|
جی پی او چوک سے شروع ہونے والے خودکش حملے کب رکیں گے

02-09-10, 06:21 PM
02 ستمبر 2010
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) صوبائی دارلحکومت لاہور 2008ءسے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے جس میں زیادہ تر سیکیورٹی اداروں اور اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ لاہور میںاب تک دہشت گردی کے اکیس واقعات میں سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور دفاتر پر حملوں کا آغاز 10جنوری 2008ءکو ہوا جب ایک خد کش حملہ آور نے لاہور ہائی کورٹ کے سامنے جی پی او چوک پر خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس میں پولیس اہلکاروں سمیت اکیس افراد جاں بحق ہوئے۔ اس سال چار مارچ کو مال روڈ پر نیول وار کالج میں خود کش حملہ ہوا جس میں چار جوانوں سمیت پانچ افراد شہید ہوئے ۔ ایک ہفتہ بعد گیارہ مارچ کو دہشت گردوں نے ایف آئی اے بلڈنگ اور ماڈل ٹاﺅن میں ایک عمارت کو بیک وقت نشانہ بنایا ان دونوں واقعات مجموعی طور پر 35افراد لقمہ اجل بن گئے ۔ 13اگست 2008ءکی شب ایک خود کش حملہ آور نے علامہ اقبال ٹاﺅن میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا اس حملے میں پولیس اہلکاروں سمیت نو افراد جاں بحق ہوئے۔ دہشت گردی کی ایک اور بھیانک واردات گزشتہ سال تین مارچ کو ہوئی جب دہشت گردوں نے لبرٹی چوک میں سری لنکن ٹیم پر حملہ کر دیا جس میں چھ پولیس اہلکاروں اورایک ڈرائیور نے اپنی جان پرکھیل کر ٹیم کو بچا لیا۔ سانحہ لبرٹی کے زخم ابھی بھرے نہیں تھے کہ دہشت گردوںنے اسی سال 30مارچ کو مناواں پولیس ٹریننگ سکول پر حملہ کر دیا جس میں آٹھ پولیس اہلکاروں سمیت دس افراد جاں بحق ہوئے ۔ 27مئی کو ایمرجنسی پولیس 15کی عمارت پر خود کش حملہ کیا گیا جس میں پولیس اہلکاروں سمیت 25افراد زخمی ہو گئے۔ بارہ جون کو گڑھی شاہو کی معروف جامع نعیمہ میں خود کش حملہ آور نے ڈاکٹر سرفراز نعیمی سمیت پانچ افراد کو دھماکے میں شہید کر دیا ۔ 15اکتوبر کو ایف آئی اے بلڈنٹ بیدیاں روڈ پر ایلیٹ ٹریننگ سکول اور جی ٹی روڈ پر مناواں کے قریب پولیس ٹریننگ سنٹروں پر حملوں میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت بیس سے زائد افراد شہید ہو گئے دو نومبر کو موٹروے کے بابو صابو انٹرچینج پر خود کش حملے میں سولہ افراد زخمی ہوئے ۔ سات دسمبر کو علامہ اقبال ٹاﺅن کی مون مارکیٹ میں یکے بعددیگرے دو بم دھماکے ہوئے جس میں ستر افراد جاں بحق ہوئے ۔ رواں سال دو مارچ کو دہشت گردوں نے ماڈل ٹاﺅن میں سپیشل انویسٹی گیشن ایجنسی کے دفتر کے نشانہ بنا کرسترہ افراد کو ہلاک اور درجنوں کو زخمی کر دیا ۔ ماڈل ٹاﺅن حملے کے ٹھیک دسویں روز دہشت گردوں نے لاہور میں یکے بعد دیگرے خود کش دھماکے کئے جس میں ستر سے زائد افراد جاں بحق اور سولہ سے زائد زخمی ہوئے۔ 28مئی کو دہشت گردوں نے گڑھی شاہو اور ماڈل ٹاﺅن میں احمدیوں کی دو عبادت گاہوں پر حملہ آو ر ہو کر سو افراد کو ہلاک اور تقریباً اتنے ہی زخمی کر دیئے تاہم پہلی باری ان حملوں میں دو دہشت گرد گرفتار ہوئے ۔یکم جولائی کو دہشت گردوں نے داتا دربار کو نشانہ بنایا اور دو خود کش دھماکے کر کے 41افراد کو شہید اور تقریباً دو سو افراد کو زخمی کر دیا۔
__________________
جاویداسد
|
جاویداسد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
شکریہ: 2,418
1,903 مراسلہ میں 5,667 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|