو ٹے سے تجاوز نہیں ہے اور2006ء کی پالیسی کے تحت محض ایک گروپ کی تعیناتی اور دوسرے کی استشنائی واضح امتیازی پالیسی ہو گی ۔ وزیراعظم کو اس بارے میں بھی آگاہ کردیاگیا ہے کہ ایف سی جو وزارت داخلہ کے زیرانتظام ہے کی ایسی ہی درخواست پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن2006ء کی پالیسی میں تبدیلی پر غور کرنے سے معذرت کرچکا ہے ۔ تاہم دونوں ڈویژنوں میں اختلاف رائے کی صورت میں معاملے کومناسب احکامات کیلئے وزیراعظم کو بھیجا جاتا ہے ۔ جبکہ ایک اور سرکاری دستاویز میں اس معاملے پر دونوں ڈویژنوں کے دلائل اور جوبی دلائل بھی موجود ہیں ۔ وزارت داخلہ کے اس موٴقف کے جواب میں کہ انہو ں نے پالیسی اس وقت منظور کی تھی جب صوبہ سرحد میں حالات اتنے خراب نہیں تھے جتنے آج ہیں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کہا کہ ایف سی پورے ملک میں تعینات ہے اور محض سوات کے شورش زدہ علاقے تک محدود نہیں ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”محض اس بنا پر پالیسی تبدیل کرنا صوبے کا کوئی علاقہ شورش زدہ ہو گیا کسی طور مناسب نہیں ہے سوات میں پولیس اور فوج شورش کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کررہی ہے زمینی حقائق کی تبدیلی کا دعویٰ حقائق کے برعکس ہے “۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے مزید کہا کہ ”زمینی حقاقء اتنے تبدیل نہیں ہوئے جتنے بتائے جارہے ہیں کہ محض ایک مخصوص گروپ مستشنیٰ کردیا جائے “۔وزارت داخلہ کی اس خواہش کے جواب میں کہا کہ صوبے میں عسکریت پسندی کو روکنے کیلئے سینئر افسروں کو تعینات کیا جائے ڈویژن نے انکشاف کیا کہ انہو ں نے 4سینئر پولیس افسروں کی خدمات ایف سی کو پیش کی تھیں لیکن ایف سی نے اس وجہ سے خدمات قبول نہیں کیں کہ وہ بوڑھے ہوچکے ہیں اور ایف سی میں ایڈ جسٹ نہیں ہوسکتے ۔ وزارت داخلہ نے یہ دلیل دی کہ ایف سی میں گریڈ18اور19کے پولیس افسروں کی کمی ہے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے اس حقیقت کو تسلیم کیا لیکن کہا کہ گریڈ18کے افسروں کو ایف سی میں تعینات کیاگیا ہے لیکن انہیں قبول نہیں کیا گیا ۔۔اگر انہیں قبول کرلیا جاتا تو گریڈ18کے پولیس افسروں کی کمی کسی حد تک کم ہوجاتی “۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|