|
جوہری جاسوسی کی 70 سالہ تاریخ: فنکاروں، سائنسدانوں کو سزاہوئی

11-07-11, 07:55 AM
لاہور (صابر شاہ) جوہری جاسوسی کی 70 سالہ تاریخ میں پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل جہانگیر کرامت اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) ذوالفقار علی خان ہی صرف وہ 2 ملٹری اہلکار ہیں جن پر اپنے ملک کے جوہری راز افشاءکرنے کا الزام لگا، تاہم دونوں اعلی افسر اس الزام کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ دی نیوز کی تحقیق کے مطابق امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا میں جنگ عظیم دوم اور سرد جنگ کے دوران کمیونسٹ پس منظر رکھنے والے متعدد فنکاروں، ماہر طبیعات، الیکٹریکل انجینئرز، سرکاری ملازمین اور مکینکوں پر سوویت یونین کو جوہری راز بیچنے کا الزام لگا تاہم کسی ملک کے کسی بھی فوجی اہلکار پر کبھی بھی اس تناظر میں الزام نہیں لگا۔ راز بیچنے والے دو شہریوں کو سزائے موت ہوئی، کچھ کو جیل بھیج دیا گیا جبکہ چند کو ثبوتوں کی کمی کے باعث چھوڑ دیا گیا۔ اداکارہ ایتھل گرین گلاس روزن برگ اور ان کے شوہر جولیس روزن برگ جو الیکٹریکل انجینئر تھے کے خلاف 1953ءمیں روس کو ایٹم بم کی معلومات فراہم کرنے کے الزام میں قانونی کارروائی ہوئی۔ یہ دونوں امریکی یہودی کمیونسٹ تھے اور امریکہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شہریوں پر جاسوسی کے الزام میں کارروائی ہوئی تاہم نیو یارک ٹائمز نے 19 جون 2003ءکے ایڈیشن میں ان کے خلاف کارروائی کو کھلی ناانصافی قرار دیا۔ جوہری جاسوسی کی تاریخ کا آغاز 1942ءسے ہوتا ہے جب امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا کی مشترکہ کوششوں سے ایٹم بم بنانے کیلئے مین ہیٹن پراجیکٹ کا آغاز کیا گیا۔ سابقہ سوویت یونین کو اس منصوبے کی خبر ہو گئی اور اس کے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کیلئے اس نے جاسوس بھرتی کر دیئے۔ 1945ءمیں امریکہ کی جانب سے جاپان پر 2 ایٹم بم گرائے جانے کے بعد سوویت یونین نے اگست 1949ءمیں جوہری تجربات کر کے مین ہیٹن پراجیکٹ پر کام کرنے والوں کو حیران کر دیا کیونکہ 1946ءتک امریکہ کو سوویت یونین کے کام کی خبر بھی نہ تھی۔ جان کیرن کراس جو برطانوی سائنسی ایڈوائزری کمیٹی کے چیئرمین تھے، جوہری جاسوسی کی تاریخ میں پہلے جاسوس کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوںنے یورینیم بم کی فزیبلٹی رپورٹ سوویت یونین کو فراہم کی۔ حیرت انگیز طورپر ان پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا لیکن برطانوی حکام نے انہیں زبردستی اپنے عہدے سے مستعفی کرا دیا۔ کلاس فچس جو مین ہیٹن پراجیکٹ کے اہم سائنسدان تھے کو 1949ءمیں گرفتار کر لیا گیا۔ ان پر سوویت یونین کو بم بنانے سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کرنے کا الزام تھا۔ انہیں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی اسی طرح مین ہیٹن پراجیکٹ کے مکینک اور ایتھل کے بھائی ڈیوڈ گرین گلاس کو 15 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ انہوں نے جنگ عظیم دوم کے دوران لیبارٹری میں ہونے والے تجربات کے خام نسخہ جات سوویت یونین کو فراہم کئے تھے۔ کلاس فچس کے اقرار جرم کے بعد ان کے پیغام رساں ہیری گولڈ کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ وہ 1935ءسے امریکی صنعتوں کی معلومات سوویت یونین کو فراہم کرتے رہے تھے۔ انہیں 30 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ مین ہیٹن پراجیکٹ کے ایک نوعمر سائنسدان تھیوڈور ہال سے بھی جوہری راز افشاءکرنے کی تحقیقات ہوئی تاہم ثبوتوں کی کمی کے باعث ان کا ٹرائل نہیں کیا جا سکا، لونا کوہن اور ان کے شوہر مارس بھی اس جرم میں ملوث پائے گئے۔ انہوں نے 8 سال جیل کاٹی۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,223 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|