حج سکینڈل وزیراعظم نے وفاقی وزیرحامد کاظمی اور اعظم سواتی کو برطرف کردیا، سیکرٹری مذہبی امور بھی تبدیل
خورشید شاہ، سردار آصف، شہاب الدین اور آفتاب جیلانی کو وزارتوں کے اضافی چارج دیدیئے گئے، مرتبہ کرپشن میں ملوث وزیر کی نشاندہی کرنےوالے وزیر کو بھی برطرف کر دیا گیا، کابینہ میں مزید ردوبدل کا امکان
حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ جے یو آئی کی پارلیمانی پارٹی کے ہنگامی اجلاس میں ہوا، رحمت کاکڑ اور عطاءالرحمن مستعفی، پیپلز پارٹی سے مفاہمت ختم ہوگئی، فیصلہ حتمی ہے، فضل الرحمن، صدر وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے فون پر بات کرنے سے انکار
اسلام آباد (نیوز رپورٹر) وفاقی وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی اور وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی اعظم سواتی کے درمیان بیان بازی کا بالآخر ڈراپ سین ہوگیا ہے اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ناخوشگوار صورتحال سے تنگ آکر دونوں کو کابینہ سے نکال دیا ہے۔ منگل کے روز حامد سعید کاظمی اور اعظم سواتی کو وزارت سے برطرف کردیا گیا۔ وفاقی وزیر محنت وافرادی قوت سید خورشید شاہ کو وفاقی وزیر برائے مذہبی امور لگایا گیا ہے جبکہ وزارت محنت وافرادی قوت کا اضافی چارج بھی انکے پاس رہے گا۔ وفاقی وزیر تعلیم سردار آصف احمد علی کو وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی مقرر کرکے انہیں وزارت تعلیم کا اضافی قلمدان سونپا گیا ہے۔ وفاقی وزیر محنت شہاب الدین کو وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار مقرر کیا گیا ہے۔ وزیر ثقافت آفتاب شاہ جیلانی کو وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کا اضافی چارج دیدیا گیا اور وزارت صحت کا اضافی چارج اُن کے پاس رہےگا۔ تعلیم اور صحت کی وزارتیں ویسے ہی فروری کے پہلے ہفتے میں تحلیل ہوکر صوبوں کو منتقل ہوجائیں گی۔ اس طرح وزارت صحت وتعلیم اکاموڈیٹ ہوگئے ہیں۔ سیکرٹری مذہبی امور آغا سرور رضا قزلباش کو او ایس ڈی بنادیا گیا ہے اور انکی جگہ سیکرٹری اوورسیز پاکستانیز ڈویژن سعید احمد خان کو نیا سیکرٹری مذہبی امور تعینات کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے حج کرپشن کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے تھے کہ اگر وفاقی وزیر مذہبی امور اور سیکرٹری مذہبی امور اپنے عہدوں پر تعینات ہیں تو شفاف تحقیقات کیسے ہوگی، چنانچہ وزیراعظم نے وزیر مذہبی امور اور سیکرٹری مذہبی امور کو تو فارغ کرکے سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل درآمد کردیا تاہم وزیر سائنس وٹیکنالوجی اعظم سواتی کو فارغ کرکے جے یو آئی کو آر جی ایس ٹی بل کی مخالفت کرنے کی سزا دی گئی۔ یہ پہلا کیس ہے جس میں کرپشن میں ملوث وزیر کے ساتھ نشاندہی کرنے والا وزیر بھی ساتھ ہی فارغ کیا گیا اور یہ پیغام دیا گیا کہ آئندہ کوئی کرپشن کی نشاندہی کرنے کی جرا¿ت نہ کرے۔ جبکہ این این آئی کے مطابق سال 2010 ءکے حج میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی شکایات کے بعد دونوں وفاقی وزراءکے درمیان نہ صرف شدید بیان بازی شروع ہوئی بلکہ وہ ایک دوسرے کے خلاف سپریم کورٹ میں بھی نبردآزماہوگئے تھے۔ وزیراعظم نے ان دونوں برطرف وفاقی وزراءکو ہدایات کی تھی کہ وہ ایک دوسرے کےخلاف بیان بازی بند کردیںاور مل بیٹھ کر معاملات طے کئے جائیں لیکن دونوں وزراءنے ان ہدایات کو مکمل طور پر نظرانداز کرتے ہوئے نہ صرف ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کا سلسلہ جاری رکھا بلکہ میڈیا کو بھی ایک دوسرے کی خفیہ اطلاعات فراہم کرتے رہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی کابینہ میں مزید ردوبدل کا امکان ہے۔ واضح رہے کہ برطرف وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی کا تعلق جمعیت علماءاسلام (ف) اور سید حامد سعید کاظمی کا تعلق جے یو پی سے ہے اور وہ پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر رحیم یار خان سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ثناءنیوز کے مطابق وزیراعظم نے اس اہم فیصلے کے بارے میں صدر مملکت کو بھی اعتماد میں لیا ہے ۔ برطرف سیکرٹری مذہبی امور آغا سرور قزلباش کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو رپورٹ کریں ۔ ذرائع کے مطابق ان اہم فیصلوں کے بارے میں صدر مملکت آصف علی زرداری کو اعتماد میں لیا گیاہے ان سے مشاورت کے بعد یہ اہم فیصلے کیے گئے ہیں ۔
اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی ¾ آن لائن ¾ ثناءنیوز) حکمران اتحاد میں دراڑ پڑ گئی۔ منگل کو جے یو آئی کی حکومت سے علیحدگی کے بعد ایم کیو ایم نے بھی تازہ ترین سیاسی صورتحال حکومت رویئے اور اپنے تحفظات پر غور اور مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کیلئے پاکستان اور لندن میں رابطہ کمیٹی کے ارکان کا مشترکہ اجلاس بدھ کو بیک وقت طلب کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے حج کرپشن سکینڈل کے حوالے سے وفاقی وزیرمذہبی امور حامد سعیدکاظمی کے ساتھ ان کے خلاف کرپشن کے ثبوت پیش کرنے اور نشاندہی کرنے والے وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی کی برطرفی پر جمعیت علماءاسلام (ف) نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کردیا جس کے بعد وفاقی وزیر برائے ہاﺅسنگ اینڈ ورکس رحمت اللہ کاکڑ اور وفاقی وزیر سیاحت عطاءالرحمان بھی مستعفی ہوگئے ہیں۔ اعظم سواتی کی برطرفی کے بعد مولانا فضل الرحمان نے جے یو آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کیا جس میں پیدا ہونے والی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا رویہ انتہائی نامناسب ہے اعظم سواتی کو برطرف کرنے کے حوالے سے وزیراعظم نے مجھے اعتماد میں نہیں لیا اور اس رویے کے باعث اب ہم مزید حکومت کے ساتھ نہیں چل سکتے جے یو آئی سے تعلق رکھنے والے دو وزراءفوری طور پر مستعفی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ پارلیمانی پارٹی نے مشترکہ طورپر کیا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت ہم مفاہمت کی پالیسی پر کاربند تھے لیکن پیپلز پارٹی خود ہی مفاہمت کی پالیسی سے دستبردار ہوگئی ہے جب مفاہمت ہی ختم ہوگئی تو حکومت میں رہنے کا کوئی جواز نہیں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی کے وزراءصرف وزارتوں سے استعفیٰ دے رہے ہیں جہاں تک قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ کا تعلق ہے تو ان پر ہمارے پارٹی کے اراکین چیئرمین رہینگے کیونکہ ان کا انتخاب قائمہ کمیٹی کے اراکین ہی کرتے ہیں اور وہی ان کے مستقبل کے فیصلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ مولانا شیرانی کی بطور چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل تعیناتی کا تعلق ہے تو وہ ایک آئینی عہدہ ہے مولانا شیرانی اپنے عہدے پر فائز رہیں گے انہوں نے کہا کہ اعظم سواتی کا صرف قصور یہ تھا کہ انہوں نے وزیراعظم کو حج کے معاملے پر کرپشن کے حوالے سے آگاہ کیا تھا وزیراعظم نے اس پر کسی اور کیخلاف کارروائی کرنے کی بجائے اعظم سواتی کو ہی برطرف کردیا۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین نے ناموس رسالت قانون کیخلاف پارلیمنٹ میں بل پیش کیا اور گورنرپنجاب نے بھی ناموس رسالت کا مذاق اڑایا یہ باتیں ہمارے لئے ناقابل قبول ہیں ۔ آر جی ایس ٹی بل کی قومی اسمبلی سے منظوری کی بھرپور مخالفت کرینگے اس کیخلاف ووٹ دینگے۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے مولانا فضل الرحمن سے ٹیلی فون پر بات چیت کی کوشش کی۔ مولانا فضل الرحمن نے معذرت کرلی جس پر ایوان صدر کے خصوصی ایلچی ڈاکٹر قیوم سومرو خصوصی پیغام لے کر مولانا فضل الرحمن کے پاس پہنچے ان کی جانب سے اس یقین کا اظہار کیا گیا ہے کہ حکومت مولانا فضل الرحمن کو منانے میں کامیاب ہوجائے گی۔ ان کی کوشش کے باوجود بھی مولانا فضل الرحمن نے صدر وزیراعظم سے بات کرنے سے انکار کردیا۔ ڈاکٹر قیوم سومرو نے مولانا فضل الرحمن سے کہا کہ آپ اپنے مطالبات ویسے بھی منواسکتے تھے لیکن حکومت سے علیحدگی کا اعلان کرکے آپ نے تو صدر اور وزیراعظم کی دوڑیں لگوادیں ہیں اس پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ حتمی ہے۔ دریں اثناءجے یو آئی کے سربراہ سے صدر اور وزیراعظم کے بعد وزیر داخلہ رحمن ملک نے بھی فون پر رابطو کی باربار کوشش کی لیکن مولانا فضل الرحمن نے رحمن ملک سے فون پر بات کرنے سے انکار کردیا۔ ذرائع کے مطابقجمعیت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والے دو وفاقی وزراءرحمت اﷲ کاکڑ اور مولانا عطاءالرحمن کے استعفیٰ بذریعہ فیکس ایوانِ صدر اور وزیراعظم ہاﺅس بھیجے گئے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ 20دسمبر کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمن سمیت جے یو آئی کے تمام ارکان اپوزیشن کی نشستوں پر بیٹھیں گے۔ اس کے لئے قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو عاشورہ کے فوراً بعد درخواست دے دی جائے گی۔ جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سے مولانا شیرانی کی تقرری صدارتی نوٹیفیکیشن کے ذریعے ہوئی تھی وہ غیر سیاسی منصب ہے۔ تاہم ان کی تقرری کرنے والے اگر ان سے یہ ذمہ داری واپس لینا چاہیں تو شوق سے لیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حکومت سے علیحدگی کے بعد ہمارے پاس آپشن کھلے ہیں۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی