|
جوڈیشیل بس چلانے کی تاریخ کا تعین13جنوری کو کیا جائے گا،سپریم کورٹ بار

05-01-08, 08:43 AM
جوڈیشیل بس چلانے کی تاریخ کا تعین13جنوری کو کیا جائے گا،سپریم کورٹ بار
اسلام آباد (ایجنسیاں) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ جوڈیشل بس چلانے کے متعلق فیصلہ 13 جنوری کو کریں گے ،وکلاء رہنماؤں نے اعتزاز احسن سمیت دیگروکلاء کی رہائی کیلئے اقوام متحدہ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا جبکہ معزول ججوں کی بحالی کیلئے حکومت کو 3دن کا الٹی میٹم دیاہے ۔ ان خیالات کا اظہار سپریم کورٹ بار کے نائب صدر سعید اختر نے جمعہ کے روز اسلام آباد میں اعتراز احسن کی رہائش گاہ پر جوائنٹ سیکرٹری سپریم کورٹ بار امین جاوید کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ 13 جنوری کو جوڈیشل بس چلانے کیلئے پشاور میں ہونے والے اجلاس میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ 60 ججوں کی بحالی کا مسئلہ ہے صرف ایک بس چلانے سے کام نہیں چلے گا بلکہ زیادہ بسیں چلانا پڑیں گی۔ جوڈیشل بسیں کراچی سے خیبر تک ملک بھر میں چلائی جائیں گی۔ادھرپشاو رہائی کورٹ بار اورڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے سپریم کورٹ بار کے صدر چوہدری اعتزاز احسن ،علی احمدکرد،جسٹس(ر) طارق محمود ، سپریم کورٹ اورہائی کورٹس کے معزول ججزسمیت گرفتار وکلاء کی رہائی اورمعزول ججوں کی بحالی کیلئے تین دن کی ڈیڈلائن دی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 72گھنٹوں(تین دن )میں ختم کی جائے بصورت دیگروکلاء راست اقدام پر مجبورہونگے۔نائب صدر سپریم کورٹ بار نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے پی سی او ججز کا بائیکاٹ جاری رہے گا بائیکاٹ سے متعلق فیصلہ 13 جنوری کو ہی کریں گے۔ اعتزاز احسن، علی احمد کرد اور منیر اے ملک کی رہائی اور عدلیہ کی بحالی کیلئے حکومت پر دباؤ بڑھائیں گے، اس سلسلے میں اقوام متحدہ کو خطوط لکھنے کے علاوہ غیر ملکی سفیروں سے ملاقاتیں بھی کریں گے ان کی گرفتاریاں غیر قانونی ہیں وہ مجرم نہیں ہیں انہوں نے مزید کہاکہ تمام ممالک کی بار ایسوسی ایشنز کو بھی صورتحال سے آگاہ کریں گے جوڈیشل بسیں سپریم کورٹ سے نہیں لیں گے بلکہ کرایہ پر لیں گے ان کو چلانے کے لئے ڈرائیورز بھی بہت ہیں بے نظیر بھٹو کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہیں یہ ملک کی سلامتی پر حملہ ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل امین جاوید نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہم چوہدری اعتزاز احسن، علی احمد کرد اور جسٹس(ر) طارق محمود کی گھر پر نظر بندی کو غیر قانونی سمجھتے ہیں، تاہم ان رہنماؤں کی نظر بندی کو عدالت میں چیلنج نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ غیر ملکی سفارتکاروں کو صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا۔ بار کے سیکرٹری جنرل امین جاوید نے کہا کہ ملکی صورتحال کے حوالہ سے رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے ملک کے تمام حصوں سے جوڈیشل بسیں چلائی جائیں گی۔ انہوں نے کہاکہ عدالتی بائیکاٹ کا سلسلہ جاری رہے گا اور اس مہم کو مستقبل میں بھی جاری رکھنے یا اس کے علاوہ کسی اقدام کے حوالہ سے آئندہ اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا ان وکلاء کے خلاف مناسب اقدام اٹھایاجائے گا جو بار کے فیصلوں کے خلاف عمل کریں گے۔ انہوں نے بے نظیر بھٹو کے جاں بحق ہونے کی شدید مذمت کرتے ہوئے گہرے رنج وغم کا اظہار کیا اور اسے ملکی وحدت پر حملہ قرار دیا۔پریس کانفرنس میں تنظیم کے نائب صدر اختر خان، ،خورشید اعوان ، زبیر خالد اور مسرت ہلالی بھی موجود تھے۔
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|