واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


جیو کی درخواستوں کی سماعت،ڈپٹی اٹارنی جنرل کو27نومبر تک مہلت،ناکامی کی صورت میں حکم جاری کردیں گے ،سندھ ہائی کورٹ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 21-11-07, 08:13 AM   #1
جیو کی درخواستوں کی سماعت،ڈپٹی اٹارنی جنرل کو27نومبر تک مہلت،ناکامی کی صورت میں حکم جاری کردیں گے ،سندھ ہائی کورٹ
خرم شہزاد خرم خرم شہزاد خرم آف لائن ہے 21-11-07, 08:13 AM

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس منیب احمد خان اور مسٹر جسٹس عبدالرحمٰن فاروق پیر زادہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے جیو ٹی وی کی دو آئینی درخواستوں پر ڈپٹی اٹارنی جنرل رضوان صدیقی کو 27 نومبر تک جواب داخل کرنے کا آخری موقع دیتے ہوئے کہا ہے کہ ناکامی کی صورت پر پٹیشنوں پر حکم جاری کردیا جائے گا۔ان کی ایک جیسی دو آئینی درخواستوں کے ذریعے انڈی پنڈنٹ میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ نے جیو نیوز، جیو انٹرٹینمنٹ اور برڈز پرائیویٹ لمیٹڈ نے اسپورٹس کا جیو سوپر اور آگ میوزک چینل کی بندش کو چیلنج کیا ہے۔ گزشتہ سماعت پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب داخل کرنے کے لئے بیس نومبر تک مہلت مانگی تھی لیکن اس سماعت پر وہ کمنٹس پیش کرنے میں ناکام رہے اور مزید 10 روز کی مہلت طلب کی، جس کی مخالفت کرتے ہوئے جیو ٹی وی کے وکیل محمد علی مظہر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت الیکٹرونک میڈیا کو ضابطے میں لانے کے لئے اب تک پانچ قوانین جاری کرچکی ہے جن میں پیمرا آرڈیننس 2002ء، پیمرا ترمیمی آرڈیننس 2007ء، پیمرا رولز 2002ء، براڈ کاسٹنگ قوانین 2002ء، کیبل ٹی وی ریگولیشن 2002ء اور ان سے منسلک ضابطہٴ اخلاق 2002ء شامل ہیں، ان کی خلاف ورزی پر 3 سال قید اور ایک کروڑ روپے جرمانے کی سزا دی جاسکتی ہے۔ ان قوانین میں کسی چینل کے خلاف اقدام کرنے کا طریقہ کار بھی واضح ہے لیکن چینل کو بند کرنے کا جو طریقہ حکومت نے اختیار کیا اس کا کہیں تذکرہ موجود نہیں۔ جبکہ جیو ٹی وی نیٹ ورک تمام قوانین پر عملدرآمد کرتے ہوئے اپنی نشریات کررہا تھا اور اب بھی اُن قوانین پر عملدرآمد کرنے کو تیار ہے۔ اس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ حال ہی میں دبئی حکومت نے جیو کا لائسنس منسوخ کردیا ہے اب اگر حکومت ان کو اجازت دے بھی دے تو یہاں ان کی نشریات ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیمرا نے درخواست گزاروں کو صرف ایڈورٹائزمنٹ کے لئے لائسنس جاری کئے تھے جو اب منسوخ ہوچکے ہیں۔ جیو کے وکیل محمد علی مظہر نے اس کی پرزور تردید کرتے ہوئے کہا کہ لائسنس کا تعلق صرف ایڈورٹائزمنٹس سے نہیں بلکہ لینڈنگ رائٹس سے ہے اور یہ 5 سال کے لئے جاری کئے گئے تھے جس کی مدت ابھی باقی ہے۔ محمد علی مظہر نے کہا کہ دبئی حکومت نے جیو نیوز کو وقتی طور پر بند کیا ہے جبکہ انٹرٹینمنٹ، جیو سوپر (اسپورٹس) اور آگ میوزک چینل کی نشریات جاری ہیں اور ڈش انٹینا پر دیکھی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دبئی حکومت کے جاری کردہ لائسنسوں کا پیمرا کے لائسنسز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ محمد علی مظہر نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر میں نے 21 چینلز کی فہرست فراہم کی تھی جن کو بحال کردیا گیا ہے صرف جیو کے چار چینلز کو بحال نہیں کیا گیا، جس سے ساڑھے چار ہزار سے زائد افراد کا روزگار وابستہ ہے اور بندش کی وجہ سے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی مشکل ہوجائے گی۔ ایک طرف حکومت روزگار فراہم کرنے کی بات کرتی ہے دوسری جانب اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا روزگار خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔ اس بندش نے نہ صرف ملازمین بلکہ سیاست دانوں اور سول سوسائٹی کو بھی خدشات سے دوچار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کل ہی امریکی سفیر اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے جیو ٹی وی کا دورہ کیا جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ میڈیا نے آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے اور جنگ گروپ کے اخبارات میں میرے خلاف خبر لگادی کہ پولیس نے مجھے کھینچ کر گاڑی سے باہر نکالا، اس بینر ہیڈلائن کو دیکھ کر ساری رات مجھے دنیا بھر سے فون آتے رہے۔ محمد علی مظہر نے کہا کہ محسوس ہوتا ہے کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل جنگ کے خلاف ذاتی عناد کی بنیاد پر پٹیشنوں کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے اور وقت پر وقت مانگ رہے ہیں، پٹیشن پر تیاری کرکے نہیں آئے جبکہ میں اب بھی آرگومنٹس کے لئے تیار ہوں لیکن ڈپٹی اٹارنی جنرل موضوع سے ہٹ کر بات کررہے ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا یہ بندش کسی تحریری حکم نامے کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ محمد علی مظہر ایڈووکیٹ نے بتایا کہ درخواست گزاروں کو ایسا کوئی تحریری حکم نامہ نہیں دیا گیا، جس پر عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو کہا کہ گزشتہ سماعت میں مہلت کے بعد انہیں آج آرگومنٹس کے لئے تیار رہنا چاہئے تھا۔ رضوان صدیقی نے کہا کہ ہم جیو ٹی وی کی پٹیشنوں کے حوالے سے مختلف دستاویزات کا جائزہ لے رہے ہیں اگر یہ کلیئر ہوئے تو ان کی نشریات بحال کردی جائیں گی۔ وفاقی حکومت پریس کی آزادی پر یقین رکھتی ہے اور حکومت کسی چینل کو بند رکھنے میں قطعی کوئی دلچسپی نہیں رکھتی، ہم حکومت کے خلاف تنقید کو برداشت کرتے رہے ہیں۔ رضوان صدیقی نے کہا کہ دونوں درخواست گزار دبئی کی کمپنیاں ہیں۔ محمد علی مظہر ایڈووکیٹ نے کہا کہ لینڈنگ رائٹس پیمرا نے دیئے ہیں۔ جو کہ ٹی وی چینلز کے لئے حاصل کرنا ضروری ہے جو ہمارے چینلز نے بھی لئے ہیں۔ ان لائسنسوں کی قانونی حیثیت ابھی برقرار ہے۔ بعد میں عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو 7 روز میں جواب داخل کرنے کا وقت دیتے ہوئے کہا کہ ناکامی کی صورت میں پٹیشنوں پر حکم جاری کردیا جائے گا اور سماعت 27 نومبر ایک بجے تک ملتوی کردی۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز

 
خرم شہزاد خرم's Avatar
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 340
Reply With Quote
جواب

Tags
کورٹ, کراچی, پولیس, وزیراعظم, قید, چینل, موقع, ممکن, آج, انٹینا, بے نظیر, تحریری, جیو ٹی وی, جواب, حکم, حال, خلاف, خان, خبر, دبئی, سیاست, سال, علی, عدالت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
صوبہ پنجاب ،سندھ و سرحدکا بجٹ کل پیش کیا جائے گا عبدالقدوس خبریں 0 15-06-08 08:16 PM
کراچی میں قومی و صوبائی کی نشستوں پر 525 امیدواروں کے کاغذات منظور عبدالقدوس خبریں 0 04-12-07 09:59 AM
جیو کی بندش کے خلاف درخواستوں کی سماعت آج سندھ ہائیکورٹ میں ہو گی،توقع ہے عدالت عبوری حکم کے ذریعے ریلیف فر ہم کر ے گی عبدالقدوس خبریں 0 04-12-07 09:18 AM
جیو کی نشر یات بحال کی جائیں،آج عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ ہو گا،سندھ ہائیکورٹ بار ،سند ھ بار کونسل عبدالقدوس خبریں 0 23-11-07 09:21 AM
ملک کی نصف آبادی بجلی سے محروم،سندھ بلوچستان میں کسی ہائیڈل پاور منصوبے پر کام نہیں ہورہا خرم شہزاد خرم خبریں 0 13-11-07 09:13 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:45 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger