واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


جیو پر پابندی کیخلاف درخواستیں،سندھ ہائیکورٹ میں5بار سماعت کے بعد ناقابل سماعت قرار دے کر خارج

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 05-12-07, 08:28 AM   #1
جیو پر پابندی کیخلاف درخواستیں،سندھ ہائیکورٹ میں5بار سماعت کے بعد ناقابل سماعت قرار دے کر خارج
خرم شہزاد خرم خرم شہزاد خرم آف لائن ہے 05-12-07, 08:28 AM

کراچی( اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس منیب احمد خان اور مسٹر جسٹس ڈاکٹر رانا محمد شمیم پر مشتمل ڈویژن بنچ نے جیو ٹی وی نیٹ ورک کی بندش کے خلاف دو ایک جیسی آئینی درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دیا ، واضح رہے کہ منگل کو چھٹی سماعت تھی،5مرتبہ سماعت ملتوی ہوچکی تھی۔عدالت نے کہا کہ پی سی او اور ایمرجنسی میں کئی بنیادی حقوق معطل ہیں، دو آئینی درخواستیں انڈیپنڈنٹ میڈیا کارپوریشن اور برڈز پرائیویٹ لمیٹڈ نے جیو نیوز، جیو انٹرٹینمنٹ، جیو سوپر اور آگ ٹی وی چینلز کی نشریات بند کئے جانے کے خلاف دائر کی تھیں، جیو کے وکیل محمد علی مظہر نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے دو نکات اٹھائے تھے پہلا یہ کہ جیو نیوز کی نشریات دبئی سے بند ہیں۔ اسی معاملہ میں ایک پٹیشن سپریم کورٹ میں بھی داخل کی گئی تھی اور اسی بنیاد پر سرکاری وکیل نے مزید مہلت طلب کی تھی۔ محمد علی مظہر نے کہا کہ پانچ دفعہ مہلت طلب کرنے کے باوجود مدعا علیہان کی جانب سے کمنٹس داخل نہیں کئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر کئے جانے والے اعتراضات غیر موثر ہوگئے کیونکہ دبئی میڈیا سٹی نے جیو نیوز کی نشریات بحال کر دی ہیں اور غیر متعلقہ شخص نے سپریا کررٹ میں جو آئینی درخواست دائر کی، وہ ان اعتراضات کے ساتھ واپس کر دی گئی کہ وہ متاثرہ فریق نہیں ہے اور پی سی او اور ایمرجنسی کے ساتھ اسے سنا نہیں جا سکتا، جیو کے وکیل نے کہا کہ آئین کی دفعہ 199 کے تحت ہائیکورٹ کو اختیار سماعت ہے۔ درخواست گزار نے نشریات کے لینڈنگ رائٹس پیمرا کو بھاری لائسنس فیس دے کر حاصل کئے اور لائسنس ابھی موثر ہیں۔ محمد علی مظہر نے کہا کہ اظہار وجوہ کا نوٹس دیئے بغیر درخواست گزار کے چینلز زبانی حکم پر بند کرا دیئے جو غیر قانونی اقدام ہے ، انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 2, 4-18 اے، پی سی او میں معطل نہیں ہوتے ہیں ، درخواست گزاروں کا کمرشل ادارہ ہونے کے سبب کاروبار کرنے کا حق بغیر کسی رکاوٹ کے موجود ہے۔ موجودہ پٹیشن کا آرٹیکل 19 سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زبانی احکامات کے تحت ٹی وی چینلز بند کرنا خلافِ قانون اور آرٹیکل 2,4,18 اے کے خلاف ہے ۔عدالت نے محمد علی مظہر سے سوال کیا کہ درخواستیں پی سی او اور ایمرجنسی کی موجودگی میں کس طرح قابل سماعت ہیں کیونکہ بیشتر بنیادی حقوق بشمول آزادی اظہار رائے تقریر و تحریر معطل ہے، اس کے جواب میں محمد علی مظہر نے کہا کہ آرٹیکل 18 اور 4 معطل نہیں ہے اور اپنے دلائل کے موقف میں سپریم کورٹ کا سردار فاروق لغاری ، ظفر علی شاہ کیس پیش کیا، جس میں قرار دیا گیا تھا کہ پی سی او اور ایمرجنسی کے باوجود آرٹیکل 199 موجود رہے گا ، اعلیٰ عدالتوں کی جوڈیشل ریویو پاور ختم نہیں کی گئی ،انہوں نے آرٹیکل 184, 199 کے دائرہ اختیار کے بارے میں دلائل دیئے اور زبانی حکم کے موثر ہونے کے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا، جس میں پلاٹ کے زبانی منسوخی کے حکم کو سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مدعا علیہان کا اقدام سیکشن 24 اے جنرل کلازز ایکٹ کے خلاف ہے جو مدعا علیہان کو پابند کرتا ہے کہ وہ معطلی کی وجوہات بتائیں اور متاثرہ فریق کو صفائی کا موقع دیں۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ مسعود نورانی نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی میں اتھارٹی لائسنس معطل کر سکتی ہے، اس کے جواب میں محمد علی مظہر نے کہا یہ شرط غیر متعلق ہے کیونکہ جیو کے چار چینلز کے علاوہ جتنے چینلز بند کئے گئے، ان کی نشریات بحال کر دی گئی ہیں، اس شرط کا جیو پر اطلاق نہیں ہوتا ، انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس شرط کا اطلاق بھی کیا جائے تو پیمرا کیلئے ضروری ہے کہ وہ اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرے یا وجوہات بیان کرے لیکن صرف کیبل ٹی وی آپریٹر کو زبانی احکامات کے علاوہ کوئی تحریری احکامات نہیں دیئے گئے۔انہوں نے کہا کہ پیمرا کا اقدام نہ صرف امتیازی ہے بلکہ سیکشن 24 اے آف جنرل کلازز ایکٹ اور پیمرا کے اپنے رولز ریگولیشن کے بھی خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی چینلوں کو ایمرجنسی میں بھی نشریات کی اجازت ہے جبکہ جیو کی نشریات معطل ہیں، عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل مسعود نورانی سے پوچھا ایمرجنسی میں کس طرح بغیر تحریری احکام یا نوٹس کے چینلز کی نشریات معطل کی جا سکتی ہیں، ایڈووکیٹ جنرل نے درخواست گزار سے لائسنس کی ٹرم و کنڈیشن سے اتفاق کیا تھا اور ان کے پاس انہیں چیلنج کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ محمد علی مظہر نے کہا کہ درخواست گزاروں نے نہ صرف لینڈنگ رائٹس کے معاہدہ سے اتفاق کیا تھا بلکہ پیمرا لاز کو بھی منظور کیا تھا، درخواست گزاروں کی نشریات کی بندش پیمرا قوانین اور قدرتی انصاف کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی سی او اور ایمرجنسی کو چیلنج نہیں کیا گیا بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ وہ پیمرا کا جائز لائسنس رکھتے ہیں اور پیمرا کو قانون کے مطابق دیکھنا چاہئے ، درخواست گزاروں کا کاروبار غیر قانونی بندش کی وجہ سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔اس موقع پر عدالت نے آبزرویشن دی کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل ایک جانب یہ کہہ رہے ہیں کہ درخواست گزاروں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا ہے جبکہ دوسری جانب وہ پٹیشن کے خلاف دلائل دے رہے ہیں، یہ چھٹی سماعت تھی۔ عدالت نے اسے خارج کر دیا۔دریں اثناء جیو کی نشریات بحال نہ ہونے سے اس کے کروڑوں ناظرین کو سخت صدمہ پہنچا ہے جو اپنی پسندیدہ نشریات نہیں دیکھ پارہے ہیں۔ طویل عرصے سے بندش کی وجہ سے جیو نیوز، جیو انٹرٹینمنٹ،جیو سوپر اور آگ چینلز کا مالی خسارہ بڑھتا جارہا ہے، جس کے باعث ان چینلز سے وابستہ ہزاروں ملازمین اور انکے خاندانوں کا مستقبل غیر یقینی کا شکار ہوگیا ہے۔

 
خرم شہزاد خرم's Avatar
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 332
Reply With Quote
جواب

Tags
کراچی, پسندیدہ, موقع, موجودہ, اعلیٰ, تحریر, تحریری, جیو ٹی وی, جواب, حکم, خلاف, خان, دبئی, سپریم, سردار, شخص, علی, صدمہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
گڈ بدعت اینڈ بیڈ بدعت sahj مذہبی مسائل اور ان کا حل 40 26-07-09 09:52 AM
مواخذے دا ساہمنا کرو یاں استعفیٰ دے دیو: شجاعت پیاسا خبریں 1 13-08-08 10:46 AM
جیو کی بندش کے خلاف درخواستوں کی سماعت سپریم کورٹ آج کریگی خرم شہزاد خرم خبریں 0 01-01-08 10:48 AM
جماعت اسلامی کا بائیکاٹ ن لیگ کا فائدہ اور جے یو آئی کو نقصان پہنچائے گا عبدالقدوس خبریں 0 12-12-07 09:46 AM
سندھ ہائیکورٹ آج ،جیو کی نشر یات پر پابندی کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کر یگی خرم شہزاد خرم خبریں 0 20-11-07 09:19 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:43 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger