جیو کے دفاتر کے باہر احتجاجی کیمپ،ہر مکتبہ فکر کا اظہار یکجہتی،شہریوں نے پھولوں کے ڈھیر لگادیئے
جیو کے دفاتر کے باہر احتجاجی کیمپ،ہر مکتبہ فکر کا اظہار یکجہتی،شہریوں نے پھولوں کے ڈھیر لگادیئے
کراچی(جنگ نیوز)جیو کی بندش کیخلاف جیو کے دفاتر کے باہر احتجاجی کیمپ قائم کر دیئے گئے ہیں ،جہاں شہریوں نے پھولوں لے ڈھیر لگا دیئے،معاشرے کے ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے ان احتجاجی کیمپس میں آکر جیو اور وہاں پر موجود جیو کے ملازمین سے اظہار یکجہتی کیا،اس موقع پر موجود لوگوں نے چینلز کی بحالی کا مطالبہ کیا اور جیو اور جینے دو کے نعرے لگائے،صحافیوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھی ہوئی تھیں،جیو کو دنیا بھر سے ای میل کی صورت میں ہزاروں پیغامات بھی وصول ہو رہے ہیں ،تفصیلات کے مطابق جیو اور دیگر ٹی وی چینلز کی بندش کے خلاف صحافیوں، علماء، اساتذہ، طلبہ ، وکلاء، سول سوسائٹی، سیاستدانوں نے اتوار کو بھی شدید ردعمل کا سلسلہ جاری رکھا۔ بعض شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے، جلوس نکالے اور دھرنا دیا۔ ہر مکتبہ فکر کے سرکردہ افراد اور رہنماؤں نے حکومتی اقدام کو اظہار رائے کی آزادی پر شب خون قرار دیا اور جیو سمیت تمام چینلز کی نشریات فوراً بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس سلسلے میں جیو اور جنگ کے دفاتر کے سامنے احتجاجی کیمپ لگائے گئے جن میں شہریوں نے پھولوں کے ڈھیر لگا دیئے۔ صحافیوں کے علاوہ سیاسی رہنماؤں، طلبہ ، وکلاء، خواتین سمیت ہر مکتبہ فکر کے افراد نے آ کر یکجہتی کا اظہار کیا اور موم بتیاں جلا کر جہالت اور ظلمت کے اندھیروں کو بھگانے کی کوشش کی اور کہا کہ جیو نے سچ دکھایا جو حکمرانوں کو پسند نہیں آیا۔ صحافی آزادی صحافت کے حق میں اور پیمرا آرڈیننس کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ جیو سمیت تمام نجی ٹی وی چینلز کی بندش اور میڈیا پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔ پیمرا آرڈیننس واپس لیا جائے اور ایمرجنسی ختم کرکے شہری آزادیاں بحال کی جائیں۔ جیو ٹی وی کی بندش اور میڈیا پر پابندیوں کے خلاف گزشتہ روزراولپنڈی، اسلام آبادکے صحافیوں نے شدید احتجاج کیا۔ اس سلسلے میں احتجاجی کیمپ لگائے گئے مظاہرے کئے اور مرکزی شاہراہوں پر مارچ کیا۔ اس موقع پر صحافیوں نے جیو کی نشریات کی فی الفور بحالی اور دونوں آرڈیننسوں کی منسوخی کا مطالبہ کیا۔ ان کے احتجاج میں سول سوسائٹی، تنظیموں، خواتین، وکلاء اور طلباء کی کثیر تعداد نے بھی شرکت کی اور صحافیوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ مظاہروں اور احتجاجی کیمپوں میں جیو اور جینے دو کے نعرے لگائے گئے صحافیوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھی ہوئی تھیں۔ اسلام آباد میں جیو ٹی وی کے دفتر کے باہر احتجاجی کیمپ لگایا گیا جس میں صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر جیو ٹیلی ویژن کے حامد میر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جیو ٹیلی ویژن اور اے آر وائی کی نشریات کو پوری دنیا میں بند کر دیا گیا ہے یہ دونوں چینلز خبروں کی تشہیر میں نہ صرف دیانتداری سے کام لیتے تھے بلکہ لوگوں کو باخبر رکھنے کا فریضہ بھی انجام دیتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تمام دنیا سے جیو کو بے شمار ای میلز اور خطوط موصول ہو رہے ہیں جس میں صرف ایک ہی سوال پوچھا گیا ہے کہ ان باخبر ذرائع کا قصور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اصولوں پر کبھی سودے بازی نہیں کرینگے۔ حکمران بعض ٹی وی چینلز کو مشروط بنیادوں پر بحال کر رہے ہیں جو ہمیں کسی صورت قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا پر پابندی سے لوگ گھٹن کا شکار ہیں۔
|