حج کرپشن کیس: وزیراعظم کے بیٹے سے پوچھ گچھ اور سابق وزیرمذہبی امور کے خلاف کارروائی کی جائے، سپریم کورٹ
وارنٹ اسلام آباد کے سےنئر سول جج اسلم گوندل کی عدالت نے جاری کئے ،گرفتاری عمل میں نہیں آئی،احمد فیض کے دوسری بار وارنٹ جاری ،کروڑوں کی کرپشن کرنےوالے گرفتار نہیں ہو رہے،چیف جسٹس افتخار چوہدری
اب وقت آ گیا ہے صاحب اختیارلوگ فیصلہ کریں،ملک کس طرح چلاناہے،جسٹس رمدے،کنٹریکٹ پر بھرتی کئے گئے افسران کی فہرست طلب ، حامد سعید کاظمی نے تین سال تک اپنے اثاثے الیکشن کمیشن سے چھپائے، وکیل
اسلام آباد (خصوصی نامہ نگار، ثناء نیوز) حج کرپشن کیس میںوفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف آئی اے نے سابق وفاقی وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی کے وارنٹ گرفتاری عدالت سے جاری کرائے ہیں۔ یہ وارنٹ گرفتاری اسلام آباد کے سینئر سول جج اسلم گوندل کی عدالت نے جاری کئے ہیں۔ وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد ایف آئی اے کی ٹیمیں سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی کی گرفتاری کےلئے چھاپے مار رہی ہیں اور مختلف چھاپوں کے دوران ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ عدالت نے فیض احمد کے دوسری بار ریڈ وارنٹ جاری کردیئے۔ ایف آئی اے کی ٹیم نے سابق وفاقی وزیر کے گھر پر بھی چھاپہ مارا تاہم حامد سعید کاظمی گھر سے پہلے فرار ہوچکے تھے۔ نجی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا کہ حامد کاظمی سے رابطہ کیا گیا تو وہ بڑے پریشان تھے تاہم انہوں نے اپنی موجودگی کے بارے میں کچھ بتانے سے گریز کیا کہ وہ اس وقت کہاں ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی کی گرفتاری کے لئے ملتان اور اسلا م آباد میں مختلف مقامات پر تین چھاپے مارے ہیں اور ان چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے تاکہ سابق وفاقی وزیر کو حج کرپشن سکینڈل میں گرفتاری کو یقینی بنایا جاسکے نجی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک نے حامد سعید کاظمی کے وارنٹ گرفتاری حاصل کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومتی جماعت کے رکن کے خلاف وارنٹ گرفتاری کیوں حاصل کئے گئے۔ برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق عدالت نے حج انتظامات میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کے مقدمے میں سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کردیئے ہیں۔ وفاقی تحقیقاتی ادارہ یعنی ایف آئی اے کی ٹیم ملزم کی گرفتاری کے لئے چھاپے مار رہی ہے۔
اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) سپریم کورٹ نے حج کرپشن کیس کی سماعت کے دوران حاجیوں کو 750 ریال فی کس رقم ادا کرنے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ حج کرپشن کیس کی تحقیقاتی رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر عدالت عظمیٰ میں جمع کرائی جائے۔ سابق وفاقی وزیر بظاہر فوجداری جرم کے مرتکب ہوئے ہیں ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہئے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ حکومت کم تعلیم یافتہ لوگوں کو لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ پر ملازم رکھ رہی ہے۔ کروڑوں کی کرپشن کرنے والے گرفتار نہیں ہو رہے۔ غریب آدمی کو تو رات کو نیند سے اٹھا کر گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ عام آدمی کو فوراً ہتھکڑی لگا دی جاتی ہے جبکہ کروڑوں کی کرپشن کرنے والوں کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا۔ سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا ہے کہ 152 کنٹریکٹ افسران میں سے وفاق کی جانب سے مقرر کردہ 15 کو فارغ نہیں کیا گیا۔ سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا ہے کہ 152 کنٹریکٹ افسران میں سے وفاق کی جانب سے مقرر کردہ 15 کو فارغ کرنے کی سفارش وزیراعظم کو بھیج دی گئی ہے جن میں آئی جی سندھ صلاح الدین بابر خٹک اور ڈی جی ایف آئی اے وسیم احمد کے نام بھی شامل ہیں۔ جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے کہا کہ اگر کوئی ملزم ہے تو وہ چاہے کسی کا بیٹا ہو یا باپ، رعایت کا مستحق نہیں ہے۔ حج کرپشن کیس کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 8رکنی لارجر بنچ نے کی۔ سماعت کے دوران سیکرٹری مذہبی امور شوکت حیات درانی نے عدالت کو بتایا کہ 95 فیصد حاجیوں کو 750 ریال فی کس کے حساب سے معاوضہ ادا کر دیا گیا ہے۔ حج کرپشن کیس کی تحقیقات کرنے والے ڈائریکٹر ایف آئی اے حسین اصغر نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی کے خلاف اس کرپشن میں ملوث ہونے کے ثبوت مل گئے ہیں اور ان کی گرفتاری کے وارنٹ حاصل کئے جا رہے ہیں جس پر عدالت نے قرار دیا کہ سابق وفاقی وزیر بظاہر فوجداری جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہئے۔ حسین اصغر نے عدالت کو بتایا کہ حج کرپشن میں ملوث مرکزی ملزم احمد فیض کی گرفتاری کے لئے ایف آئی اے کی ٹیم سعودی عرب گئی تھی جہاں احمد فیض کا بیٹا اور اس کا بھائی موجود تھے۔ تاہم وہ خود نہیں ملے اور سعودی حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ احمد فیض کو گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کرینگے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عام آدمی کو تو آدھی رات کو نیند سے اٹھا کر بھی کیا جاتا ہے۔ وزیراعظم کے بیٹے سے بھی پوچھ گچھ کی جائے۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے جاوید بخاری نے عدالت کو بتایا کہ زین سکھیرا کے پاس ایل ایل ایم کی ڈگری نہیں ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جب اس کے پاس ڈگری نہیں تھی تو کنسلٹنٹ کیسے لگ گیا۔ اس کے خلاف مس کنڈکٹ کی کارروائی ہونی چاہئے۔ بغیر تعلیم کے حکومت لوگوں کو ایک ایک لاکھ روپے پر ملازم رکھ رہی ہے۔ چیف جسٹس نے جاوید بخاری سے کہا کہ آپ بتائیں کہ آپ کہاں کارروائی کرنے سے قاصر ہیں تاکہ آپ کی جگہ کسی اور کو وہاں ذمہ داری سونپی جائے۔ زین سکھیرا کو نوازنے کے لئے قوانین میں ترامیم کرنے والے سیکرٹری نجیب اللہ کے بارے میں عدالت نے پوچھا تو جاوید بخاری نے عدالت کو بتایا کہ سیکرٹری نجیب اللہ ریٹائر ہو چکے ہیں اور اب پبلک سروس کمیشن کے رکن ہیں۔ اس پر جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ حوصلہ کریں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عزت ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ہم عدالت ہیں کوئی تفتیشی افسر نہیں کہ ایف آئی اے کو تحقیقات کے طریقے بتائیں۔ جاوید بخاری نے کہا کہ زین سکھیرا نے کنلسٹنٹ کے طور پر لی گئی تنخواہوں اور مراعات واپس کرنے کا بیان دیا ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ پیسے واپس کر کے احسان نہیں کرے گا۔ چیف جسٹس نے ایف آئی اے حکام سے پوچھا کہ حامد سعید کاظمی سے ان کے ذرائع آمدن کے بارے میں کیوں پوچھا نہیں گیا جس پر ایف آئی اے کی جانب سے بتایا گیا کہ حامد سعید کاظمی کے نام 66 کنال اراضی ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ زمین ان کے ایک مرید نے دی ہے انہیں 80 ہزار تنخواہ ملتی تھی اور ایک مدرسہ بھی چلاتے تھے۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ مدرسہ ذریعہ آمدن نہیں ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ جب حامد سعید کاظمی پر قاتلانہ حملہ ہوا کہیں وہ بھی اسی طرح کے لین دین کا سلسلہ تو نہیں تھا۔ اس موقع پر اعظم سواتی کے وکیل افنان کریم کنڈی نے عدالت کو بتایا کہ حامد سعید کاظمی نے تین سال تک اپنے اثاثے الیکشن کمیشن سے بھی چھپائے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اثاثے چھپانا بھی ایک الگ جرم ہے۔ ایف آئی اے کے تفتیشی افسر حسین اصغر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم احمد فیض جدہ میں روپوش ہے اور ان کی فیملی بھی غیرقانونی طور پر جدہ میں رہ رہی ہے جو ویزہ انہوں نے حاصل کیا تھا وہ ختم ہو چکا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پھر سعودی حکومت انہیں واپس کیوں نہیں بھیج رہی۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ اس حوالے سے قانونی تقاضے پورے کئے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر عدالت نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو کنٹریکٹ پر دوبارہ تعینات کئے گئے افسران کی فہرست سمیت عدالت میں طلب کیا۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ملک بھر میں ایک سو ستاون افسران کو ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا تھا۔ وفاق کی جانب سے مقرر کردہ پندرہ افسران کو ہٹانے کیلئے مجاز اتھارٹی کو سفاراشت بھجوائی گئی ہیں جن میں تین وفاقی سیکرٹری اور ایک ایڈیشنل سیکرٹری بھی شامل ہیں۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ وزارت انسانی حقوق کے سیکرٹری جسٹس ریٹائرڈ ریاض کیانی کو کس استعداد پر دوبارہ بھرتی کیا گیا ہے۔ آپ بااثر لوگوں کو کیوں نہیں نکالتے۔ سیکرٹری بننے والے ریٹائرڈ جرنیلوں کا انتظامی تجربہ کیا ہے۔ ان لوگوں سے پی آئی اے کے ملازمین کی ہڑتال کا معاملہ سنبھالا نہیں جا رہا۔ اس موقع پر جسٹس سائر علی نے کہا کہ کنٹریکٹ ملازمین کی تعیناتی کے حوالے سے کچھ شرائط موجود ہیں اگر کوئی ان شرائط پر پورا اترتا ہے تو اس کو تعینات کیا جا سکتا ہے۔ اس دوران خیبرپختونخوا کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ صوبے کے تمام 9 کنٹریکٹ ملازمین کو فارغ کر دیا گیا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ پنجاب کے 9 کنٹریکٹ افسران کو اور سندھ کے 43 افسران کو بھی فارغ کر دیا گیا ہے۔ عدالت نے روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے مقدمہ کی مزید سماعت پندرہ فروری تک ملتوی کر دی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم کے بیٹے عبدالقادر گیلانی سے بھی پوچھ گچھ کریں کہ پیسہ کہاں سے آیا اور مہنگی گاڑی کیسے خریدی جبکہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ غریبوں کو پکڑ لیتے ہیں جبکہ چوروں کو تحفظ دیتے ہیں۔ اٹارنی جنرل صاحب آپ وزیراعظم سے پوچھیں کہ کرنا کیا چاہتے ہیں۔ ہم جس معاملے کو اٹھاتے ہیں اس میں کوئی نہ کوئی مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ صاحب اختیار لوک فیصلہ کریں کہ ملک کو کس طرح چلانا ہے۔ اگر چور بازاری کرنی ہے تو بھی ہمیں بتائیں کہ آپ کا زور لگانا بے کار ہے۔ فاضل عدالت نے مزید سماعت ملتوی کر دی۔ برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی کرنے والے ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل جاوید بخاری نے عدالت کو بتایا کہ سابق وفاقی وزیر کے تین بینک اکاونٹس کا پتہ چلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اکاونٹ میں ایک کروڑ چودہ لاکھ روپے، دوسرے اکاونٹ میں اسی لاکھ روپے جبکہ تیسرے اکاونٹ میں ساٹھ ہزار پاونڈ سٹرلنگ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ان کے پاس چھیاسٹھ کنال کا ایک پلاٹ بھی ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی