خورشید شاہ کی سربراہی میں حکومتی وفد امیر جے یو آئی کے گھر پہنچ گیا‘ آپ کے بغیر نہیں چل سکتے‘ وفاقی وزیر‘ بہت بدنامی مول لی حکومت میں واپس نہیں آئینگے‘ فضل الرحمن‘ گیلانی نے سلیم سیف اللہ کو ملاقات کیلئے مدعو کرلیا
غیرآئینی اقدام کاحصہ نہیں بنیں گے‘ سلیم سیف اللہ‘ صوبائی وزیر داخلہ کی تقریر سندھ کے مستقل باشندوں میں نفرت پیدا کرنے اور صوبے کو تقسیم کرنےکی سازش ہے، حکومت اتحادیوں کے ساتھ غیر مناسب رویّہ ختم کرے، ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی
اسلام آباد (خصوصی رپورٹر‘ آئی این پی‘ آن لائن‘ ثناءنیوز) پیپلزپارٹی اور جے یوآئی (ف) کے مابین مذاکرات ناکام ہوگئے‘ حکمران اتحاد میں واپسی کیلئے پیپلز پارٹی کی مولانا فضل الرحمن کومنانے کی کوشش کامیاب نہ ہوسکیں۔ حکومت سے علیحدگی کے بعد سیاسی جوڑ توڑ اور نمبر گیم شروع ہوگئی‘ حکومت ایک طرف فضل الرحمن کو منانے کی کوششوں میں لگی ہے تو دوسری طرف ہم خیال گروپ کوبھی ملاقات کیلئے مدعو کیا جارہا ہے۔ دوسری طرف فضل الرحمن نے قاضی حسین احمد اور چوہدری شجاعت سے ملاقاتیں کی ہیں۔ گزشتہ روز وفاقی وزیر مذہبی امور ومحنت سید خورشید احمد شاہ مولانا فضل الرحمن سے مذاکرات کیلئے ان کی رہائش گاہ پر پہنچے تو دونوں کے درمیان دلچسپ جملہ بازی ہوئی۔ سید خورشید شاہ کے ہمراہ صدر کے مشیر ڈاکٹر قیوم سومرواور سنیٹر سردار علی بھی موجود تھے۔ سید خورشید شاہ نے مولانا فضل الرحمن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے تو حکومت کو مشکل میں ڈال دیا ہے آپ کے بغیر ہم نہیں چل سکتے اور نہ ہی جمہوریت چل سکتی ہے لہٰذا آپ اپنا فیصلہ واپس لیں اور ہماری بات مان لیں جس پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جے یوآئی نے بہت بدنامی مول لی اور پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا اب ہم نے اٹل فیصلہ کیا ہے کہ حکومت میں واپس نہیں جائیں گے آپ کو اچھی چائے پلائیں گے اور جب آپ بھی چائے پر بلائیں گے تو پینے ضرور آﺅں گا ویسے میں سیدوں کا بہت احترام کرتا ہوں اور آپ کا ذاتی احترام ہے اس لئے ملاقات پر آمادگی ظاہر کی۔ اس کے بعد دونوں رہنماﺅں کے درمیان علیحدگی میں بات چیت شروع ہوئی اور خورشید شاہ نے صدرآصف علی زرداری اور وزیراعظم گیلانی کی طرف سے مولانا فضل الرحمن کو ایک اہم پیغام پہنچایا اور ان سے کہا کہ آپ اپنے مطالبات سے آگاہ کریں پھر آپ کی صدر اور وزیراعظم سے ملاقات ہوگی جس میں حتمی معاملات طے ہوجائیں گے۔ اس بات چیت میں بعدازاں جے یوآئی کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری برطرف وزیراعظم سواتی اور مولانا کفایت اللہ بھی شریک ہوگئے جب کہ حکومت کی طرف سے ڈاکٹر قیوم سومرو اور سینیٹر سردارعلی نے وفاقی وزیر خورشید شاہ کی معاونت کی۔ جبکہ دوسری طرف وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے مسلم لیگ ہم خیال کے صدر سینیٹر سلیم سیف اللہ کو ٹیلی فون کیااور ملک کی سیاسی صورت حال، ریفارمڈ جی ایس ٹی بل سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا ،وزیر اعظم ہاﺅس ذرائع کے مطابق ٹیلی فونک رابطے کے دوران یوسف رضا گیلانی نے سیاسی صورت حال کے حوالے سے سلیم سیف اللہ سے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا اور انہیںملاقات کے لئے بھی وزیر اعظم ہاﺅس مدعو کیا۔ سلیم سیف اللہ وفاقی کابینہ کے دو وزراءکو برطرف کرنے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کو پہلے ہی یہ فیصلہ کر لینا چاہیے تھا جبکہ انہوں نے ملک میں جمہوری نظام کو غیر مستحکم کرنے کے لئے کسی غیر آئینی اقدام کا حصہ نہ بننے کی بھی وزیر اعظم کو یقین دہانی کرائی،اس ضمن میں آن لائن کے رابطہ کرنے پر سلیم سیف اللہ نے تصدیق کی کہ ان کا وزیر اعظم سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے ،انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن ایک سمجھدار سیاستدان ہیں اور امید ہے کہ وہ حالات اور موجودہ صورت حال کو سمجھتے ہوئے اپنا فیصلہ واپس لیں گے ،انہوں نے کہا کہ ایک وزارت کے لئے پورے ملک اور جمہوریت کو داﺅ پر لگانادرست نہیں ہے جبکہ مسلم لیگ ہم خیال کسی غیر آئینی اقدام کا حصہ نہیں بنے گی۔ مولانا فضل الرحمن کی اسلام آباد میں مذہبی جماعتوں کی کل جماعتی کانفرنس میں مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد سے اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ چوہدری شجاعت حسین اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان ملاقات میں ملک کی تازہ ترین سیاسی صورتحال پر اہم تبادلہ خیال ہوا۔ ملاقات کے بعد چوہدری شجاعت حسین نے میڈیا کو بتایا کہ مولانا فضل الرحمن نے انہیں بتایا ہے کہ اب ان کے دروازے حکومت کیلئے بند ہوچکے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم نے کئی اہم امور پر بات چیت کی ہے۔ مولانا فضل الرحمن اور قاضی حسین احمد کے درمیان بھی اس موقع پر اہم ملاقات ہوئی اور دونوں رہنماﺅں نے تبدیل ہوتی ہوئی سیاسی صورتحال میں متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کی بحالی پر اہم تبادلہ خیال کیا اور دونوں جماعتوں کے قریبی ذرائع کے مطابق ایم ایم اے کی بحالی کے حوالے سے جلد مثبت پیش رفت متوقع ہے۔ ادھر سلیم سیف اللہ خان کے ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم کی دعوت کا جائزہ لینے کیلئے پارٹی رہنماﺅں کا مشاورتی اجلاس لاہور میں بلایا ہے۔
کراچی (نمائندہ جنگ)متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت سے کہا ہے کہ وہ 10 دن میں صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کے بیان کی وضاحت کرے، ذوالفقار مرزا کا بیان سندھ کے مستقل باشندوں میں نفرت پیدا کرنے اور صوبے کو تقسیم کرنے کی سازش ہے، جسے ایم کیو ایم کامیاب نہیں ہونے دیگی، حکومت اتحادیوں کے ساتھ غیر مناسب رویہ ختم کرے۔ تفصیلات کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی پاکستان اور لندن کے ارکان کا مشترکہ اہم اجلاس ہو ۔ جس میں ملک کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال، وفاقی حکومت سے جمعیت علمائے اسلام کی علیحدگی کے فیصلے ، اتحادی جماعت ہونے کے باوجود ایم کیوایم کے ساتھ حکمراں جماعت کے رویئے، صوبائی وزیرداخلہ ذوالفقار مرزا کی متعصبانہ اور اشتعال انگیز تقریراور محرم الحرام میں قیام امن اوراتحاد بین المسلمین کیلئے ایم کیوایم کے اقدامات پر تفصیلی غوروخوض کیا گیااورمستقبل میں ایم کیوایم کا لائحہ عمل ترتیب دیا گیا۔ اجلاس میںاس بات پر زوردیا گیا کہ ایم کیوایم جمہوری جماعت ہے جو سیاسی اختلافات کو افہام وتفہیم سے حل کرنے پر یقین رکھتی ہے ۔ایم کیوایم سیاسی فیصلے جذبات کی بنیاد پر نہیں کرتی بلکہ ملک کے وسیع ترمفاد، عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق کرتی رہی ہے ۔ایم کیوایم سمجھتی ہے کہ اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلاف رائے جمہوریت کا حصہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایم کیوایم نے حکومت میں شامل ہونے کے باوجود عوامی خواہشات اور امنگوں کے برخلاف کئے جانے والے کسی بھی حکومتی اقدام کی حمایت نہیں کی۔ اجلاس میں صوبائی وزیرداخلہ ذوالفقار مرزا کی جانب سے ایم کیوایم کے خلاف بلاجواز اشتعال انگیز تقریر، من گھڑت اور جھوٹے الزامات اور متعصبانہ خیالات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی۔ اجلاس میںاس بات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا گیا کہ اگرایم کیوایم کےخلاف صوبائی وزیرداخلہ کی اشتعال انگیز تقریرحکمراں جماعت کی پالیسی نہیں ہے توآج تک صدر مملکت اور وزیراعظم کی جانب سے اپنی اتحادی جماعت کے خلاف متعصبانہ اور اشتعال انگیز تقریر کا نوٹس کیوں نہیں لیا گیا اوراس بلاجوا ز اشتعال انگیزی کی وضاحت کیوں نہیں کی گئی؟اجلاس میں متفقہ طورپر پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت اور سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی سے کہا گیا کہ وہ دس دن کے اندراندر صوبائی وزیرداخلہ کی تقریر کی وضاحت کرے۔ بصورت دیگر متحدہ قومی موومنٹ ،ملک بھر میں اپنے ذمہ داران ، کارکنان اور عوام سے حکومت میں شامل رہنے یا علیحدہ ہونے کے بارے میں رائے لیکر اپنامستقبل کا لائحہ عمل مرتب کرنے میں آزاد ہوگی۔اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے وفاقی حکومت سے علیحدگی کو جے یوآئی کا جمہوری حق قرار دیتے ہوئے کہاگیا کہ حکومت اتحادی جماعتوں کے ساتھ اتحادیوں جیسا سلوک کرے اور جمہوریت کے بہتر مستقبل کیلئے اتحادی جماعتوں میں پائے جانے والے تحفظات دورکرے ۔اجلاس میں متفقہ طورپر طے کیا گیا کہ محرم الحرام کے دوران امن وامان کا قیام ایم کیوایم کی اولین ترجیح ہے اورایم کیوایم اتحاد بین المسلمین ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قیام امن کیلئے اپناکرداراداکرتی رہے گی۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی