واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


جیو کی درخواستوں کی سماعت جمعے سے کی جائے، سپریم کورٹ کا سندھ ہائیکورٹ کو حکم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-01-08, 12:24 PM   #1
جیو کی درخواستوں کی سماعت جمعے سے کی جائے، سپریم کورٹ کا سندھ ہائیکورٹ کو حکم
ابن ضیاء ابن ضیاء آف لائن ہے 08-01-08, 12:24 PM

اسلام آباد ۔۔۔۔۔۔ سپریم کورٹ نے جیو ٹیلی ویژن نیٹ ورک کی بندش کے خلاف دائر کیس کو سندھ ہائی کورٹ کو واپس بھجواتے ہوئے ایک ماہ کے عرصہ کے دوران میرٹ پر فیصلہ سنانے کا حکم دیا ہے۔ جبکہ فاضل عدالت نے جیو ٹیلی ویژن نیٹ ورک کی بندش کے خلاف سندھ ہائی کورٹ کے کیس کو ناقابل سماعت قرار دیکر خارج کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیدیا ہے اور کیس سندھ ہائی کورٹ کو ریمانڈ کرتے ہوئے اسکی پہلی سماعت 11 جنوری بھی مقرر کر دی ہے ۔ عدالت نے فریقین کو ہدایت کی ہے کہ وہ کیس کی سماعت کے موقع پر سندھ ہائی کورٹ میں پیش ہوں۔ فاضل عدالت نے درخواست گزاروں کے وکیلوں کو ہدایت کی کہ وہ صورتحال کی تبدیلی کے پیش نظر چاہیں تو سندھ ہائی کورٹ میں ترمیمی پٹیشن داخل کردیں کیونکہ ملک سے ایمرجنسی اٹھ جانے کے بعد اظہار رائے کی آزادی کا آرٹیکل 19 بھی بحال ہو چکا ہے۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں مسٹر جسٹس موسیٰ کے لغاری اور مسٹر جسٹس چوہدری اعجاز یوسف پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کی۔ عدالت کے روبرو اٹارنی جنرل جسٹس (ر) ملک محمد قیوم نے پیش ہوکر کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ میرٹ پر نہیں سنایا جبکہ ہائی کورٹ کو میرٹ پر فیصلہ سنانا چاہئے تھا گرچہ جس وقت اس پٹیشن کی سماعت ہوئی اس وقت ملک میں پی سی او اور ایمرجنسی تھی لیکن پی سی او کے دوران بھی چند ایک کو چھوڑ کر باقی تمام بنیادی حقوق بحال تھے لیکن اب تو پی سی او اور ایمرجنسی ختم ہو چکی ہے اور تمام تر صورتحال تبدیل ہو چکی ہے۔ درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ میں براہ راست پٹیشن دائر نہیں کی بلکہ ہائیکورٹ کے فیصلے کو آرٹیکل 199 کے تحت چیلنج کیا ہے۔ اب درخواست گزار بدلی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ہائی کورٹ میں ترمیم شدہ پٹیشن دائر کر سکتے ہیں۔ جیو ٹیلی ویژن نیٹ ورک کی بندش کے خلاف انڈی پینڈنٹ میڈیا کارپوریشن اور برڈز پرائیویٹ لمیٹڈ نے دو درخواستیں دائر کی تھیں۔ درخواست گزاروں کے وکیل محمد علی مظہر ایڈووکیٹ نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ میں حکومت نے موقف اپنایا کہ ایمرجنسی کی صورت میں چینلز کو بند کیا جاسکتا ہے جس کا ذکر فاضل ہائی کورٹ کے فیصلے میں بھی موجود ہے۔ ایمرجنسی ختم ہوچکی ہے اب تو چینلز کو خودبخود بحال کر دینا چاہئے تھا۔ اس کے باوجود ہم نے حکومت کو ضابطہ اخلاق پر دستخط کر دئے ہیں، جس پر جیو ٹیلیویژن نیٹ ورک کے دو چینلز جیو انٹرٹینمنٹ اور جیو آگ کو بحال کر دیا ہے جبکہ جیو نیوز اور جیو سوپر کو ابھی تک بند رکھا گیا ہے، ہم اس معاملہ میں سپریم کورٹ کی مداخلت چاہتے ہیں تاکہ اس کو جلد از جلد حل کیا جائے۔ یہ انتہائی اہم نوعیت کا معاملہ ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ ہماری مجبوری یہ ہے کہ آپ نے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے لیکن ہائی کورٹ نے میرٹ پر فیصلہ نہیں سنایا۔ محمد علی مظہر ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم نے ہائی کورٹ سے آرٹیکل 18 کے تحت ریلیف مانگا تھا کیونکہ ہمارے رائٹس آف بزنس متاثر ہوئے ہم نے آرڈیننس کو چیلنج نہیں کیا۔ ہمارے پاس لینڈنگ رائٹس موجود ہیں اور ہمارا لائسنس قابل عمل حالت میں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 18 بزنس آف رائٹس جبکہ آرٹیکل 19 آزادی رائے کے بارے میں ہے۔ آپ کو آرٹیکل 19 کے تحت آزادی اظہار رائے حاصل ہوگی، تب ہی آپ آرٹیکل 18 کی بات کریں گے۔ جیو کے وکیل نے مزید کہا کہ اس وقت پاکستان کے تمام چینلز کھول دیئے گئے ہیں ماسوائے جیو نیوز اور جیو سوپر کے، ہمارے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے۔ جیو کے 4500 ملازمین میں مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔ ادارے کو مالی مشکلات کا سامنا ہے اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ادارے کو ملازمین کو فارغ کرنا پڑیگا جس سے بیروزگاری پھیلے گی۔ جیو ابھی تک اپنے ملازمین کو اس ماہ کی تنخواہیں بھی نہیں دے سکا۔ فاضل وکیل نے کہا کہ ہمارے خلاف نہ تو کوئی شوکاز نوٹس جاری کیا گیا اور نہ ہی کوئی آرڈر پاس کیا گیا اور چینلز کو بند کر دیا گیا جو کہ غیرقانونی عمل ہے۔ سپریم کورٹ کی مداخلت کیلئے یہ ایک فٹ کیس ہے تاکہ بقیہ دونوں چینلز بھی بحال ہوسکیں۔ وفاق اور پیمرا کی نمائندگی اٹارنی جنرل نے کی۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کیس سندھ ہائی کورٹ کو واپس بھجوانے کی صورت میں وہ فاضل ہائی کورٹ میں تحریری جواب داخل کریں گے۔ میں تو اظہار رائے کی آزادی کے حق میں ہوں۔ یہ اہم کیس ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس کا فیصلہ میرٹ پر ہو۔یہ پہلے ہائی کورٹ ہی کر سکتی ہے۔ فاضل عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس سندھ ہائی کورٹ کو واپس بھجوا دیا اور جیو کے وکیل کے بے حد اصرار پر سندھ ہائی کورٹ میں کیس کی پہلی سماعت 11 جنوری مقرر کردی۔

 
ابن ضیاء's Avatar
ابن ضیاء
Senior Member
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: Karachi - Pakistan
مراسلات: 328
شکریہ: 50
83 مراسلہ میں 185 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 263
Reply With Quote
جواب

Tags
کورٹ, پاکستان, نیوز, نظر, موقع, اسلام, تحریری, جواب, جلد, حکم, حل, خلاف, درخواست, سپریم, علی, عدالت, صورتحال


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
جیو کی بندش کے خلاف درخواستوں کی سماعت سپریم کورٹ آج کریگی خرم شہزاد خرم خبریں 0 01-01-08 10:48 AM
جیو کی بندش کیخلاف درخواستوں پرسپریم کورٹ کاوفاق، پیمرا، اٹارنی جنرل کو نوٹس خرم شہزاد خرم خبریں 0 19-12-07 07:35 AM
جیو کی نشریات فوری بحال کی جائیں‘ سپریم کورٹ درخواستوں کی سماعت آج کریگا عبدالقدوس خبریں 0 18-12-07 07:37 AM
جیو کی بندش کے خلاف درخواستوں کی سماعت آج سندھ ہائیکورٹ میں ہو گی،توقع ہے عدالت عبوری حکم کے ذریعے ریلیف فر ہم کر ے گی عبدالقدوس خبریں 0 04-12-07 09:18 AM
سندھ ہائیکورٹ آج ،جیو کی نشر یات پر پابندی کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کر یگی خرم شہزاد خرم خبریں 0 20-11-07 09:19 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:45 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger