|
جیو کی بندش کے خلاف درخواستوں کی سماعت آج سندھ ہائیکورٹ میں ہو گی،توقع ہے عدالت عبوری حکم کے ذریعے ریلیف فر ہم کر ے گی

04-12-07, 09:18 AM
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس منیب احمد خان اور مسٹر جسٹس ڈاکٹر رانا محمد شمیم پر مشتمل ڈویژن بنچ آج منگل کو جیو نیوز، جیو انٹرٹینمنٹ، جیو سوپر اور آگ چینلوں کی بندش کے خلاف انڈیپنڈنٹ میڈیا لمیٹڈ اور برڈ پرائیویٹ لمیٹڈ کی دو ایک جیسی آئینی درخواستوں کی سماعت دوبارہ شروع کرے گا، بار بار سماعت ملتوی ہونے سے جیو کو بھاری مالی نقصان ہوافاضل بنچ نے گزشتہ سماعت پر وفاقی حکومت کے وکیل ڈپٹی اٹارنی جنرل رضوان صدیقی کو چوتھی دفعہ کمنٹس داخل کرنے کا موقع فراہم کرتے ہوئے یہ ہدایت کی تھی کہ وہ حکومت سے پوچھ کر بتائیں کہ جیو کے ان چینلز کو بحال کرنے میں کیا قباحت ہے جس پر خبریں اور حالات حاضرہ کے پروگرام پیش نہیں کئے جاتے ۔ یاد رہے کہ گزشتہ سماعت پر ڈی اے جی نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ جیو پر دراصل پابندی دبئی حکومت نے لگائی ہے اور وفاقی حکومت نے دبئی سے مختلف ڈاکومنٹ منگوائے ہیں جن کو دیکھنے کے بعد حکومت کی جانب سے کمنٹس داخل کئے جائیں گے اب جبکہ دبئی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ جیو نیٹ ورک پر تمام پابندیاں ختم کرکے جیو نیوز بحال کردیا ہے توقع کی جارہی ہے کہ عدالت کوئی عبوری حکم کے ذریعہ درخواست گزاروں کو ریلیف فراہم کریں گے۔ یاد رہے کہ دبئی حکومت نے صرف جیو نیوز کو بند کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ باقی تین چینلز نے معمول کے مطابق نشریات جاری رکھیں جبکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل کا موقف تھا کہ دبئی حکو مت نے چاروں چینلز بند کر دیے تھے۔ درخواستوں کی سماعت کے دوران یہ چاروں چینلز ڈش انٹینا کے ذریعے دیکھے جاسکتے ہیں۔ درخوا ست گزاروں کے وکیل محمد علی مظہر کا یہ موقف رہا ہے کہ چاروں چینلز کی بندش بغیر کسی اظہار وجوہ کے نوٹس کے اور غیر قانونی طریقہ سے کی گئی ہے ۔ انڈیپینڈنٹ میڈیا کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈاور برڈز پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے دائر کردہ دو آئینی پٹیشنوں کی ڈویژن بنچ میں گذشتہ سماعت 29 نومبر کو ہوئی تھی جس کے بعد کیس کی سماعت پانچویں مرتبہ بڑھادی گئی تھی اور عدالت نے آئندہ سماعت کیلئے 4 دسمبر کی تاریخ مقرر کی تھی۔ آخری سماعت کے موقع پر عدالت عالیہ کے احکام کے مطابق ڈپٹی اٹارنی جنرل رضوان صدیقی نے اپنے کمنٹس داخل کرانا تھے جس میں وہ ایک مرتبہ پھر ناکام رہے ۔ اُنہوں نے عدالت کو اٹارنی جنرل کا فیکس دکھاتے ہوئے بتایا کہ اٹارنی جنرل مصروفیت کے باعث کراچی نہیں آسکے، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے اِس ضمن میں مزید مہلت طلب کی۔ اُنہوں نے سماعت کے دوران اخبارات کے تراشے بھی دکھائے جس میں پیمرا آرڈیننس 2007ء کے سپریم کورٹ میں چیلنج کئے جانے سے متعلق خبر چھپی تھی۔ جواب میں محمد علی مظہر ایڈووکیٹ نے کہا کہ آئین کی دفعہ 199 کے تحت اُن کے موکل(ادارے) کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے،اہم مسئلہ ہے، اسے فوری حل ہونا چاہئے اور اگر کسی اجنبی یا غیر متعلقہ شخص نے سپریم کورٹ میں کوئی پٹیشن دائر کی ہے تو اُس کا اِن سے کوئی تعلق نہیں بنتا کیونکہ عدالت عالیہ پر آرٹیکل 199،184 اور 185 کے تحت کوئی پابندی نہیں کہ وہ جیو ٹی وی کی دائر کردہ پٹیشن کی سماعت نہ کرسکے۔ جیو ٹی وی خود بھی پیمرا کی لائسنس یافتہ کمپنی ہے اور وہ بذات خود بھی عدالت عظمیٰ میں پٹیشن دائر کرسکتے ہیں لہٰذا وہ اِس سلسلے میں کسی غیر متعلقہ شخص کی پٹیشن کے محتاج نہیں۔ 29نومبر کو سماعت شروع ہونے پر جسٹس منیب احمد خان نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے کمنٹس جمع کرانے کے بارے میں استفسار کیا تو اُنہوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل بذات خود عدالت میں حاضر ہو کر کمنٹس داخل کرائیں گے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|