اپوزیشن کو نئی پارلیمانی صف بندی میں اکثریت کیلئے حکومت کیخلاف 172ارکان کی ضرورت ہے
حالات نئے اتحادوں کی طرف بڑھ رہے ہیں‘قومی اسمبلی کی تحلیل اورنئے انتخابات ہو سکتے ہیں
اسلام آباد (طاہر خلیل) جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی حکومت سے علیحدگی اور ایم کیو ایم کی ناراضگی کے باعث کیا موجودہ حکومت اپنا وجود برقرار رکھ سکے گی؟ یہ اہم سوال منگل کو دارالحکومت کے سیاسی حلقوں کی گفتگو کا اہم موضوع بنا دیا۔ اس وقت پارلیمنٹ مین جے یو آئی کے ارکان کی کل تعداد 17 ہے جس میں سینٹ کے 11 اور قومی اسمبلی میں 7 اراکین ہیں۔ آئین کے تحت سینٹ کے اراکین کا حکومت کے گرانے یا بنانے میں کوئی کردار نہیں ہوتا۔ اس میں قومی اسمبلی کے اراکین ہی کردار ادا کرتے ہیں۔ جے یو آئی کی حکومت سے علیحدگی اور ایم کیو ایم کی ناراضگی کے باعث قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کہاں کھرے ہیں؟ اس کا اظہار درج ذیل چارٹ سے واضح ہے۔

منسلکہ چارٹس سے واضح ہے کہ نئی پارلیمانی صف بندی میں حزب اختلاف کے ارکان اکثریتی پوزیشن میں آ جائینگے۔ حکومت بنانے کیلئے 172 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے اور حکومت گرانے کیلئے بھی اتنی ہی حمایت ضروری ہے۔ سوال یہ ہے کہ اپوزیشن اکثریت میں آنے کے باوجود حکومت گرانے کیلئے کیا وزیراعظم گیلانی کے خلاف عدم اعتماد تحریک کا آئینی راستہ اختیار کیا جائے گا۔ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں وزیراعظم کے خلاف ایک مرتبہ تحریک عدم اعتماد 1989ءمیں پیش ہوئی تھی۔ یہ تحریک اپوزیشن لیڈر غلام مصطفی جتوئی نے بے نظیر بھٹو کے خلاف پیش کی اور 13 ووٹ سے ناکام ہو گئی تھی۔ حالانکہ اس وقت کی اپوزیشن کو ایوان صدر اور فوج کی حمایت بھی حاصل تھی جبکہ آج صورتحال قطعی مختلف ہے۔ آج پریذیڈنسی میں غلام اسحاق کی جگہ صدر زرداری بیٹھے ہیں اور فوج بھی جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس لئے بدلتی صورتحال کے باوجود وزیراعظم گیلانی کے خلاف اپوزیشن کی تحریک کی کامیابی کے امکانات معدوم ہیں۔ تاہم موجودہ سیاسی حالات نئے سیاسی اتحادوں کی طرف تیزی سے برھ رہے ہیں۔ (ق) لیگ ایک اہم پوزیشن میں آ رہی ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کیلئے (ق) لیگ کی اہمیت بڑھ جائے گی۔ حکومت اور (ق) لیگ کے درمیان رابطے بڑھنے کا دارومدار پنجاب کی سیاست پر مرتکز ہو گا۔ اگر پی پی پی پنجاب میں (ق) لیگ اور پی پی پی کے درمیان نیا سیاسی اتحاد وجود میں آ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں پی پی پی کو ن لیگ کے ساتھ پنجاب میں اپنی شراکت داری کو خیرباد کہنا ہو گا۔ صورتحال کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ سیاست میں گرماگرمی بڑھے گی اور اس کا محور پارلیمان ہو گی جس کا اجلاس 20 دسمبر سے شروع ہونے والا ہے۔ موسم سرما کا یہ اجلاس پارلیمان کا گرم ترین بھی ہو سکتا ہے۔ تیسرا پہلو یہ ہے کہ سیاست میں چھوٹی جماعتوں/ گروپوں اور آزاد اراکین کی بلیک میلنگ اور ہائوس ٹریڈنگ میں بھی اضافہ ہو جائے گا اور پاکستان کی سیاست ایک بار پھر اس شعر کے مصداق ہو گی۔
لگا ہے مصر کا بازار دیکھ
نئے حسن نئے انداز دیکھ
چوتھا پہلو یہ ہے کہ بات کچھ بھی ہو حکومت سے جے یو آئی کی علیحدگی اور ایم کیو ایم کی ناراضی سے ملک سیاسی عدم استحکام کی لپیٹ میں آئے گا اور سیاسی عدم استحکام سے ملکی معیشت جو پہلے ہی نزاعی عالم میں ہے مزید خستہ حالی کی طرف بڑھے گی اور اس کا منطقی انجام قومی اسمبلی کی تحلیل کی صورت میں ہو سکتا ہے اور ملک میں نئے انتخابات ہو سکتے ہیں۔ یہی ہماری ماضی کی تاریخ بھی ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی